محمدیوسف رحیم بیدری، بیدرکرناٹک
تعریف ِ خالص خدائے واحدو لاشریک کے لئے ہے۔ جس نے قلم کے ذریعہ سے علم دیا اوردنیاجہاں کو و ہ باتیں سکھائیں جودنیا نہیں جانتی تھی۔قلم کے شہسواربھائیو اور بہنو !نیا سال تمہارے سامنے آکھڑاہے اور اس ایک سال(2026ء ) میں اپنی ادبی سرگرمیوں کے نئے اور روشن ترین ستارے ٹانکناتمام اردو ادیبوں کا فریضہ ہے۔
مقامی سطح پر :۔٭مقامی ادیبوں سے روابط بہتر ہوتے ہیں بہ نسبت دور دراز کے ادیبوں سے ملاقات کے۔مقامی ادیب ہی دراصل بنیادی پہچان ہوتے ہیں ۔ان کی فکری ، علمی اور ادبی ترقی کے لئے شاعر وادیب ، ناول نگار، افسانہ نویس اور افسانچہ نگار کام کرناچاہیے۔ اور خود کو ان کے نقد کے سامنے رکھ کر دیکھنا چاہیے۔ ٭مقامی طورپرکیاجانے والا آپ کاکام آپ کی شناخت کو مضبوط بنائے گا۔ پڑوس کی گواہی اہم ترین گواہی ہوتی ہے۔ مقامی قلمکاروں کے ساتھ آپ کامضبوط ؍ڈھیلا تعلق آپ کے حق میں ؍یاخلاف گواہ بنے گا۔ ٭اپنے سے سینئر کی عزت کریں ۔ ان سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی جانب سے اپنی اور دوسروں کی کتابوں کی اشاعت کے لئے کوشاں رہیںکیوں کہ علم کتابوں کے ذریعہ پھیلتاہے (دیگر ذرائع سے انکارنہیں کیاجارہاہے)٭اگر آپ کے مزاج میں سوشیل میڈیائی جرثومے ہیں تو سوشیل میڈیا پر Creativeادبی کام انجام دیں۔ مقامی شعراء اور ادباء کومتعارف کروانے کے لئے وقت نکالیں۔ دنیا ڈیجیٹل ولیج بن چکی ہے ایسے میں جو زبان ، یااس زبان کاادب انٹرنیٹ پر ہوگا وہی تادیر زندہ رہ سکتاہے۔ ٭اِمسال مقامی قلمکاروں کی ڈیجیٹل لائبریری ترتیب دیجئے گا ٭مقامی ادیبوں کے اپنے گھر کھانے پر مدعو کریں۔دیگر خاندانی تقریبات میں بھی شرکت کی دعوت دی جائے۔ ٭ریاستی زبانوں کو سیکھیں تاکہ ان کے ہاں موجود ادبی لٹریچر سے واقف ہواجاسکے۔ ٭قلمکار اپنی صحت پر توجہ دیاکریں اور اپنی فیملی پر بھی ۔
ریاستی سطح پر :۔ ریاستی سطح پرار دو زبان کے 10؍بڑے نام کی نشاند ہی کرکے ان سے وقتاً فوقتاً بات چیت کیجئے گا۔ کسی بھی موضوع پر ان سے رجوع کرکے ان کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہے۔ (۲) بڑے نام سے دوری بنائے رکھنا یاسیت اور قنوطیت کے سبب ہوتا ہے ، اس سے قلمکار بچیں (۳)ریاستی سطح کے اخبارورسائل میں ہماری تخلیقات شائع ہونی چاہیے۔ اس کے لئے تگ ودو ضروری ہے۔(۴) اخبارورسائل کے مدیران سے دوستی ہونی چاہیے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو صحافت کے ذریعہ ملک وسماج ہی نہیں ادب کی بے انتہا خدمت کررہے ہیں لیکن ان کی خدمات عوام کو نظر نہیں آتی ہیں۔
ملکی سطح پر :۔ ملکی سطح پر 40شخصیات سے آپ رابطہ میں اگر ہوں گے تو اس کو ایک معیاری چیز سمجھ لیجئے گا۔ آج کل ای میل اور فون نمبر اخبارورسائل اور سوشیل میڈیا کے ذریعہ بآسانی مل جاتے ہیں۔ ٭تاہم یہ خیال رکھیں کہ بہت سے ادیب نئے افراد سے رابطہ رکھنا نہیں چاہتے ، ان کے اس عمل کابر انہ مانیں۔٭کوشش کریں کہ ملکی سطح کے سمی ناروں میں اپنی شرکت ہو۔٭ملکی سطح کے ادبی رسائل میں تخلیقات شائع ہوں ۔ پوڈکاسٹ میں شرکت کے ذریعہ اپناکام ملکی سطح پر متعارف کروائیں٭ریختہ اور دیگر ویب سائٹ پر آپ کاکلام پڑھنے کومل سکے ۔ اس کی بھی کوشش ہونی چاہیے۔
عالمی سطح پر :۔ دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے۔ کون کہاں ہے ، کیاکررہاہے ، ویڈیو کالنگ ، زوم اور دیگر ایپس کے ذریعہ دیکھ سکتے ہیں۔ ایسے میں عالمی سطح پر ہونے والے ادبی پروگرامس میں ویڈیولنکس کے ذریعہ شرکت کو یقینی بنائیں لیکن یہ سرگرمی صرف ادب تک محدود ہو، دیگر غیرضروری مباحث سے بچیں۔ امن عالم کے لئے اسلام کی ضرورت پر زور دیں۔ اگر بیرون ملک سفر کررہے ہیں تواس کا مختصر سفرنامہ لکھنے کی سعی کریں۔
مطالعہ خود پر لازم کرلیجئے گا:۔ مطالعہ ذہنی اور روحانی غذا ہے۔ مطالعہ کی بدولت ہی کوئی رائے قائم کی جاسکتی ہے۔ قرآن مجید ، احادیث مبارکہ ، سیرت ِ نبوی ﷺ ، سیرت صحابہ واولیاء اور دیگر کو معمول میں داخل کرلیں ۔ یہ مطالعہ انسان بن کر بھی ہوسکتاہے اور قلمکار کی حیثیت سے بھی ۔صرف اتنا ہی نہیں کوشش کریں کہ ہم جس ملک میں رہتے ہیں وہاں کے بھائیوں کی مذہبی کتب ، ان کے کلچر ، ان کی بڑی بڑی شخصیات سے مطالعہ کے ذریعہ واقف ہوسکیں۔ اگر ان سے متاثر ہورہے ہیں توکس اینگل سے (آپ یامعاشرہ) متاثر ہورہے ہیں ، اس کااظہار مضامین کے ذریعہ کریں۔
اسلام کی دعوت ادب کے ذریعہ :۔ اسلام ہی آپ کی شناخت بنے ، اس کی کوشش کریں۔ عافیت کے ساتھ اور عافیت کی دعاؤں کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے ان صحابہ کرام کے انداز میںکام کریں جولکھتے پڑھتے اور شعروادب سے شغف رکھتے تھے۔ انھیں پتہ تھاکہ ادب کو کس طرح اسلام کی دعوت کے لئے کام میںلایاجائے۔ نیااندازبھی اختیار کرسکتے ہیں۔
مظلوموں کاساتھ دیجئے :۔ کوئی بھی تبدیلی (سماجی ہوکہ سیاسی) قلمکاروں کے بغیرناممکن ہے۔ اگر آپ قلمکار ہیں تو مظلوموں کاساتھ دیجئے کہ قلمکار ہرظلم کے خلاف اپنامورچہ کھول دیتاہے۔ مایوس نہ ہوں۔ کشمکش کو زندگی کا حصہ سمجھیں۔ بغیرکشمکش کے اس زمین پر حیات ممکن نہیں ہے۔
زیر غور نکات :۔ ادیب وشاعر اور نقاد کے سامنے ہمیشہ یہ بات رہے کہ کیاپڑھاجائے اور کیالکھاجائے ؟یہ دو باتیں اِمسال(2026ء کو) زیرغور ہوں ، مسلسل اس پر کام کیاجائے۔ بہت سی چیزیں نہیں پڑھی جاسکتیں۔ زندگی میں وقت کم ہوتاہے اس لئے منتخبہ ادبی لڑیچر پڑھنا چاہیے اور منتخبہ امور پر لکھنا چاہیے۔ سبھی کچھ لے کر بیٹھیں گے تو خود بھی پریشان ہوں گے اور ادب پر بھی کوئی الزام رکھ کر اس سے الگ ہوجاناعین ممکن ہے ۔
یوم منانا:۔ ایک گروہ کا موقف ہے کہ یوم منانا بدعت ہے۔ اوکے ، اوربھی چیزیں بدعت ہیں جیسے ہوائی جہاز میںبیٹھ کر سفر کرنا ، ہوٹلوں میں کھانا پینالیکن یہ چیزیں بدعتِ حسنہ میں آتی ہیں۔ یوم ِ انسانی حقوق، یوم اردو ، یومِ غالب ،یوم ِ اساتذہ، یوم فلاں ابن فلاں منانا آج کل زوروں پرہے۔ ایک قلمکار سماج اور دنیا میںانجام دی جا رہیں ان چیزوں سے بے خبر نہیں رہ سکتا ۔ اس سے متاثر بھی ہوتاہے لیکن بحیثیت مسلمان قلمکار ہم اس طرف بھی دیکھیں کہ یومِ قرآن ، یوم نبوت ، ولادتِ نبوی ﷺ، یوم خلفائے راشدین، یوم ِ صحابہ و صحابیات پر اپنے قلم کو متحر ک کریں ،ادبی طورپریوم منائیں۔ یہ لکھنا لکھانا قرآن
مجید ، نبی ء کریم ﷺ، انبیائے کرام ، خلفائے راشدین ، صحابہ وصحابیات اور اولیائے کرام سے محبت پید اکرے گا۔اُخروی نجات کاضامن ہوگا۔
جنتری اور کیلنڈر کے ذریعہ ماہانہ پروگرام طئے کریں :۔ ادیب حضرات اپنے اپنے طورپر ادب کی خدمت کررہے ہیں ، کئی ایک ادیب انعامات واعزازات سے بھی سرفراز ہورہے ہیں ، جوازحد خوشی کی بات ہے لیکن منظم طورپر کام کرنے والے ادیب ، شعراء ، ناقدین اور نئے قلمکاروں سے گزارش ہے کہ وہ جنتری اور کیلنڈر کے مطابق بھی ادبی پروگرام طئے کرنے کی کوشش کریں(اس کو لازمی نہ کرلیں)۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ہم ایک پروگرام بنائے ہوئے ہیں لیکن اسی وقت کسی اور ادبی تنظیم کا پروگرام ہویا آپ کوبرادران وطن کی لسانی تنظیموں نے یاد کیاہو، ایسے میں آپ کے اپنے ادبی پروگرام سے دستبرداری ہوبھی سکتی ہے نہیں بھی ۔یہ وہاں کی ضرورت کے حساب سے ہوگا۔ تاہم بنیادی نکتہ یہی ہے کہ جنتری اور کیلنڈر کے ذریعہ ماہانہ پروگرام (اجتماعی وانفرادی دونوں) بنانے سے ذہن منظم ہوگا، اورادب کی خدمت منظم طورپر ہوگی۔ منظم اقوام اپناکام منظم طریقے سے ہی انجام دیتی ہیں اور کامیاب ہوتی ہیں۔ ادیبوں کی کامیابی بھی انتشار ، یاجوجی چاہے کرنے میں نہیں ہے لیکن اس کایہ مطلب نہیں ہے کہ آپ تخلیق کے کسی مرحلہ میں ہیں اور اس کو چھوڑ کر دیگر ادبی کام انجام دیں۔ تخلیقیت کو بہر حال اولیت حاصل ہے اور ہمیشہ رہے گی ۔ محنت ،محنت مزید محنت کی عادت ہی تخلیق کو پختہ اور مقبول بنائے گی۔
موضوعات :۔ ادیب کے موضوعات اللہ تعالیٰ طئے کرتاہے ۔ اور اس کے ذہن میں وقتاً فوقتاً ہدایات ڈال کر اپنے نازل کردہ موضوع پر اس سے کام لیتاہے۔ یہ اسلامی ادیبوں کاایمان ہے۔ اس کے علاوہ بھی انبیائی طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو پھیلانے کے لئے وہ منصوبہ سازی بھی کرتے تھے۔ لہٰذا ادیب اور شاعر کو بھی شعوری طورپر موضوعات کا انتخاب سال کے شروع میں ہی کرلینا چاہیے۔ مثلاً میں اِمسال درج ذیل چھ موضوعات پر ضرور لکھوں گا۔ (۱) اسلاموفوبیا کی سازش (۲) مسلم لڑکیوں اور خواتین کی دانستہ بے پردگی (۳) منشیات اور خودکشی جیسی لعنت سے انسانوں کابچاؤ (۴) محبت اساس معاشرہ ، والدین اور سینئر بزرگ ہمارے حقیقی رہنما (۵) مسلمان لڑکیوں کا الحاد اور ان کاارتداد (۶)غربت سے انسانوں کونکالنا ۔ ان چھ موضوعات پر شعوری طورپر مشق ِ سخن کی جائے یا مضامین لکھے جائیں ۔دوسرے موضوعات بھی اپنے طورپر منتخب کئے جاسکتے ہیں۔ کوئی اگر سائنس مزاج ادیب ہے تو وہ سائنس سے متعلق موضوعات پر لکھناچاہیے۔اگر کوئی مؤرخ ادیب ہے تو اس کے تاریخ سے متعلق موضوعات ادب میں زیربحث اور زیر تحریر ہوں گے۔
آخری بات:۔ فیصدی اضافہ اکیسویں صدی کاایک نمایاں ہدف مشن ہے ۔ حکومتیں ، این جی اوز اور باخبر عوام اپنے لئے ترقی کاہدف قبل ازوقت طئے کرتی ہیں۔ادیبوں ، شاعروں ، ناقدین ، خاکہ نگاروں ،سفرنامہ نگار، ناول نگاراور افسانہ وافسانچہ نویس اور نئے قلمکاروں کو بھی سال 2026ء کے لئے فیصدی ہدف طئے کرنا چاہیے اور یہ ہدف سبھی کے لئے علیحدہ ہوسکتا۔ خصوصاًلڑکیوں اور خواتین کے لئے علیحدہ اور نئے قلمکاروں کے لئے علیحدہ جب کہ بزرگ شعراء وادیبوں کے لئے علیحدہ ۔ کوشش کیجئے گاکہ ہماری ادبی ترقی کا فیصد اِمسال8%سے کم ہرگز نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے عزائم کو پورا کرنے کے لئے ہموار راستہ اور رہنمائی عطافرمائے۔ آمین ثم آمین
تصویر منسلک ہے
