ہمارے ملک میںبھی دیگر ممالک کی طرح آج کل ڈبیٹ کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے جو کافی گرم جوشی کے ساتھ منعقد کیا جارہا ہے،اکثر دیکھنے میں یہ بھی آرہا ہے کہ زبان کے ساتھ ہاتھ کا بھی استعمال ہورہا ہے جوبہت غلط طریقہ ہے ،یہ جہاں شرکاء کے لئے باعث عار ہے وہیں ہمارے ملک کے لئے بدنامی کا سبب ہے،صرف پانچ ہزار روپئے کو سرمایہ حیات سمجھ لینا بہت بڑی بھول ہے،اگر آپ کے اندر حاضر جوابی نہیں ہے تو قطعاً اس کا رخ نہ کریں کیونکہ اس سے فائدہ کے بجائے نقصان ہورہا ہے۔
دوسری طرف وہ احباب بھی ہیں جن کو مال کی لالچ نہیں بلکہ صحیح جواب دینے کے لئے شرکت کرتے ہیں اس لئے ان کو بھی ملک وملت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے جواب دینے کی کوشش کرنی چاہئے اور اپنے اکابر کے سوال وجواب سے سبق حاصل کرنا چاہئے مثال کے طور پر آج کل مسلم شرکاء سے یہ سوال کیاجاتا ہے کہ دیش پہلے ہے یامذہب؟ اس کا سب سے بہترین اور دل کو چھو لینے والا جواب حضرت مولانامحمود مدنی مدظلہ‘ نے دیا کہ ہماری دو آنکھیں ہیں ان میں سے کون پہلے ہے اور کون بعد میں؟ سوال کرنے والامبہوت ہوکررہ گیا، اس لئے ہمارے شرکاء کو اس قسم کا جواب دینے کے لئے اپنے آپ کو تیار رکھنا چاہئے اور اگر حاضر جوابی اور پوری تیاری نہیں ہے تو قطعاً ڈبیٹ میں شرکت نہ کریں تا کہ مسلمانوں کی جذبات مجروح نہ ہوں۔
مولانا اے۔کے۔رحمانی
قومی نائب صدر مسلم پولٹیکل کاونسل آف انڈیا
کسیا،کشی نگر،یوپی
