شاعراطفال ڈاکٹر حافظ کرناٹکی، محترمہ ذکیہ مشہدی، پروفیسر عین الحسن سمیت ممتاز ماہرین کا اظہارِ خیال

حیدرآباد(پریس ریلیز): مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے زیر اہتمام اکیسویں صدی میں بچوں کا ادب: مسائل و امکانات کے موضوع پر دو روزہ قومی سیمینار کا انعقاد عمل میں آیا۔ سیمینار مرکز برائے فاصلاتی و آن لائن تعلیم اور ثقافتی سرگرمی مرکز(مانو)کے اشتراک سے منعقد کیا گیا۔ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے پروفیسر گلفشاں حبیب نے بچوں کے ادب کی عصری معنویت، تعلیمی افادیت اور فکری تشکیل میں اس کے کردار پر روشنی ڈالی۔صدرشعبہ اردو پروفیسر مسرت جہاں نے سیمینار کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کا ادب نئی نسل کی فکری، اخلاقی اور تہذیبی تربیت کا مضبوط ذریعہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اکیسویں صدی میں بچوں کے ادب پر خصوصی توجہ نہ دی گئی تو زبان و ادب کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کا ادب اردو زبان کی آبیاری کرتا ہے اور اس پر سنجیدہ و منظم کام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے ملک کے ممتاز ماہرین کی شرکت کو اردو دنیا کے لیے ایک یادگار موقع قرار دیا۔معروف فکشن نگار محترمہ ذکیہ مشہدی نے کلیدی خطاب میں بچوں کے ادب میں جدید رجحانات، درپیش چیلنجز اور مستقبل کے امکانات کا جامع تجزیہ پیش کیا اور کہا کہ بدلتے ہوئے سماجی و تہذیبی تناظر میں بچوں کے ادب کو نئے اسلوب اور نئے موضوعات کی ضرورت ہے۔
خصوصی خطاب میں پروفیسر اشتیاق احمد نے بچوں کے ادب میں تخلیقی اظہار، زبان و بیان کی نزاکتوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کا ادب قوم کی فکری بنیادوں کو مضبوط کرتا ہے اور اس میدان میں مزید تحقیقی و تخلیقی کام ناگزیر ہے۔
مہمانِ خصوصی معروف شاعراطفال ڈاکٹر امجد حسین حافظ کرناٹکی نے اپنے بصیرت افروز خطاب میں کہا کہ اکیسویں صدی سائنس، ٹیکنالوجی اور نئی قدروں کی صدی ہے، جہاں بچوں کی ذہنی سطح اور فکری پرواز ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع ہو چکی ہے۔شاعراطفال نے کہاکہ بچوں کے لیے ادب تخلیق کرنا شوق نہیں ذمہ داری ہے۔ حالات کے تقاضے کے مطابق لکھنا ہوشیاری ہے۔ بچوں کا مستقبل سنوارنا ہماری اور آپ کی ذمہ داری ہے۔ کل کا ادب باسی ہوچکاہے اب آگے کی تیاری ہے۔آج کی تہذیب زرعی نہیں ٹیکنالوجی کی ماری ہے۔ مصنوعی ذہانت کا سفر جاری ہے۔ ہم سے اور آپ سے زیادہ مستحکم بچوں کی سمجھ داری ہے۔ اس کے لیے عام قلم کاروں کے لیے لکھنا آسان نہیں بھاری ہے۔ اب بچے انجان نہیں ہیں ان کے پاس ہر طرح کی جانکاری ہے۔ انٹرنیٹ کے طفیل ان کی انگلی کے نیچے دنیا ساری ہے۔ ان کی بصیرت کارنگ گاڑھا اور بصارت بے کناری ہے۔ ان کی ذہنی تربیت کے لیے ہلکی پھلکی چیزیں ناکافی ہیں۔ ذہانت سے بھرپور چیزیں ہی انہیں پیاری ہیں۔ نانی دادی کی کہانیاں ان کے لیے بے رس اور ناکاری ہیں۔ کمپیوٹر، سوپرکمپیوٹر، اور روبوٹ سے ان کی یاری ہے۔ سٹیلائیٹ، راکٹ، خلائی جہاز، سمندر کاسفر، نئی کھوج، نئی ایجاد، اسٹاروار، فضا کی تسخیر، نئے جہان کی کھوج، اڑن طشتری، ایلین، دوسری دنیا کی مخلوق سے اب ان کی دوست داری ہے۔وہ زمین پر رہ کر آسمانوں کے خواب دیکھتے ہیں۔ پتنگیں اڑانے کی جگہ خود کو اڑتا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ نئی نئی ایجادوں اور دریافتوں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ سوتے میں جاگتے ہیں، جاگتے میں تخیل کی اڑان بھرتے ہیں۔ کیا،کیوں، کیسے اور کس لیے کے سوالوں میں گھرے رہتے ہیں۔ دنیا سے باخبر ہیں اس لیے دنیا کو فتح کرنے کے خواب دیکھتے ہیں۔ ستاروں کی سیر کو اپنا حق جانتے ہیں۔ اپنے آپ کو سوپر ہیروگردانتے ہیں۔ تسخیرکائنات کو اپنا مشن جانتے ہیں۔ اس لیے ان کو ذہنی غذا فراہم کرنا آسان نہیں رہ گیا ہے۔ ادب اطفال پر نئے سرے سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر حافظ کرناٹکی نے مزید کہا کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی جانب سے اس نوعیت کے سیمینار کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے، جس سے ادبِ اطفال کی نئی راہیں ہموار ہوں گی اور تخلیقی امکانات کو جِلا ملے گی۔ انہوں نے سیمینار کے انعقاد پر منتظمین، دانشوروں اور اسکالروں کو مبارکباد پیش کی۔
صدارتی خطاب میں شیخ الجامعہ پروفیسر سید عین الحسن نے ایسے علمی اجتماعات کو اردو زبان اور بچوں کے ادب کے فروغ کے لیے نہایت مفید قرار دیا۔ انہوں نے قدیم اور جدید ادب میں علامات و اشارات کی وضاحت کرتے ہوئے موجودہ عہد کے تناظر میں بچوں کے ادب کی معنویت پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کا ادب بظاہر آسان نظر آتا ہے، مگر اس میں گہری معنویت اور فکری بالیدگی کا ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے نصاب میں بچوں کے ادب کو خصوصی اہمیت دینے پر زور دیا۔سیمینار کی نظامت کے فرائض پروفیسر فیروز عالم نے بحسن و خوبی انجام دیے، جبکہ پروگرام کا اختتام محمد رضا اللہ خان کے کلماتِ تشکر پر ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے