میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک

لفڑے پہ پھر لفڑا ہے برقعہ ڈال کے
ہرکام ہوسکتاہے برقعہ ڈال کے

کس دیش کا برقعہ تو نے پہنا ہے یاں
دھوکے پہ کیوں دھوکہ ہے برقعہ ڈال کے

مسلم وہی بیٹی ہے ، جس نے طئے کیا
ہاں ، عمر بھر جینا ہے برقعہ ڈال کے

بوائے فرینڈا س کا مسلماں تو نہیں
اور پیار بھی کرنا ہے برقعہ ڈال کے

تم بھی عجب ہو، مرد کیوں سمجھے اسے
اسکوٹی پر بیٹھا ہے برقعہ ڈال کے

چوری بھی ممکن ہے ، کسی سے عشق بھی
وہ ناچ بھی سکتاہے برقعہ ڈال کے

پہچاننے میں یار مشکل ہوگئی
تقریب میں پہنچا ہے برقعہ ڈال کے

جوعورتیں اچھی ہیں ، ان کو کرنا ہے
جوکام بھی کرنا ہے برقعہ ڈال کے

آزاد دنیا ہوگئی ہے کاہے یار
یہ بھی کوئی دھندا ہے برقعہ ڈال کے

کیسی سیاسی میرؔمجبوری رہی
مہندی بھی دِکھلانا ہے برقعہ ڈال کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے