منااکھیلی۔8؍فروری(عبدالقدیر لشکری): فیکٹریوں پر چھاپوں کے دوران کئی غیر مجاز سرگرمیاں جو قواعد سے ہٹ کر چل رہی تھیں منظر عام پر آئی ہیں۔ یہ ظاہر ہے کہ مزید تفتیش سے بلاشبہ مزید غیر مجاز سرگرمیوں کا پردہ فاش ہوگا۔اگربتی، دال مل اور وغیرہ بنانے والی فیکٹریوں پر چھاپے مارے گئے تو معلوم ہوا کے دال مل اور اگربتی فیکٹریوں میں کیمیکل سے بھرے بیرل بڑی تعداد میں ذخیرہ کیے گئے تھے۔ انکشاف ہوا کے دال مل میں فرنیچر اور بیڈ بنانے کا یونٹ تھا۔حکام نے ہمناآباد کے مضافات میں ایک صنعتی علاقے میں فیکٹریوں کا دورہ کرتے ہوئے صنعت کاروں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہوں نے کہا کے اگرچہ یہاں ہونے والے حادثات کی تعداد کے پیش نظر حفاظت کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے لیکن متعلقہ محکمے کے حکام کو چاہیے تھا کے وہ کئی سالوں سے یہاں کی فیکٹریوں میں ہونے والی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیتے اور بروقت ان کا معائنہ کرتے اس طرح کی لاپروائی نہ ہوتی۔چھاپے کے دوران بعض فیکٹریوں میں غیر قانونی سرگرمیاں دیکھی گئیںاور غیر قانونی طور پر ذخیرہ شدہ کیمیکل بیرل موجود تھے ۔دو دنوں میں 30 کے قریب فیکٹریوں کا معائنہ کیا گیا ہے۔ ڈی وائی ایس پی مڈولپا کا کہنا ہے کے یہ کارروائی جاری رہے گی لیکن یہ کارروائی پچھلے دنوں موڑکھیرا اور ہمنااباد میں پیش آیے حادثے کے بعد دیکھنے میں آرہا ہے ۔لیکن تعلقہ انتظامیہ اور KIDB کے اہلکار اتنے دنوں سے کاروائی کیوں نہی کی یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے ۔اس موقع پر ای او دیپیکا نائکر، ماحولیاتی افسر مرتیونجے، لیبر آفیسر راہل،  JESCOM، اور فائر ڈپارٹمنٹ کے اہلکار اور دیگر موجود تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے