ڈومریا گنج (سدھارتھ نگر): ضلع سدھارتھ نگر کی تحصیل ڈومریا گنج کے تحت قائم مدرسہ نور العلوم السلفیہ ایجوکیشنل سوسائٹی، اہراڈیہ پوسٹ پریلا نرہریا کا سالانہ تعلیمی و اصلاحی پروگرام نہایت شان و شوکت، دینی جوش و خروش اور روحانی ماحول کے ساتھ منعقد ہوا۔ یہ بابرکت تقریب علاقے میں دینی بیداری، تعلیمی ترقی اور اجتماعی اتحاد اور بے مثال کا روشن مظہر ثابت ہوئی۔

پروگرام کا آغاز طلبہ و طالبات کی پُرسوز تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا، جس سے پورا ماحول نورِ قرآن سے معطر ہوگیا۔ اس کے بعد حمد و نعتِ رسولِ مقبول ﷺ اور ایمان افروز تقاریر پیش کی گئیں۔ ننھے اطفال سے لے کر درجہ ششم تک کے طلبہ نے جس اعتماد، روانی اور دینی جذبے کے ساتھ نظمیں اور تقاریر پیش کیں، اس نے حاضرین کے دل موہ لیے۔ ہر طالب علم کی کارکردگی اساتذۂ کرام کی شبانہ روز محنت، حسنِ تربیت اور اخلاص کا عملی ثبوت پیش کر رہی تھی۔

مدرسہ کے ناظمِ اعلیٰ، فضیلة الشیخ ابوالعاص وحیدی حفظہ اللہ نے اپنے خطاب میں گاؤں کے تمام افراد کو سالانہ نتائج کے موقع پر دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے مدرسہ کی ترقی میں تعاون کرنے والے ذمہ داران، نوجوانوں اور بزرگوں کی خدمات کو سراہا اور طلبہ کی شاندار کارکردگی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں انعامات سے نوازا۔ اساتذۂ کرام کی مخلصانہ جدوجہد کو خصوصی طور پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ یہی محنت آنے والی نسلوں کی دینی بنیاد کو مضبوط بناتی ہے۔

مدرسہ کے پرنسپل، فضیلة الشیخ نیاز احمد ریاضی صاحب نے سالانہ نتائج کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کامیاب طلبہ و طالبات کو مبارکباد دی اور انہیں آئندہ مزید محنت، استقامت اور اخلاص کے ساتھ علم حاصل کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علمِ دین ایک عظیم امانت ہے اور اس کی حفاظت، ترویج اور اشاعت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

گاؤں کے معزز علماء و ذمہ داران میں فضیلة الشیخ حافظ محمد اسماعیل صفوی صاحب کی شرکت نے تقریب کی رونق میں اضافہ کیا۔ انہوں نے اپنے تاثرات میں مدرسہ کی دینی و تعلیمی خدمات کو سراہا اور نوجوانوں کو دین سے مضبوط وابستگی اختیار کرنے کی نصیحت فرمائی۔

گاؤں کے بزرگ و معزز شخصیت حاجی محمد نزیر صاحب کی سرپرستی اور دعائیں اس ادارے کے لیے مضبوط سہارا ثابت ہو رہی ہیں۔ اسی طرح رحمت اللہ، عبدالسلام، عبدالستار ادریسی، محمد سعید ٹیلر، محمد نسیم، قمرالدین، عبدالرحمن، سمیع اللہ سماو سمیت دیگر ذمہ داران کی بے لوث خدمات بھی قابلِ تحسین ہیں، جن کی محنت اور تعاون سے یہ عظیم پروگرام کامیابی سے ہمکنار ہوا۔

مدرسہ کے اساتذۂ کرام میں شیخ نیاز احمد ریاضی، ماسٹر انوار اللہ اور حافظ شہباز فرقانوی کی علمی و تربیتی کاوشیں خصوصاً لائقِ ستائش رہیں۔ انہی کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے کہ طلبہ نے نہ صرف بہترین تعلیمی نتائج حاصل کیے بلکہ تقریر، نظم اور دینی معلومات میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا۔

پروگرام کے اختتام پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ و طالبات کو انعامات، ڈریس اور شیلڈ کپ سے نوازا گیا۔ سیٹھ عبدالوحید بن عبدالحفیظ نے بچوں کو خصوصی انعامات پیش کیے، جبکہ محترم پرویز صاحب نے فارغین اور اول پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو شیلڈ کپ عطا کیے۔ اطفال سے لے کر درجہ ششم تک نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی نے تقریب کو یادگار بنا دیا۔

گاؤں کے نوجوانوں کی دینی حمیت، تنظیمی صلاحیت اور خدمتِ دین کا جذبہ اس پروگرام کی کامیابی کا اصل راز ثابت ہوا۔ انہوں نے جس اخلاص، اتحاد اور ذمہ داری کے ساتھ انتظامات سنبھالے، وہ قابلِ تقلید مثال ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ جب نوجوان دین اور تعلیم کے ساتھ مضبوطی سے جڑ جاتے ہیں تو معاشرہ ترقی، اصلاح اور فلاح کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔

یہ بابرکت تقریب اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ جب بزرگوں کی سرپرستی، علماء کی رہنمائی، نوجوانوں کی محنت اور اساتذہ کی مخلصانہ کوششیں یکجا ہو جائیں تو دینی ادارے ترقی کی نئی منازل طے کرتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ادارے کو مزید استحکام عطا فرمائے، ذمہ داران و معاونین کی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے اور طلبہ و طالبات کو علمِ نافع اور عملِ صالح کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے