از: محمدشمیم احمدنوری مصباحی 

خادم: دارالعلوم انوار مصطفیٰ سہلاؤ شریف،باڑمیر (راجستھان)
رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور مغفرتوں کی بہار لے کر آتا ہے۔ یہ محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ نفس کی تربیت، دل کی صفائی اور معاشرے کی اصلاح کا جامع نصاب ہے۔ روزہ انسان کو اپنی کمزوریوں کا احساس دلاتا اور دوسروں کے دکھ درد سے آشنا کرتا ہے۔ جب بندہ خود بھوک کی شدت محسوس کرتا ہے تو اسے اُن چہروں کی یاد آتی ہے جو سال بھر فاقوں کی آزمائش سے گزرتے ہیں۔ یوں رمضان عبادت کے ساتھ ساتھ انسانیت کی خدمت کا بھی مہینہ بن جاتا ہے۔
صلہ رحمی: رشتوں کی بحالی اور دلوں کی آبادی
اسلام نے صلہ رحمی کو ایمان کا تقاضا قرار دیا ہے۔ رمضان میں اس کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ بسا اوقات دنیاوی مشاغل ہمیں اپنے اعزہ و اقارب سے دور کر دیتے ہیں؛ یہ مہینہ اُن ٹوٹے رشتوں کو جوڑنے، ناراضیوں کو ختم کرنے اور معافی مانگنے کا بہترین موقع ہے۔
بزرگوں کی خدمت اور دعائیں لینا،نادار رشتہ داروں کی خاموش مدد،عید کی خوشیوں میں سب کو شریک کرنا۔۔۔۔
یہ سب اعمال رمضان کے نور کو دوبالا کر دیتے ہیں۔
ایثار: اپنی ضرورت پر دوسروں کو ترجیح دینا
ایثار وہ صفت ہے جس سے معاشرے میں حقیقی محبت جنم لیتی ہے۔ افطار کے وقت اپنی پسندیدہ چیز کسی ضرورت مند کو پیش کر دینا، اپنی راحت پر کسی محتاج کی ضرورت کو مقدم رکھنا۔۔۔یہی رمضان کی روح ہے۔ اگر ہمارے دسترخوان پر انواع و اقسام کے کھانے ہوں اور ہمارے محلے میں کوئی بچہ خشک روٹی کو ترس رہا ہو تو یہ ہمارے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔ روزہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اصل لذت کھانے میں نہیں، کھلانے میں ہے۔
ہمدردی:دلوں کو جوڑنے والی قوت
ہمدردی کسی کو صرف چند سکّے دینے کا نام نہیں بلکہ کسی کے درد کو اپنا درد سمجھنے کا نام ہے۔ بیوہ ماں کی بے بسی، یتیم بچے کی خاموش آنکھیں، مزدور کی تھکی ہوئی پیشانی۔۔۔یہ سب ہمیں جھنجھوڑتے ہیں کہ ہم اپنی ذمہ داری پہچانیں۔ رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ عبادت کے ساتھ ساتھ آنسو پونچھنا بھی عبادت ہے، اور مسکراہٹ بانٹنا بھی صدقہ ہے۔
پڑوسیوں کی خبرگیری: ایمان کا معیار
پڑوسی کا حق اسلام میں بے حد عظیم ہے۔ اگر ہمارے گھر سے پکوان کی خوشبو اُٹھے اور پڑوسی بھوکا ہو تو یہ ہماری کوتاہی ہے۔ رمضان میں چاہیے کہ ہم:
افطار کا کچھ حصہ اپنے پڑوسی کے گھر بھیجیں-
بیمار پڑوسی کی عیادت کریں-
سفید پوش خاندانوں کی عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہوئے مدد کریں-
یاد رکھیے! حقیقی عبادت وہ ہے جس کا اثر ہمارے آس پاس کے لوگوں پر نظر آئے۔
مستحقین کی دستگیری:
 زکوٰۃ و صدقات کا مقصد
رمضان زکوٰۃ، صدقات اور فطرے کی ادائیگی کا بہترین وقت ہے۔ یہ مالی عبادات معاشی توازن پیدا کرتی اور دلوں میں شکر و قناعت کی کیفیت پیدا کرتی ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ:
زکوٰۃ صحیح اور مستند مستحقین تک پہنچے،
بیواؤں اور یتیموں کی مستقل کفالت کا نظم ہو،
مدد میں نام و نمود اور نمائش سے بچا جائے-
اگر ہر صاحبِ حیثیت شخص اپنے محلے کے چند گھروں کی ذمہ داری لے لے تو کوئی گھر خالی ہاتھ نہ رہے۔
بچوں کی تربیت: خدمت کا عملی سبق
اپنے بچوں کو ساتھ لے کر محتاجوں کی مدد کریں تاکہ اُن کے دلوں میں خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا ہو۔ انہیں بتائیں کہ رمضان صرف عبادتِ فردی نہیں بلکہ اصلاحِ معاشرہ کا مہینہ ہے۔ یہی تربیت آئندہ نسل کو باکردار اور باحساس بنائے گی۔
حاصل کلام یہ ہے کہ رمضان المبارک ہمیں سکھاتا ہے کہ تقویٰ کا کمال صرف طویل قیام و رکوع میں نہیں بلکہ دلوں کی آبادکاری اور محروموں کی دلجوئی میں ہے۔ آئیے عہد کریں کہ اس رمضان:
کوئی پڑوسی بھوکا نہ سوئے،
کوئی بیوہ تنہا نہ رہے،
کوئی یتیم خود کو بے سہارا محسوس نہ کرے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس بابرکت مہینے کی حقیقی روح سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے اعمال کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین یارب العالمین بجاہ سیدالمرسلین(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے