سہارنپور(احمد رضا): دین اسلام کی تعلیمات کو ہر صورت حاصل کرنا اور ان پر عمل پیرا رہنا ہی سر بلندی اور عظمت کی علامت ہے ہر مسلمان مرد اور عورت کا فرض ہے کہ وہ علم سیکھے اور سکھائے عالم دین آل انڈیا دینی مدارس بورڈ کے سربراہ مولانا محمد یعقوب بلند شہری نے کل بعد نماز تراویح مہندی سرائے واقع ایڈوکیٹ عظیم رضا را حل رضا کے دولت کدہ پر نویں شب میں قرآن کریم کی تکمیل کے مبارک موقعے پر نمازیوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید کی تلاوت دین اور دنیا میں صد فیصد کامیابی کی ضمانت ہے اگر خد کو دین اسلام کے مطابق زندگی گزارنے والا بنا سکو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے یوں تو جانور اور درند ے بھی اپنی اپنی زندگی جیتے ہیں مگر اصل اور راحت بخش زندگی تو وہ ہے کہ قرآن کریم کے مطابق رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر چل کر گزاری جائے اسلامک اسٹڈیز کے ماہر مولانا محمد یعقوب بلند شہری نے زور دیتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم کا پڑھنا اور پڑھانا زندگی کے لئے اشد ضروری ہے انسان بننے کے لئے دینی تعلیم لازم ہے اپنے کہا کہ ماہ رمضان المبارک کے مبارک دن رات ہمکو میسّر ہیں ان دنوں میں ہم سب جس قدر ممکن ہو اللہ تعالیٰ سے رحمت ، روزی کرم فضل طلب کرتے ہوئے گناہ سے معافی مانگیں یہی ہم سب کے لئے سب سے بہترین عمل ہوگا تعلیم کو فروغ دیں خد پڑھیں اور آس پاس کے لوگوں کو تعلیم کے لئے تیار کریں یاد رکھیں مذہب کا اصل مقصد دین اسلام کی تعلیمات کو عام کرنا اور اصلاح معاشرہ ہی ہے بس وقت رہتے دینی تعلیم کا حصول لازم ہو نا چاہئے! اسلامی نظریات کو عام کرنے میں سرگرم درجن بھر دینی کتب کے مصنف مولانا مفتی محمد صادق مظاہر ی نے اس روحانی موقعے پر نمازیوں کو خطاب کرتے ہوئے ماہ رمضان المبارک کے حوالہ سے پیارے نبی کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز دوران گفتگو حاضرین مجلس کے سامنے کچھ لوگوں کی تعریف فرمائی کہ یہ لوگ دوسروں کو دین کی باتیں بتاتے ہیں پھر فرمایا کہ ایسا کیوں ہے کہ کچھ لوگ اپنے پڑوسیوں میں دینی سوجھ بوجھ پیدا نہیں کرتے،ان کو تعلیم نہیں دیتے،ان کو نصیحت نہیں کرتے،بری باتوں سے کیوں نہیں روکتے؟ اور ایسا کیوں ہے کہ کچھ لوگ دین کی باتیں نہیں سیکھتے کیوں اپنے اندر دینی سمجھ پیدا نہیں کرتے اپنی اولاد کے اندر دینی جذبہ پیدا نہیں کرتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قسم اللہ تعالیٰ کی لازمی طور سے لوگوں کو آس پاس کی آبادی اور اپنے حلقے کو دین سکھانا چاہئیے ان کے اندر دینی شعور پیدا کرنا چاہئے اپنے فر مایا کہ لوگوں کو بڑی زمہ داری کے ساتھ وعظ و تلقین کا کام کرنا ہوگا اور لوگوں کو لازما اپنے قریب کے لوگوں سے دین سیکھنا اور سکھانا ہوگا،اپنے اندر دینی سوجھ بوجھ پیدا کرنی ہوگی اور وعظ و نصیحت قبول کرنا ہوگا،ورنہ میں انہیں اس دنیا میں جلد سزا دوں گا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ممبر سے اتر آئے، لوگوں میں چہ می گوئیاں ہونے لگی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا روئے سخن کن لوگوں کی طرف تھا، کچھ لوگوں نے کہا آپ کا اشارہ قبیلہ اشعر کی طرف تھا،یہ لوگ دین کا علم رکھتے ہیں،ان کے قریب دین سے ناواقف و بے پرواہ دیہاتی بستے ہیں اور اشعری لوگ دعوت و تبلیغ سے غافل ہیں،جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تقریر کی خبر اشعری لوگوں کو ہوئی تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا یارسول اللہ ! ہم سے کیا قصور سرزد ہوا کہ آپ ہم پر غضب ناک ہوئے؟ کیا تعلیم و تبلیغ بھی ہماری ذ مہ داری ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ! ہاں یہ بھی تمہاری ذ مہ داری ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی،لعن الذین کفرو امن بنی اسرائیل(طبرانی) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر جو آیت تلاوت فرمائی،اس سے ہم لوگوں کو یہ بتانا مقصود ہے کہ بنی اسرائیل نے نافرمانی کرنے والوں کو نہیں روکا جس کے نتیجے میں خدا کا غضب ان پر بھڑکا، تم نے اگر ان کی طرح نافرمانوں کا ہاتھ نہ پکڑا اور غلط قسم کی رواداری برتی تو تم بھی اس کے غضب کے شکار ہو جاؤ گے ! عالم دین مفتی محمد صادق نے کہا کہ اس واقعہ کی روشنی میں ہم میں سے ہر ایک کو دین سمجھنے اور سمجھانے کی فکر کرنی ہوگی اور تعلیم و تبلیغ کے فریضے کو ہرحال میں انجام دینا ہوگا، یہی راستہ خدا کے غضب سے بچنے اور اس کی رضا کو حاصل کرنے کاہے،اس لئے اپنی خاص جد وجہد سے ہم میں سے ہرایک کو اس چراغ کو جلائے رکھنا ہوگا،یہ چراغ جلتا رہے،ہم سبھی کو اس سمت میں جدو جہد اور کوشش کرنی ہوگی بچوں کا ذہن، بچے کے اخلاق و عادات،اطوار،رہن،سہن اور اس کا دین ماں باپ کی تربیت اور تعلیم سے متاثر ہوتاہے،جیسا والدین کی تعلیم و تربیت کا طریقہ ہوگا،اسی طریقے پر بچے کی نشونما ہوپائے گی،قیامت کے دن باپ سے اولاد کے بارے میں سوال ہوگا کہ تم نے اس بچے کو کیا کیا تعلیم دی تھی؟ کیسی تہذیب اور کیسا ادب سکھایا تھا مفتی محمد صادق مظاہر ی نے صاف صاف بیان کیا کہ لہذا اولاد کی جسمانی پرورش کے بعد ہر ایک والدین کا سب سے بڑا فرض اور سب سے بڑی ذ مہ داری یہ ہے کہ انہیں اس قابل بنایا جائے کہ وہ خدا کی بارگاہ میں معزز ہوں وہ جہنم سے خود بھی محفوظ رہیں اور دیگر لوگوں کی حفاظت کا ذریعہ بھی بنیں ایک مرتبہ حضرت عبداللہ ابن ثابت انصاری ر ضی اللہ عنہ نے اپنے بچوں کو بلا کر زیتون کا تیل دیا اور فرمایا کہ سر پر اس کی مالش کرو،بچوں نے سر پر تیل لگانے سے انکار کر دیا،راوی کا بیان ہے کہ انہوں نے لکڑی لی اور بچوں کو مارنا شروع کیا،صحابی رسول،بچوں کو مارتے جاتے اور فرماتے جاتے تھے کیا تم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تیل لگانے کی سنت سے اعراض کرتے ہو؟ یہ ہے تربیت کا نبوی طریقہ اور سنت کی عظمت،جو ہر ماں باپ پر لازم ہے تربیت کی ذ مہ داری ماں پر زیادہ ہے کیونکہ باپ،بیوی اور بچوں کی ضروریات پوری کرنے کی فکر میں کمانے کے لئے گھر سے باہر چلا جاتا ہے، ماں گھر میں رہتی ہے،اس لیے ماں کو چاہیے کہ اولاد کی تعلیم و تربیت اور ان کی نقل و حرکت پر کڑی نگاہ رکھے،وہ خود بھی دیندار بنے اور اپنے بچوں کی تربیت بھی اسی خطوط پر کرے، اگر ماں نیک ہے جھوٹ نہیں بولتی، گالیاں نہیں دیتی،صبح سویرے نیند سے اٹھ جاتی ہے،نماز روزے کی پابند ہے،قرآن حکیم کی تلاوت کرتی ہے،تو انکے بچوں اور بچیوں کے اندر بھی اس قسم کے اوصاف حمیدہ پیدا ہوجاتے ہیں،جو اسلام کا تقاضہ اور وقت کی اہم ضرورت ہے،اور اگر ماں جھوٹ بولتی ہے،بدزبان ہے،بداخلاق ہے اور دین کے احکام پر کاربند نہیں ہے تو بچوں کے اندر بھی یہی بری خصلتیں پیدا ہوں گی اور بچپن کی یہ برائیاں اخیر عمر تک رہیں گی جن کے برے نتائج دنیا و آخرت دونوں جگہ میں انہیں بھگتنے ہوں گے یہ سب گھر کے ماحول کا ثمرہ ہے مفتی محمد صادق مظاہر ی نے بتایا کہ آج کے پر فتن دور میں نہایت ضروری ہے کہ ماں باپ خود بھی برائیوں سے بچتے رہیں،اپنی اولاد کو بھی برائیوں سے ایک بچاتے رہیں اور انہیں اچھی و معیاری تعلیم و تربیت سے آراستہ کرنے کا خاص اہتمام کریں،آج ہم جن نازک حالات کا سامنا کررہے ہیں،اسلام اور مسلمان جن تشویشناک حالات سے گز ر رہے ہیں،ایسے میں اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ اس وقت ہم اپنے گھروں میں اسلام اور انسانیت کے خدام پیدا کریں اور یہ اسی وقت ممکن ہے،جب والدین اپنی اولاد کی صحیح اور درست تربیت کریں،اسلام کے نقوش پر اپنی اولاد کو پروان چڑھائیں!
