سالم بن سعید اختر البستوی

آپ نے سوشل میڈیا پر وہ ویڈیوز ضرور دیکھی ہوں گی جن میں کہیں بہت ساری مری ہوئی مرغیاں پھینکی ہوئی ہیں اور لوگ انہیں اٹھا اٹھا کر لے جا رہے ہیں۔ اسی طرح بارہا ایسی ویڈیوز بھی سامنے آتی ہیں کہ کوئی سامان سے لدا ہوا ٹرک پلٹ گیا، سامان سڑک پر بکھر گیا اور لوگ بجائے اس کے کہ ڈرائیور کی کیفیت دیکھیں، اس کی مدد کریں یا دوسرے کے مال کی حفاظت کرتے ہوئے امانت داری کا ثبوت دیں، سامان لوٹ لوٹ کر بھاگنے لگتے ہیں۔ یہ بےحسی، بےغیرتی اور اخلاقی پستی کی ایک عام شکل ہے جسے ہم روز دیکھتے رہتے ہیں۔

لیکن اس سے بھی زیادہ افسوسناک، تکلیف دہ اور غیرت و انسانیت سے خالی رویہ بعض لڑکے والوں کی طرف سے شادی بیاہ کے مواقع پر دیکھنے کو ملتا ہے۔ آج کل ہمارے معاشرے میں شادیوں کا موسم چل رہا ہے، اور ان تقریبات میں لڑکی والوں کے مسائل، ان کی پریشانیاں اور ان پر ڈالے جانے والے بوجھ کو اگر کوئی محسوس کرے تو دل کانپ اٹھتا ہے۔ جہیز کا بوجھ، طرح طرح کی مانگیں، نقد رقم کے مطالبات، گاڑیوں کی فرمائشیں اور بےجا اخراجات نے نکاح جیسے پاکیزہ عمل کو مشکل ترین بنا دیا ہے۔

حال ہی میں مراد آباد کا ایک واقعہ سامنے آیا جہاں عین وقت پر لڑکے والوں نے لڑکی والوں سے دس لاکھ روپے کا مطالبہ کر دیا۔ لڑکی والے اس کے قابل نہیں تھے، نتیجہ یہ ہوا کہ بارات ہی نہیں آئی۔ اس طرح کے واقعات آئے دن کہیں نہ کہیں پیش آتے رہتے ہیں۔ کتنی ہی شادیاں صرف اس لیے متاثر ہو جاتی ہیں کہ لڑکے والے لاکھوں روپے نقد، بھاری جہیز، گاڑیاں اور دوسری قیمتی چیزوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ذرا باراتیوں کی بےحسی بھی دیکھیے۔ لڑکی والوں پر اس قدر بوجھ ڈالا جاتا ہے کہ گویا شادی نہیں بلکہ کوئی آزمائش ہو۔ حالانکہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جو سب سے کم خرچ ہو۔ مگر ہمارے یہاں رشتہ طے ہونے کے دن سے لے کر شادی کے بعد بلکہ بچوں کی پیدائش تک لڑکی والوں پر مطالبات اور اخراجات کا بوجھ ڈالا جاتا رہتا ہے۔

کوئی پانچ سو باراتی لا رہا ہے، کوئی چھ سو، کوئی ہزار۔ پھر صرف تعداد ہی نہیں بلکہ یہ شرطیں بھی کہ کھانے میں فلاں فلاں چیز ہونی چاہیے، ایسا انتظام ہونا چاہیے، ویسا ہونا چاہیے۔ حالانکہ مہمانی کا تقاضا یہ ہے کہ میزبان جو محبت سے پیش کرے اسے خوش دلی سے قبول کیا جائے، نہ کہ اس پر اپنی شرطیں مسلط کی جائیں۔

اسی طرح ایک اور شرمناک رویہ یہ ہے کہ پہلے سے مقرر تعداد کچھ اور بتائی جاتی ہے، مثلاً سو، ڈیڑھ سو یا دو سو افراد، لیکن عین موقع پر دوگنے بلکہ تین گنا لوگ لے کر پہنچ جاتے ہیں۔ لڑکی والے بڑی مشکل سے متعین تعداد کے مطابق انتظامات کرتے ہیں، لیکن اچانک اضافی افراد کے آنے سے پورا نظام بکھر جاتا ہے۔ گھبراہٹ، انتشار اور پریشانی پیدا ہو جاتی ہے، اور بعض اوقات لڑکی والوں کو سب کے سامنے بےعزتی تک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ سب سراسر غلط رویے ہیں۔ یہ بےحسی ہے، بےغیرتی ہے، اور غیرت و انسانیت کے فقدان کی علامت ہے۔ ہمیں اپنے سماج سے ان برائیوں کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ نکاح کو آسان بنانا چاہیے، نہ کہ اسے لڑکی والوں کے لیے آزمائش، ذلت اور معاشی بوجھ بنا دینا چاہیے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ آج جب سوشل میڈیا پر اس طرح کا کوئی واقعہ وائرل ہوتا ہے تو ہر شخص افسوس کا اظہار کرتا نظر آتا ہے، حالانکہ انہی میں سے بہت سے لوگ اپنی شادیوں میں لاکھوں روپے نقد، بھاری جہیز اور بےشمار مطالبات وصول کر چکے ہوتے ہیں یا مستقبل میں کرنے والے ہوتے ہیں۔ دوسروں کے واقعات پر افسوس کرنا آسان ہے، لیکن اصل ضرورت اپنے کردار اور اپنے رویوں کا جائزہ لینے کی ہے۔

البتہ یہاں ایک بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ صرف لڑکے والے ہی غلط نہیں ہوتے، بلکہ آج بعض لڑکی والے بھی سادہ شادی اور بغیر جہیز نکاح پر راضی نہیں ہوتے۔ اگر کوئی لڑکا سادگی کے ساتھ نکاح کرنا چاہے تو بعض اوقات لڑکی والوں کی طرف سے بھی رسم و رواج، دکھاوا اور فضول اخراجات پر اصرار کیا جاتا ہے۔ اس لیے اصلاح کی ضرورت دونوں طرف ہے۔ جب تک دونوں خاندان سادگی، دینداری اور آسان نکاح کو ترجیح نہیں دیں گے، تب تک یہ مسئلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: یہ تحریر ایک تازہ بارات کے واقعے کے تناظر میں لکھی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے