مسرت جہاں

اسلامی دنیا اس وقت تاریخ کے ایک نہایت نازک، پیچیدہ اور فیصلہ کن دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف اس کے پاس بے پناہ انسانی وسائل، قدرتی ذخائر، جغرافیائی اہمیت، تہذیبی وراثت اور روحانی سرمایہ موجود ہے، اور دوسری طرف وہ داخلی انتشار، سیاسی عدم استحکام، معاشی انحصار، فکری انتشار، فرقہ وارانہ کشمکش اور بیرونی مداخلت کے ایسے بھنور میں پھنسی ہوئی ہے جس نے اس کی اجتماعی قوت کو کمزور کر دیا ہے۔ عالم اسلام کے مختلف خطوں میں جاری تنازعات، خانہ جنگیاں، پراکسی جنگیں، نسلی و مذہبی تصادم اور سیاسی بحران محض وقتی حادثات نہیں بلکہ ان کے پس منظر میں ایک طویل تاریخی عمل، نوآبادیاتی حکمت عملیاں، بین الاقوامی طاقتوں کے مفادات، علاقائی رقابتیں اور مسلم دنیا کی اپنی داخلی کمزوریاں کارفرما ہیں۔ اگر اس پورے منظرنامے کو جذبات سے ہٹ کر سنجیدگی، بصیرت اور تاریخی شعور کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ موجودہ بحران صرف بیرونی سازشوں کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس میں خود مسلم معاشروں کی فکری، سیاسی اور سماجی کمزوریاں بھی برابر کی شریک ہیں۔

اسلامی تاریخ کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ مسلم دنیا جب تک علمی، تہذیبی اور سیاسی طور پر متحد رہی، اس وقت تک بیرونی طاقتیں اسے کمزور کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ بغداد، قرطبہ، دمشق، قاہرہ اور دہلی جیسے مراکز صرف سیاسی طاقت کے مظاہر نہیں تھے بلکہ علم، فلسفے، تحقیق، عدل، فنون اور تہذیبی ارتقا کی علامت تھے۔ مگر جب داخلی انتشار، اقتدار کی کشمکش، علاقائی عصبیت اور فکری جمود نے مسلم معاشروں میں جگہ بنانا شروع کی تو زوال کے آثار بھی نمایاں ہونے لگے۔ تاریخ کا یہ اصول ہمیشہ سے مسلمہ رہا ہے کہ کوئی بیرونی طاقت اس وقت تک کسی قوم کو مکمل طور پر زیر نہیں کرسکتی جب تک اس قوم کے اندر کمزوری پیدا نہ ہو جائے۔ یہی حقیقت آج بھی پوری شدت کے ساتھ عالم اسلام پر منطبق ہوتی ہے۔

نوآبادیاتی دور نے مسلم دنیا کے سیاسی و جغرافیائی نقشے کو جس انداز میں تبدیل کیا، اس کے اثرات آج تک ختم نہیں ہوسکے۔ یورپی استعمار نے محض زمینوں پر قبضہ نہیں کیا بلکہ اس نے مسلم معاشروں کی سیاسی ساخت، معاشی نظام، تعلیمی ڈھانچے اور فکری سمت کو بھی متاثر کیا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد خلافت عثمانیہ کے خاتمے اور مشرق وسطیٰ کی مصنوعی تقسیم نے وہ بیج بوئے جن سے بعد کے بیشتر تنازعات نے جنم لیا۔ سائیکس پیکو معاہدہ صرف ایک سیاسی سمجھوتہ نہیں تھا بلکہ وہ ایک ایسی منصوبہ بندی تھی جس نے عرب دنیا کو نسلی، لسانی اور جغرافیائی بنیادوں پر تقسیم کرکے مستقل عدم استحکام کی راہ ہموار کی۔ ان نئی سرحدوں کے پیچھے عوامی خواہشات یا تاریخی حقائق نہیں بلکہ سامراجی مفادات کارفرما تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کا بیشتر خطہ آج بھی سرحدی تنازعات، نسلی اختلافات اور سیاسی بحرانوں کا شکار ہے۔

عالمی طاقتوں نے ہمیشہ مسلم دنیا کو اپنے مفادات کے تناظر میں دیکھا ہے۔ تیل، گیس، معدنی وسائل، اہم بحری راستے اور جغرافیائی محل وقوع نے اسلامی دنیا کو عالمی سیاست کا مرکز بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی طاقتیں اکثر یہاں استحکام سے زیادہ اپنے اثر و رسوخ کو ترجیح دیتی رہی ہیں۔ سرد جنگ کے دور میں امریکہ اور سوویت یونین نے مسلم ممالک کو نظریاتی اور عسکری کشمکش کا میدان بنائے رکھا۔ افغانستان کی جنگ ہو یا عرب قوم پرستی اور بادشاہتوں کے درمیان کشمکش، ہر جگہ عالمی طاقتوں نے اپنے مفادات کے تحت فریقین کی سرپرستی کی۔ اس پالیسی نے مسلم دنیا میں خودمختار سیاسی ارتقا کو شدید نقصان پہنچایا۔

مشرق وسطیٰ کے حالیہ تنازعات اس حقیقت کی واضح مثال ہیں۔ عراق پر حملہ، لیبیا میں مداخلت، شام کی خانہ جنگی، یمن کا بحران اور فلسطین کا مسئلہ صرف مقامی نوعیت کے تنازعات نہیں رہے بلکہ عالمی طاقتوں کے مفادات، اسلحہ کی تجارت، جغرافیائی سیاست اور علاقائی بالادستی کی کشمکش نے انہیں مزید پیچیدہ بنا دیا۔ عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا جواز پیش کرکے کی جانے والی فوجی کارروائی نے پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کردیا۔ لاکھوں انسانوں کی ہلاکت، سماجی ڈھانچے کی تباہی اور فرقہ وارانہ تقسیم نے عراق کو کئی دہائیوں پیچھے دھکیل دیا۔ اسی طرح شام کی جنگ میں مختلف عالمی اور علاقائی قوتوں کی مداخلت نے ایک مقامی سیاسی بحران کو بین الاقوامی تصادم میں تبدیل کردیا، جہاں ہر طاقت اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم نظر آئی جبکہ عام شہری مسلسل تباہی کا شکار ہوتے رہے۔

فلسطین کا مسئلہ عالم اسلام کے اجتماعی ضمیر کا ایک دیرینہ زخم ہے۔ یہ تنازع محض ایک سرزمین کا معاملہ نہیں بلکہ انصاف، انسانی حقوق، قومی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کے دوہرے معیار کی علامت بن چکا ہے۔ کئی دہائیوں سے فلسطینی عوام بے دخلی، محاصرے، تشدد اور سیاسی محرومی کا سامنا کررہے ہیں، مگر عالمی سیاست کے طاقتور مراکز اکثر اس مسئلے کو اپنے تزویراتی مفادات کے مطابق دیکھتے ہیں۔ اس صورتحال نے مسلم دنیا میں شدید بے چینی، غم و غصہ اور احساس محرومی کو جنم دیا ہے۔

تاہم یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ بیرونی طاقتوں کی مداخلت اسی وقت مؤثر ہوتی ہے جب داخلی سطح پر کمزوریاں موجود ہوں۔ مسلم دنیا کے کئی ممالک میں جمہوری اداروں کی کمزوری، سیاسی عدم برداشت، کرپشن، شخصی حکومتیں، معاشی ناہمواری، تعلیمی پسماندگی اور قانون کی غیر مساوی عملداری نے عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کو کمزور کیا ہے۔ جب ریاستیں اپنے شہریوں کو انصاف، تعلیم، روزگار اور سیاسی شرکت کے مواقع فراہم نہیں کرتیں تو معاشرے میں اضطراب، انتہاپسندی اور تشدد کے رجحانات جنم لیتے ہیں۔ یہی خلا بیرونی طاقتوں کو مداخلت کے مواقع فراہم کرتا ہے۔

فرقہ واریت بھی مسلم دنیا کے سب سے سنگین مسائل میں سے ایک ہے۔ اسلام بنیادی طور پر وحدت، اخوت اور انسانی مساوات کا پیغام دیتا ہے، مگر سیاسی مفادات، اقتدار کی کشمکش اور بیرونی سرپرستی نے مذہبی اختلافات کو دشمنی میں بدل دیا۔ بعض طاقتیں ان اختلافات کو اپنے جغرافیائی اور سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں پورے معاشرے نفرت اور تشدد کی آگ میں جھلسنے لگتے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ مسلم معاشروں میں برداشت، مکالمے اور فکری تنوع کی روایت کمزور پڑتی جارہی ہے، جبکہ جذباتی اور انتہا پسندانہ بیانیے زیادہ طاقتور ہوتے جارہے ہیں۔

عالم اسلام کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ اس نے جدید علم، تحقیق اور فکری ارتقا کے میدان میں اپنی تاریخی برتری برقرار نہیں رکھی۔ ایک زمانہ تھا جب مسلمان سائنس، طب، فلسفہ، ریاضی، فلکیات اور سماجی علوم میں دنیا کی رہنمائی کرتے تھے، مگر بعد کے ادوار میں علمی جمود، تقلید اور سیاسی زوال نے اس روایت کو کمزور کردیا۔ آج بیشتر مسلم ممالک ٹیکنالوجی، تحقیق، صنعتی پیداوار اور علمی خودکفالت کے میدان میں دوسروں پر انحصار کررہے ہیں۔ اس انحصار نے نہ صرف معاشی کمزوری پیدا کی بلکہ سیاسی فیصلوں کو بھی متاثر کیا۔

میڈیا اور اطلاعاتی جنگ بھی جدید دور کی ایک اہم حقیقت ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ اکثر مسلم دنیا کے مسائل کو مخصوص زاویوں سے پیش کرتے ہیں۔ کہیں دہشت گردی کے واقعات کو پوری اسلامی تہذیب سے جوڑ دیا جاتا ہے اور کہیں سیاسی تنازعات کو اس انداز میں بیان کیا جاتا ہے کہ اصل اسباب پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ اس صورتحال نے اسلاموفوبیا، تہذیبی تصادم اور باہمی بداعتمادی کو بڑھایا ہے۔ دوسری طرف مسلم دنیا خود ایک مضبوط اور مؤثر عالمی بیانیہ تشکیل دینے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔

اس تمام تر تاریکی کے باوجود صورت حال مکمل طور پر مایوس کن نہیں۔ مسلم دنیا میں آج بھی بے شمار ایسے افراد، ادارے اور فکری تحریکیں موجود ہیں جو اتحاد، تعلیم، مکالمے، اصلاح اور ترقی کے لیے سنجیدہ کوششیں کررہے ہیں۔ نئی نسل میں شعور بڑھ رہا ہے کہ محض جذباتی نعروں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس کے لیے مضبوط تعلیمی نظام، سائنسی ترقی، سیاسی شفافیت، سماجی انصاف اور فکری آزادی ناگزیر ہیں۔ عالم اسلام کو اگر اپنے موجودہ بحرانوں سے نکلنا ہے تو اسے سب سے پہلے داخلی سطح پر خود احتسابی کی روایت کو فروغ دینا ہوگا۔ محض بیرونی سازشوں کا ذکر کافی نہیں، بلکہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ وہ کون سی کمزوریاں ہیں جنہوں نے ان سازشوں کو کامیاب ہونے کا موقع دیا۔

اسلامی دنیا کی بقا اور استحکام کا راستہ اتحاد، علم، انصاف اور اعتدال سے ہوکر گزرتا ہے۔ اگر مسلم ممالک اپنے اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کرنے، مشترکہ اقتصادی و تعلیمی منصوبے بنانے، نوجوان نسل کو معیاری تعلیم فراہم کرنے اور تحقیق و ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرنے پر توجہ دیں تو وہ دوبارہ عالمی سطح پر ایک مثبت اور باوقار کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی طاقتوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ مستقل امن صرف طاقت کے توازن سے نہیں بلکہ انصاف، خودمختاری اور باہمی احترام سے قائم ہوتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبیں صرف بیرونی حملوں سے تباہ نہیں ہوتیں بلکہ اندرونی زوال انہیں کمزور کر دیتا ہے۔ اگر عالم اسلام اپنی فکری اور اخلاقی بنیادوں کو مضبوط کرلے، اختلافات کے باوجود وحدت کا شعور پیدا کرے اور علم و تحقیق کو اپنی ترجیح بنالے تو بیرونی مداخلتوں کے اثرات خود بخود محدود ہونے لگیں گے۔ موجودہ بحران دراصل ایک امتحان بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ امتحان اس بات کا کہ مسلم دنیا اپنی کمزوریوں کا ادراک کرتی ہے یا نہیںاور موقع اس بات کا کہ وہ ایک نئے فکری، سیاسی اور تہذیبی احیا کی بنیاد رکھ سکے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(مضمون نگار سیاسی تجزیہ کار اور ماہر تعلیم ہیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے