مسلم آبادی کے بنیادی حقوق پر لگاتار حملے طوفان کی آہٹ!

سہارنپور ( احمد رضا): بھوپال میں مسلم افراد پر پتھراؤ اور جانلیوا حملوں کے بعد دھار میں کمال مولا مسجد پر بھگوا گروہ کی حییت اسکے علاوہ اترا کھنڈ ،بنگال ، بھار اور اتر پردیش میں مسلم افراد کے خلاف درندگی بڑے سیاسی اور سماجی طوفاں کی طرف اشارہ کر رہی ہے پر امن چالیس کروڑ مسلم آبادی کو بلڈوزر ،پولیس اور عدالتی سختی کا خوف دکھا کر بنیادی حقوق سے محروم کر دینے کی سا ز شیں سے تیز سے تیز تر ہو گئی ہیں آج دھار واقع 13 ویں صدی کی تاریخی مسجد کمال مولا میں پوجا پاٹھ کی اِجازت دینے کے عدالتی فیصلے نے ثابت کر دیا ہے کہ 1991 کا  اہم ترین ور شپ ایکٹ کچھ اہمیت نہی رکھتا  شدت پسند گروپ کے افراد جس مسجد کو چاہیں مندر بنالیں انکا کوئی کچھ نہیں بگا ڈ پائیگا اگر مسلم طبقہ اس حکم کی مخالفت کریگا تو اس کے خلاف سنگیں دفعات میں مقدمہ درج کر جیل میں ڈال دیا جائے گا سالوں جیل میں پڑے رہیں گے نیز آزان نماز مساجد مدارس اور مزارات پر بھگوا گروہ کے حملوں سے قطعی طور سے ثابت ہو گیا ہے کہ ملک کے چالیس کروڑ مسلم آبادی کو نیست ونابود کرنے کے لئے اس طرح کی حرکات عمل میں لائی جا رہی ہیں ابھی تک آہستہ آہستہ اس پلاننگ پر کام ہو رہا ہے کچھ عرصہ بعد اس عمل میں تیزی آئے گی آج وقت ہے کہ اس سازش کے تحت متحد ہو کر اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کریں حالات روز بہ روز سخت سے سخت ترین ہوتے جا رہے ہیں ؟ وطن پرست  ہونے کا ڈھونگ رچانے والے بھگوا شدت پسند نفرت اور حسد کی آگ میں جل کر اعلانیہ مسلم آبادی کی تباہی پر اتر آئے ہیں بھوپال میں مسلم لڑکے کو جے شری رام کا نعرہ لگا نے پر مجبورِ کیا پھر اس کے کپڑے اتر وائے گئے پھر مارتے پیٹتے ہوئے چوراہے پر لا گیا اور تمام مسلم افراد کو گالیاں بکتے دہشت گردوں نے مسلم لڑکے کے چہرے پر گوبر مل د یا پولیس تماشائی بنی رہی اسکے علاوہ اترا کھنڈ کے رو د ر پو ر ، ہردوار اور   رشی کیش کے علاقوں میں مسلم افراد کو پہلے گالیاں دی گئی اسکے بعد مارا پیٹا گیا پھر پولیس نے مسلم افراد پر ہی فوجداری دفعات میں مقدمہ درج کر مسلم افراد کو حراست میں لے لیا ہندو شدت پسند افراد نعرے بازی کرتے رہے بھگوا شدت پسند تنظیموں کے لوگوں نے حالات  ایسے بنا دئے ہیں کہ مسلم افراد خاص طور پر ہماری ماں بہنوں اور بیٹیوں کی عزت و آبرو کی ضمانت نہ تو کالج اور یونیورسٹی کے اندر ہے اور نہ راہِ پر دوسری طرف مساجد  مدارس اور مزارات کے شہید کرنے کا بھوت سوار ہو چکا ہے، سالہا سال کی قدیم تاریخی مساجد اور تاریخی درگاہیں مسمار کرنے کیلئے بلڈوزر گرجتے رہتے ہیں، ہمارے حکمران شتر بے مہار ہو چکے ہیں ، ان کی نکیل کسنے کی ضرورت ہے ، ان حکمرانوں کی موجودہ سیاسی سازش اور خطرناک پلاننگ کی وجہ سے یہ فقیر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہے، اس وقت ایک مخصوص طبقہ کو ہر طرح ہراساں کرنے کی کوشش جاری ہے، ملک کے موجودہ حکمرانوں سے امید نہیں ہے کہ وہ اقلیتوں کے ساتھ انصاف کریں گے، اس لئے آپ کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہے امید ہے کہ سنجیدگی سے غور کرنے کی زحمت کی جائیگی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں اس وقت ۹۹ فیصد مساجد اور ۹۰ فیصد درگاہیں وقف کی زمیں پر یا مسلمانوں کی ذاتی زمین پر قائم ہے  ریاستی وزراء بھی اس کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے ہٹلری فرمان نافذ کر کے ایک مخصوص طبقہ کو ہراساں کر رہے ہیں، انکے بنیادی حقوق پر شب خوں مارا جا رہا ہے، عبادت گاہوں کو شہید اور درگاہوں کو مسمار کیا جا رہا ہے  بلاوجہ عدلیہ کے احکامات کے باوجود اعلانیہ مسلم آبادی کے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے یہ بھی ایک حقیقت  بن گئی ہے کہ ملک میں ان دنوں وہی حکمراں کامیاب ہے یا وہی حکومت کامیاب ہے جہاں اقلیتوں کے ساتھ عدل و انصاف نہ کیا جائے مساجد  مدارس اسلامیہ پر حملے کئے جائیں ، مزارات پر بلڈوزر چلا دیا جائے گھروں دکانوں پر بلڈوزر چلے ، مخالفت کرنے پر مسلم افراد کو حراست میں لے کر جیلوں میں ڈال دیا جائے اور انکے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کیا جا ئے، جہاں ان کی عزت و آبرو کی حفاظت پر حملے ہوں ، جہاں ان کو امن و سکون سے زندگی بسر کرنے کا موقع نہ دیا جائے سہی معنوں میں آج بھارت میں مسلم آبادی کے ساتھ کچھ ایسا ہی سلوک کیا جا رہا ہے سرکاری مشینری اور عدلیہ مسلم آبادی پر ہونے والے ظلم و زیادتیوں کا تماشہ دکھ رہی ہے اگر آج بھی چپ رہے تو مسلم آبادی کیلئے ملک میں حالات زیادہ مضر ہوں گیں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے