لکھنؤ، 05 اگست: راشٹریہ سماجک کاریہ کرتا سنگھٹن کے کنوینر محمد آفاق نے اتر پردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کی جانب سے مدرسہ ایجوکیشن ایکٹ میں ترمیم کے فیصلے پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا یہ اقدام نہ صرف دینی تعلیم کے نظام کو کمزور کرنے کی کوشش ہے بلکہ یہ ملک کے ایک بڑے طبقے کے تعلیمی اور سماجی مستقبل کو بھی متاثر کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے اس فیصلے کے تحت ریاست کے مدارس میں ‘کامل’ اور ‘فاضل’ (جو بالترتیب گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کے مساوی سمجھے جاتے ہیں) کی تعلیم اور ڈگریوں کو ختم کر کے تعلیم کو صرف عالم (بارہویں جماعت) تک محدود کر دیا جائے گا۔ یہ فیصلہ ہزاروں طلبہ کے اعلیٰ تعلیمی مستقبل پر منفی اثر ڈالے گا اور انہیں روزگار اور مزید تعلیم کے مواقع سے محروم کر سکتا ہے۔
محمد آفاق نے کہا کہ اس فیصلے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت مسلم تعلیمی اداروں کے وجود اور ان کی شناخت کو محدود کرنے کی سمت میں مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے تاکہ مسلمان اپنی علمی، دینی اور تہذیبی روایت سے دور ہوتے جائیں اور ملک کی ترقی میں ان کی مؤثر شمولیت کمزور پڑ جائے۔
انہوں نے کہا کہ مدارس نے ہمیشہ تعلیم، اخلاق، سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مدارس سے فارغ ہونے والے ہزاروں طلبہ مختلف شعبوں میں ملک و قوم کی خدمت انجام دے رہے ہیں، اس لیے ان کے تعلیمی ڈھانچے کو کمزور کرنا کسی بھی صورت میں مناسب نہیں کہا جا سکتا۔
محمد آفاق نے الزام لگایا کہ اس معاملے کو عدالت تک لے جانے والے عناصر بھی وہی ہیں جو آج اس فیصلے کی حمایت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ابتدا ہی سے اس معاملے پر متحد ہو کر قانونی اور جمہوری سطح پر مؤثر کوششیں کی جاتیں تو ممکن تھا کہ اس فیصلے پر روک لگ جاتی یا معاملہ زیرِ سماعت رہتا۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم مسئلے پر مسلم قیادت کا ایک بڑا طبقہ خوف یا مصلحت کی وجہ سے خاموش نظر آ رہا ہے، جبکہ ایسے حساس معاملات میں متحد ہو کر آواز بلند کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کامل اور فاضل کے طلبہ کے مستقبل کا تعلق صرف مدارس سے نہیں بلکہ پوری قوم کی علمی ترقی سے ہے، اس لیے اس مسئلے پر خاموشی کسی بھی طرح مناسب نہیں۔
محمد آفاق نے کہا کہ تمام دینی، سماجی اور تعلیمی تنظیموں، دانشوروں، وکلاء اور عوام کو چاہیے کہ وہ آئینی اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اس فیصلے کے خلاف مشترکہ جدوجہد کریں تاکہ مدارس کے اعلیٰ تعلیمی نظام اور طلبہ کے مستقبل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
