حرمین شریفین: امتِ مسلمہ کا دھڑکتا دل اور سعودی عرب اس کا پاسبان

___________________

مملکتِ توحید سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ میزائل اور ڈرون حملے نہایت تشویش ناک اور قابلِ مذمت ہیں۔ شہری آبادی، شہری تنصیبات اور اہم معاشی و توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ایسے حملے نہ صرف ایک خودمختار ملک کی سلامتی اور استحکام کو متاثر کرتے ہیں بلکہ پورے خطے کے امن و امان اور عالمی سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔

سعودی عرب مشرقِ وسطیٰ کا ایک اہم اور مستحکم ملک ہونے کے ساتھ حرمین شریفین کی سرزمین بھی ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان عقیدت و محبت کے ساتھ اس سرزمین سے وابستہ ہیں۔ اس لیے سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام صرف ایک ملک کا داخلی معاملہ نہیں، بلکہ مسلم دنیا کے جذبات اور پورے خطے کے امن سے بھی اس کا گہرا تعلق ہے۔ سعودی عرب کے شہریوں اور اس کی شہری و معاشی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملے مسلمانوں کے لیے فطری طور پر باعثِ تشویش ہیں۔

حوثی ملیشیا کی ایسی کارروائیاں خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھانے کا باعث بنتی ہیں۔ ان حملوں کے اثرات سعودی عرب اور یمن تک محدود نہیں رہتے، بلکہ بحیرۂ احمر اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں کی سلامتی، بین الاقوامی تجارت اور عالمی معیشت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ شہریوں، شہری تنصیبات اور تجارتی و معاشی مراکز کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور مسلمہ انسانی اقدار کے بھی منافی ہے۔

اس صورتِ حال میں عالمی برادری، بالخصوص اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے حملوں کے سدباب کے لیے مؤثر اقدامات کرے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے سنجیدہ سفارتی کوششیں تیز کرے۔ محض تشویش اور مذمت کے اظہار کے بجائے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔

اسی تناظر میں ضلعی جمعیت اہلِ حدیث، سدھارتھ نگر، اتر پردیش سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے ان حملوں کی شدید مذمت کرتی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ یہ مشترکہ بیان امیرِ ضلعی جمعیت اہلِ حدیث، سدھارتھ نگر، مولانا محمد ابراہیم مدنی اور ناظمِ عمومی، مولانا وصی اللہ عبدالحکیم مدنی نے جاری کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے جاری جارحانہ کارروائیوں کے سدباب کے لیے مؤثر اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

ضلعی جمعیت اہلِ حدیث، سدھارتھ نگر کا کہنا ہے کہ یمن کے مسئلے کا پائیدار حل جنگ اور تشدد میں نہیں، بلکہ مذاکرات، سیاسی مفاہمت، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور یمنی عوام کے مفادات کے تحفظ میں مضمر ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریق کشیدگی میں کمی کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں، شہریوں اور شہری تنصیبات کو محفوظ بنایا جائے اور خطے کو مزید تباہ کن تصادم سے بچانے کے لیے سیاسی و سفارتی کوششوں کو ترجیح دی جائے۔

اللہ تعالیٰ مملکتِ سعودی عرب اور حرمین شریفین کی حفاظت فرمائے، اسے ہر قسم کے شر، فتنہ اور بدامنی سے محفوظ رکھے، پورے عالمِ اسلام، بالخصوص یمن اور عرب خطے کو امن و سلامتی عطا فرمائےاور ظالم حوثیوں اور ان کی جارحیت کی تائید و ہم نوائی کرنے والوں کی ناپاک سازشوں کو خاک میں ملا دے، تاکہ مملکتِ سعودی عرب میں توحید و سنت کا پرچم ہمیشہ سربلند رہے۔ آمین!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے