سہارنپور 6 ستمبر(احمد رضا): ہماچل پردیش کے سنجولی علاقہ میں واقع تین منزلہ مسجد کے مسمار کرنے کی زہر سے بھری ہوئی مانگ کو لیکر پورے شملہ کی ہندو عورتیں اور مرد دھرنے پر بیٹھ کر مسجد کے خلاف اور مسلمانوں کے خلاف نفرت اور اشتعال انگیز تقاریر کر تے ہوئے امن پسند علاقہ کو زہریلا بنانے میں مصروف ہیں مگر سکھ ویندر سنگھ کی سرکار ان دہشت پسند افراد کے خلاف ایکشن لینے سے ڈر رہی ہے ہماچل اور اتراکھنڈ کے بیشترعلاقوں میں مسلم آبادی کے خلاف پلاننگ کے تحت نفرت کا ماحول بنایا جا رہا ہے بھاجپا، وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے لیڈران ان شر پسند عناصر کی بھر پور حمایت کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں مسلم آبادی کے خلاف جاری مہم کو مسجد کی مسماری کی شکل میں تیار کیا جا رہا ہے "بھیڑ کہ رہی ہے کہ نہ چاہئیے ملّے نہ چاہئیے مسجد خالی کرو دیو بھومی ہماری”۔
حالات ملک کے دن بہ دن بد سے بد تر ہوتے جا رہے ہیں مرکزی اور ریاستی سرکاریں ان مسلم افراد کے خلاف جنگ کا محاذ کھولنے والوں کے خلاف کوئی بھی ایکشن لینے کو تیار نہیں ہے نتیجہ کے طور پر دہشت پسند گروہ کے حوصلے آسمان تک پہنچ رہے ہیں! سوشل رہبر اور نامی گرامی راشٹریہ سماجک کاریہ کرتا تنظیم کے کنوینر محمد آفاق نے موجودہ حالات کے مدّ نظر آج اپنی جانب سے جاری ایک اہم بیان میں کہا کہ ہماچل پردیش ،اتر پردیش اور مدھیہ پردیش کے علاوہ اب دستور ہند کے خلاف جاکر آسام کے با ر پیٹا ضلع کے 28 آسامی مسلمانوں کو ڈیٹینشن کیمپ میں بھیجے جانے کا غیر آئینی عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے جس کو  ہر دانش مند بڑی  تکلیف کے ساتھ محسوس کر رہا ہے نفرت کے نام پر مسلم افراد کے خلاف اس طرح کی شرمناک حرکتیں آخر کب تک؟
سوشل تنظیم کے سربراہ محمد آفاق نے صاف شفاف انداز میں بیان کیا کہ جن مسلمانوں کو ڈیٹینشن کیمپ بھیجا گیا ہے وہ سب ہندوستانی آسامی شہری ہیں ، یہ محض مسلمانوں کو پریشان کرنے اور ان میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی فرقہ پرست طاقتوں کی بہت شرمناک اور خطرناک حكمت عملی ہے مسلمان آزان نماز مدارس آور مساجد کے خلاف اس طرح کی ہولناک سازشیں  پچھلے دس سال سے ملک بھر میں رچی جارہی ہے۔
سوشل رہبر ایم آفاق نے کہا کہ میری تمام سیاسی و غیر سیاسی پارٹیوں اور سیکولرزم کی حامی بھرنے والوں سے سوال ہے کہ آخر گرفتار شدہ لوگوں میں سے کسی کے والدین کسی کی اولاد اور رشتہ دار سب پولیس کے مطابق ہندوستانی ہیں تو پھر یہ لوگ غیر ملکی کیسے ہو گئے؟ اس لئے میں تمام سیاسی وغیرسیاسی پارٹیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ ان کی لڑائی لڑنے کے لئے آئین کے مطابق آگے آئیں اور انہیں انصاف دلوائیں، کیونکہ یہ محض شک کی بنیاد پر مسلمانوں کو پولیس کے ذریعہ نوٹس بھج دیا جاتا ہے اور بعد میں انہیں پریشان کیا جاتا ہے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے