غفران احمد ندوی 

صدر مدرس

مدرسہ تعلیم القرآن سمریاواں سنت کبیر نگر

 

تاریخ شاہد ہے کہ دنیا کے اندر جتنے بھی انسان اب تک آئے اور آئیں گےان میں سب سے با کمال،بے مثال، لائق و فائق اور کامیاب و کامران ہستی آقا ئےدو جہاں ،رحمت کا ئنا ت محمد عربی ﷺکی ذات گرامی ہے ،جو اسی مبارک مہینہ یعنی ربیع الاول میں مکہ کے اندرپیدا ہوئے ،جن کی مہک اور خوشبو سے ساری کائنات معطرہوگئی تھی ،تھکی ماندی انسانیت کو مسرت وشادمانی اورسر بلندی نصیب ہوئی،دنیا کے اندر جتنی برائیاں تھیں عرب والے ان کا مجموعہ تھے لیکن آپ کی ولادت کے بعد صرف نصف صدی میں کایا پلٹ گئی ، انقلاب آگیا ، ایسا انقلاب جو غیر محسوس طریقہ پر ساری دنیا پر چھاتا چلا گیا ، آپ کی معجزانہ زندگی اور طرز حیات قیامت تک کے انسانوں کے لئے اسوہ اور آئیڈیل بن گئی ۔

آپ ؐ خلق عظیم کا مظہر ہیں، سراپا رشد و ہدایت ہیں، حلم و صبر، عفو و درگذر کی دولت سے مالامال ہیں، کائنات کے محسن و سردار ہیں، ملت اسلامیہ کیلئے سرمایۂ افتخار ہیں، ہمہ جہت، ہمہ گیر اور نادرۂ روزگار ہیں، اخلاق عالیہ کے پیکر، امانت دار و دیانت دار ہیں، کردار و عمل کے غازی ہیں، شہ سوار ہیں، فقر و فاقہ کے باوجود ہر ایک کے ہمدرد و غم گسار ہیں، آپ کی ذات اطہر نے دنیائے انسانیت کو ایسے نازک وقت میں زندگی گزارنے کا سلیقہ بتایا جب لوگوں کے اندر سے انسانیت ختم ہو چکی تھی ، جانوروں جیسی زندگی گزارتے تھے، معصوم بچیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے ، عورتوں پر ظلم و زیادتی کے پہاڑ توڑے جا تے تھے ، خواہشات نفسانی کی تکمیل اور جسمانی آسودگی کے لئے ان کو استعمال کیا جاتا تھا اور شوہروں کی وفات کے بعد ان کا اس دنیائے فانی کے اندر جینے کا کوئی حق نہیں تھا، انسانیت سسک رہی تھی ،بلک رہی تھی، آہ و فغاں میں مصروف تھی ،ظلم و جبر اور کھلی نا انصافی پر ماتم کررہی تھی ،انسانوں کا خون پانی کی طرح بہایا جا رہا تھا، بات بات پر جنگ چھڑجاتی تھی اور سالہا سال تک چلتی رہتی تھی لیکن رحمت عالم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام مہلک اور حددرجہ نقصان دہ چیزوں سے انسانوں کوسختی کے ساتھ منع فرمایا، حسن اخلاق کی دعوت دی،زندگی گزارنے کا طریقہ بتایا،عورتوں کو ایسا بلند مقام عطا کیاجو انھیں تاریخ کے کسی دور میں حاصل نہ ہوسکا ، نہ پہلے نہ بعد میں ،انکو میراث میں حصہ دیاجس سے ان کے مستقبل کو اطمینان حاصل ہوا ، ان کےساتھ نرمی اور حسن سلوک کا حکم دیا، ان پر ظلم وزیادتی کرنے سے روکااوریہ بتلا دیا کہ اگر کسی انسان نے کسی کو جان بوجھ کر قتل کر دیا توگویاکہ اس نے پوری انسانیت کو قتل کر دیا ، پورے عالم کے سامنے ایسے عمدہ اخلاق پیش کئے کہ پوری انسانیت اس کی مثال پیش کرنے سے عاجزوقاصر رہی،مظلوموں اور کمزوروں کی مدد کی ، خود بھوکے رہے دوسروں کو کھلایا ،کبھی کسی یہودی کے ناپاک کئے ہوئے بستر کو اپنے دست مبارک سے دھویا،کبھی راہ میں بچھے کانٹوں کو صاف کیا، اسی لئے خالق کائنات فرماتا ہے کہ اے نبی! آپ اخلاق وکردار کے حسین پیکر ہیں،آپ سے اچھا اخلاق وکردار کسی کا ہو ہی نہیں سکتا ،اس کا اعتراف اہل ایمان کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں نے بھی باربار اور جگہ جگہ کیا، نثر نگاروں نے ہزاروں مضامین و مقالات لکھے،ادباءاور قلم کاروں کی جماعت نے بے شمار کتابیں تصنیف کیں،کیو نکہ پیارے آقا ﷺصرف مسلمانوں کے سردار اور رہنما نہیں ہیں بلکہ وہ تو تمام انسانوں کے لئے رحمت بن کر آئے تھے ،ان کے کر م و رحمت کا دائرہ صرف مسلمانوں تک یا مسلمانوں کے کسی ایک طبقہ اور فرقہ تک محدود نہیں ہے، مورخین نے اپنے اپنے دور میں آپ ؐکی عظمت کا ترانہ ایک بار نہیں ہزار بار گایا اور گنگنایا ہے، اس وقت دنیا کو امن وشانتی ، یکجہتی ، رواداری ، اخوت و محبت اور اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے ،دنیا سےظلم و زیادتی دور ہو ، عدل و انصاف قائم ہو اور انسانی قدریں بحال ہوں یہی نبی آخر الزماں کا پیغام ہے اور ربیع الاول کا مہینہ بھی ہر سال آکراسی کی تجدید کرتا ہے ، کاش پوری دنیا کے انسان اس سے سبق حاصل کریں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے