از قلم : محمد ابراہیم مدنی
تعلیمی میدان میں ترقی کسی بھی ملک کی ترقی کا سبب ہوتا ہے ا،س لئے سارے ممالک اور زندہ قومیں اس جانب خصوصی توجہ مرکوز کرتی ہیں ،ہر ملک اپنی بسا طبھر اپنے باشندوں کے لیے لائحہ عمل تیار کرتا ہے اور وزارت تعلیم کے ذریعہ تعلیمی وسائل فراہم کرتا ہے ، یونیورسٹیوں ،لائبریریوں، انجمنوں اور دیگر امکانی وسائل کے ذریعہ ترقیاتی پلاننگ کرتا ہے ،اور ملک کا ایک معتدبہ بجٹ الاٹ کرتا ہے۔ کمزور ممالک طاقتور حلیف ممالک سے مدد لے کر اپنی حالت بہتر کرنے کی چارہ جوئی کرتے رہتے ہیں ،دنیا کے بیشتر ممالک اپنے ہی باشندوں کے لیے کام کرتے ہیں۔
لیکنآپ دیکھیں گے کہ مملکت سعودیہ عربیہ تعلیمی و دعوتی مجال میں عالمی بساط پر کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، جس کی نظیر نہیں ملتی وزارت برائے اسلامی امور کے ذریعہ اس مملکت خیر نے پورے عالم اسلامی وغیر اسلامی میں اپنے دعاۃ مقرر کئے ہیں اور پوری دنیا میں اسلامی مبلغین کی کفالت کی ہے اور مر رہی ہے،سعودیہ کی مملکت رشیدہ نے دعوت اسلامی کو جو طاقت پہنچائی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔عالمی پروٹوکول کی مکمل پابندی اور آئینی حدود کی مکمل پاسداری کے ساتھ جو کارنامہ اس مملکت نے انجام دیا ہے وہ قابل تعریف اور مبارکباد ہے ۔
تعلیمی میدان میں مملکت سعودیہ عربیہ کے فرمانروا ملک سعود بن عبدالعزیز آل سعود نے اپنی خصوصی شاہیآرڈر سے 25 ربیع الاول 1381 ہجری مطابق 6 ستمبر 1962 عیسوی میں مدینہ منورہ کے اندر ایک ایسی اسلامی یونیورسٹی کی بنیاد رکھی جس کا اختصاص شریعت اسلامیہ ہے اور روزاول سے طے پایا کہ یونیورسٹی میں پڑھنے والے 80 فیصد طلبہ دنیا کے دوسرے ممالک سے ہوں گے ،جن کیآمد و رفت تعلیمی مصارف ،قیام و طعام کا انتظام یونیورسٹی کے ذمہ ہوگا۔
لہذا اس ممتاز یونیورسٹی کےقیام کے آغاز ہی سے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں پوری دنیا سے طلبہ حصول علم کے لیے پہونچنے لگے اور یہاں سے معیاری تعلیم ،گریجویشن ،پوسٹ گریجویشن حاصل کرنے کے بعد اپنے ملکوں میں پہنچ کر فروغ تعلیم کا کردار نبھانے لگے ،آج دنیا کا شاید باید ہی کوئی ملک ایسا ہو جہاں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کا فیض نہ پہنچا ہو، اب تک ایشیائی ممالک سے 33015 ، یورپ سے 1728 ، امریکہ سے 221 ،افریقہ سے 12221 اور اٹلانٹک سے 47 ،کل 47232 افراد کسب فیض کر چکے ہیں اور بیشتر اپنے ملکوں میں جا کر اسی نہج پر تعلیمی سرگرمی انجام دے رہے ہیں۔
مدینہ یونیورسٹی کے علاوہ مملکت سعودیہ عربیہ کی دوسری یونیورسٹیوں میں دیگر ممالک کے طلبہ داخل ہو کر اعلی تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں اور تا ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے ،بلکہ اب تو مملکہ کی تمام یونیورسٹیوں نے دیگر ممالک کے طلبہ کے لیے اپنا دروازہ کھول رکھا ہے، اور ان سےبڑی تعداد مستفید ہو رہی ہے۔ اس طرح ایک محتاط اندازہ کے مطابق مملکہ کی تمام یونیورسٹیوں سے فیض حاصل کرنے والے دیگر ممالک کے طلباء کی تعداد ایک لاکھ کے قریب ہے، جو سعودیہ عربیہ کاعالمی افق پرعلمی مجال میں ایک عظیم وبے مثال کارنامہ ہے ۔
ہمارے ملک ہندوستان میں تعلیمی اصلاح و معیارکی بلندی کا سہرا بڑی حد تک مملکت سعودیہ عربیہ پر ہے ،ملک کی کئی یونیورسٹیوں کو مملکت سعودیہ نے مالی امداد فراہم کی ہے ،اور بہت سے جامعات تو ایسے ہیں جن کے وجود اور ترقی کا انحصار مملکت سعودیہ عربیہ ہی پر ہے ،سعودی جامعات کے فارغین کا وجودملکی جامعات کو اعزاز بخشتا ہے،سعودی جامعات کے فارغین نے تدریس ،تصنیف ، تالیف ، تبلیغ و تنظیم میں جو کارہائے نمایاں انجام دیا ہے پوری دنیا اس کی معترف ہے ،اور یہ ایسی حقیقت ہے جو روز روشن کی طرح عیاں ہے،مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک نگاہ دوڑائیں تو حقیقت حال آشکارا ہو جائیگی اور بساط عالم کا علمی منظر نامہ یہ کہتا نظر آئے گاکہ تعلیم و دعوت کے مجال میں مملکت سعودیہ عربیہ کا کردار باعث فخر اور قابل عز و شرف ہے ۔اللہ تعالی اس مملکت توحید کو حاسدین کے حسد اور مکر و فریب سے محفوظ رکھے ،دشمنوں کی تمام کوششوں کو ناکام و نامراد کرے، اسے ہمیشہ شاد و آباد رکھے اور اس پر اپنے خاص رحمت کی برکھا ہمیشہ برساتا رہے، آمین۔
