شاگردِ رشید محمد اسلم صاحب مدرس کی جانب سے ہوئی 
بیدر۔ 3؍اکٹوبر(محمدیوسف رحیم بیدری): سرکاری اُردوہائی اسکول کمٹھا نہ کے مدرس جناب محمد اسلم نے ہائی اسکول کے اپنے اساتذہ کرام جناب محمد کمال الدین شمیمؔ ممتاز شاعر، سابق پرنسپل حاجی محمد سلطان میموریل اردوہائی اسکول اور جناب عبدالصمد بھارتی ممتازمؤرخ وسابق پرنسپل کی شالپوشی اور گلپوشی کرتے ہوئے انہیں اپنے سرکاری اُردوہائی اسکول کمٹھا نہ میں اپنے طلبہ وطالبات کے سامنے تہنیت پیش کی۔ دونوں اساتذہ کو مومنٹو سے نوازا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب محمد کمال الدین شمیم ؔ نے کہاکہ یہ اللہ کاکرم ہے کہ میرے بے شمار شاگرد آج اونچے عہدوں پر فائزہیں اور دنیابھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان ہی شاگردوں میں سے ایک طالب علم محمد اسلم بھی ہیں۔ محمداسلم کو کچھ دن پہلے تعلقہ سطح بیسٹ ٹیچر ایوارڈ سے نوازا گیا ہے، جس پر میں انہیں مبارک باد پیش کرتاہوں ۔ تاہم آج انھوں نے یہاں اپنے اسکول میں ہماری تہنیت کی ہے ۔ جس سے پتہ چلتاہے کہ ان کے پاس اپنے اساتذہ کرام کی کس قدر عزت ہے۔
جناب محمد اسلم مدرس کے دوسرے استاد اور ممتاز مؤرخ جناب محمد عبدالصمد بھارتی نے اپنے خطاب میں کہاکہ ہمارادور اخلاق اور مذہب کی اہمیت جانتاتھا۔ آج کے اس دور میں بہت کچھ بدل گیاہے۔ قدریںبھی بدل رہی ہیں، ایسے میں محمد اسلم صاحب کا مجھے اور کمال الدین شمیم یعنی اپنے اساتذہ کویاد کرنا اور ان کی تہنیت کرنا ایک قابل تقلید کام ہے۔ یہاں اس تقریب میں پہنچ کر دیگر شاگردوں اور شاگرداؤں کی دختران سے بھی ملاقات ہوئی۔ ویسے چل چلاؤ کی عمر ہے ۔ ہمارے بعد دوسرے آجائیں گے،لیکن یاد وہی رہیں گے جنہوں نے اپنے وقت پر کچھ ایسا کام کیاہے جو قابل ذکر ہو۔
اس موقع پر جناب محمداسلم صاحب کو بسٹ ٹیچر ایوارڈ ملنے کی مسرت میں ان کی شاگرداؤں ڈاکٹر سرور عرفانہ ،محترمہ سجیل فاطمہ ، محترمہ سیدہ شاہانہ ، محترمہ رفعت صبااور محترمہ تبسم اور محترمہ حمیرہ نے بھی خطاب کیا۔اوراپنے استاد محترم محمد اسلم صاحب کوایک آئیڈیل ٹیچر کہا۔ جن کے حوصلہ دلانے کی بدولت وہ آج شہ نشین پرکھڑے ہوکر بات کرسکتی ہیں۔ یہ تمام شاگردائیں کسی نہ کسی کلسٹر کی سی آرپی ہیں۔یارہ چکی ہیں۔ ایک شاگردہ محترمہ سیدہ شاہانہ سی آرپی چٹنلی کلسٹر نے اپنے استاد کی تعریف میں ان کااپنالکھاہواافسانچہ فریم کرواکر استاد کے حوالے کیااور فخر سے کہاکہ میں آج کچھ ہوں ،میرے استاد محمد اسلم صاحب کی بدولت ہوں۔ اس موقع پر سرکاری اردو اسکول کے ڈرائنگ ٹیچر جناب اشوک سر کو بھی بیسٹ ٹیچر ایوارڈ ملنے پر شالپوشی اور گلپوشی کے ذریعہ تہنیت پیش کی گئی۔ مومنٹو سے نوازاگیا۔ اوراد سے تشریف لائے سوامی سر اور گروناتھ صاحبان نے بھی دونوں اساتذہ کی شالپوشی اور گلپوشی کی اور ایوارڈ کی مبارک باد پیش کی۔
کمٹھانہ کے گرام پنچایت اراکین جناب اسماعیل بودگی صاحب ، جناب محمد خالد اور جناب محمد مفییض نے بھی اپنی جانب سے شالپوشی اورگلپوشی کی اور جناب اسماعیل بودگی نے اپنے خطاب میں کہاکہ ایک طالبہ نے پروگرام کے شروع میں جس انداز میں نعت شریف پیش کی ہے وہ قابل تعریف ہے۔ آواز بھی ، انداز بھی ، اور نعت کا انتخاب بھی۔ مجھے اطمینان ہے کہ طلبہ کی بہتر طورپر تعلیم ہورہی ہے اور تربیت بھی۔ اس میں تمام معلمین کی شرکت ہے خصوصاً محمد اسلم صاحب بھی قابل مبارک باد ہیں کہ انہیں ایوارڈ ملاہے اور اسی طرح وہ ہماری طالبات کی تعلیم کیلئے سرگرم رہتے ہیں۔
شہ نشین پرمذکورہ مقررین کے علاوہ جناب عبدالسلام سی آرپی ، جناب عبدالقدیر لشکری ار دوصحافی ، ڈاکٹر مجاہد ہلی کھیڑ(بی)، جناب محمد علی کنج نشین ،  گرام پنچایت اراکین جناب اسماعیل بودگی صاحب ، جناب محمد خالد اور جناب محمد مفییض ودیگر موجودتھے۔اردو زبان کے شاعر اورصحافی جناب محمدیوسف رحیم بیدری نے بھی خطاب کیا اور جناب محمد اسلم صاحب کو ایوارڈ کی مبارک باد دی ۔ اس موقع پر ان کی جانب سے دہم جماعت کے طلبہ وطالبات میں ڈائری کی مفت تقسیم عمل میں آئی۔
صاحب ِ تہنیت جناب محمد اسلم صاحب نے اپنی تقریر میں کہاکہ استاد کے بغیر علم نہیں اورزندگی بھی نہیں۔ میری زندگی اپنے اساتذہ سے عبارت ہے۔ آج میں جو کچھ ہوں، اپنے اساتذہ کی حوصلہ افزائی کی بدولت ہوں۔ میں اپنے اساتذہ اور اپنی شاگرداؤں اور شاگردوںسے اظہا رتشکر کرتاہوں ۔ اور یہ میرے لئے خوشی کی بات ہے کہ میرے اپنے مقام کمٹھانہ جہاں میں طلبہ کو پڑھانے پر فائز ہوں، وہاں میری تہنیت ہورہی ہے۔ میری تعلیمی کاوشوں کی یہ قدر افزائی میرے لئے اطمینان کا موجب ہے۔
تقریب کی صدرمحترمہ  ناظمہ ریاست صاحبہ  صدرمعلمہ سرکاری اردو ہائی اسکول کمٹھانہ نے آخر میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میں خود بھی جناب محمد کمال الدین شمیم اور مولوی محمد عبدالصمد بھارتی صاحب کی شاگردہ ہوں۔ اور اسسٹنٹ کمشنر محمد شکیل احمد میرے بھانجے ہوتے ہیں ، وہ بھی شاگرد ہیں ہمارے دونوں مہمانان کے ۔ استاد کانقش طلبہ وطالبات پر عمر بھررہاکرتاہے۔ میری زندگی میں بھی اور یہاں کی تدریسی لائف میں بھی میرے اساتذہ مشعل راہ ہیں۔ ہم اپنے اساتذہ کو نہ بھولیں۔ ان کی قدر کریں۔
پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ طلبہ نے نعتیں بھی پیش کیں۔ تقریب کی نظامت محترمہ سیدہ شاہانہ اور جناب ویجناتھ سر نے بخوبی انجام دی ۔ دیگر مددگارمعلمین میں ارمغان نجم، محترمہ رائبہ رانی، محترمہ سرسوتی ، رحمت علی خان، جناب عاصم اور محترمہ عائشہ ٹیچر کے علاوہ غیرتدریسی عملہ میں ستیش اور دیگر موجودتھے۔ اور پروگرام کوکامیاب بنانے میں سبھی کاسرگرم تعاون رہا۔ طلبہ وطالبات نے تمام پروگرام کو دلچسپی سے سنا۔جناب محمد اسلم صاحب مدرس کے اظہار تشکرپر یہ تقریب اپنے اختتام کوپہنچی۔ تقریب کے لئے ہائی اسکول کے احاطہ میں شامیانہ لگایاگیاتھا اور سبھی کے لئے طعام کااہتمام تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے