محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک
۱۔ علیحدگی باعث نجات
کتاب کے مسودہ پر تبصرہ اس کے بس کی بات نہیں تھا۔ کیوں کہ کتاب میں کئی علوم پر خامہ فرسائی کی گئی تھی۔ اس نے پوری خاکساری سے کتاب کامسودہ یہ کہہ کر لوٹادیا کہ میں اس قدر علوم کو نہیں جانتا۔ اور تبصرے کے نام پر ان علوم کاتعارف بھی کرواکر بات کو ختم نہیں کرسکتا۔ جس علم کے بارے میں اپنی معلومات صفر ہوں ، اس علم کیلئے صفرہونے کااقرار بری بات نہیں ہوگی۔
پبلشر نے بہت ہی زور دے کر دوبارہ سہ بارہ کہاکہ کتاب کے مسودہ پر آپ کی تحریر کتاب کووقیع بناسکتی ہے۔ اس نے کہا’’میں خود کچھ نہیں ہوں، یہ کام میرے ہاتھ سے نہیں ہوسکتا۔ واقعی میں کئی علوم سے نابلد ہوں ۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ پروفیسر ہوں اور مشہور ہوں‘‘
پھر وہ کتاب ایسے ہی شائع ہوگئی۔ اور تنازعہ کا باعث بن گئی۔ پروفیسر شکراداکررہے تھے کہ اللہ نے بچالیا۔ اس بچنے میںمیرا رول اگر کچھ ہے تو وہ یہ ہے کہ میں نے سچائی سے کام لیا۔اورخود کو نہ جاننے والے علوم سے علیحدہ کرلیا۔
۲۔ سکھ کیا چیز؟
میں اور میراجگری دوست دونوں پریشان ہیں۔ ہم دونوں کے بیوی بچے بھی بوجوہ پریشان ہیں۔ پڑوسیوں سے بھی کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔ گاؤں میں ایک ہی دینی جماعت ہے، اس جماعت کے امیربھی اپنے بچوں کی نالائقی کی وجہ سے پریشان ہیں۔ محکمہ پولیس بدمعاشوں اور اناج کے اسمگلروں سے پریشان ہے۔ کسان زیادہ بارش سے پریشان ہیں۔ دوکاندار کاروبار نہ ہونے سے پریشان ہیں۔ سرکاری دواخانہ کے مریض ڈاکٹرس نہ ہونے سے پریشان ہیں۔ حتیٰ کہ ملک کی اپوزیشن اورعوام خود حکومت سے پریشان ہے۔ یعنی کوئی بھی سکھ سے نہیں ہے۔ دنیا دکھوں کی جگہ بن چکی ہے۔
۳۔ مشکل کام
اس قطعۂ ارضی کے طلبہ کے لئے رائٹر بننا آسان نہیں تھا۔کیوں کہ وہاں کے اسکولوں کے ٹیچر ، اور کالجس کے لیکچرر یہی سکھاتے تھے کہ ڈاکٹر بنیں، انجینئر بنیں، چارٹرڈاکاؤنٹنٹ بنیں، سائنسدان بنیں، پولیس میں نوکری کرلیں، کلرک بن جائیں۔یہ بات نہیں کہی جاتی تھی کہ بچو، ابھی سے کہانیاں لکھیں، شعر کہیں، انشاء پردازی کا ہنراپنائیں تاکہ بڑے ہوکرنوبل انعام یافتہ رائٹر بن سکیں۔
وہاں کے اسکول اور کالجس کے اساتذہ نے طلبہ وطالبات پر رائٹربننے پر ایک غیراعلانیہ پابندی لگارکھی تھی۔اس لئے گذشتہ 75سال سے وہاں سے کوئی رائٹرنہیں بن سکا۔ ہاں یہ ضرور ہے اس قطعہ ٔ ارضی سے ایکٹر اور مقرر ضرور سامنے آئے ہیں۔ ایک سے ایک قسم کی کلاکاری کرنا اور پھینکنا وہاں کے ایکٹر اور مقررین کی علامت بن چکاہے۔
۴۔ وقت کا کارواں
وقت میرے ہاتھ میں تھا۔ اور میں دیکھ رہاتھاکہ ہرکوئی میراہے۔ پھر یوں ہواکہ ۔۔۔۔۔ آپ خود سمجھ دار ہیں، آگے کی کہانی سمجھ چکے ہوں گے، میرے بیان کرنے میں لطف نہیں آئے گا۔ اتنا ہی کہناہے کہ وقت آپ کاسدا رہے ، وقت کی سرشت میںایسا لکھا ہوانہیں ہے۔
ہاں البتہ اس کو اپنانے کے لئے جتن کرنا لازمی ہے۔لوگوں کے سامنے جیسے بھی رہیں، اندر اندروقت کے ہاتھ پیرپڑلیاکریں ۔بڑے لوگ ایسا ہی کرتے ہیں، اسلئے ان کے ساتھ وقت کاکارواں چلتا رہتاہے۔
۵۔ شکر کے آنسو
وہ گم ہوچکاتھا۔چہروں پر اداسی چھاگئی۔ سبھی رونے دھونے لگے۔ پھر وہ مل گیا۔ سبھی خوش ہوگئے۔ ملنے کی خوشی میں پارٹی وارٹی دی گئی۔ دوتین افراد ہی تھے جنہوں نے اس کے ملنے کی خوشی میں اپناسرخدا کے حضور رکھ دیااور رونے لگے ۔یہ آنسو شکر کے تھے۔
۶۔ اپنا نقاب
نقاب کے پیچھے کاچہرادیکھنے میں ڈائرکٹر صاحب کو لطف آتاہے۔ لڑکیاں آتی ہیں ، اپنانام اور کس سن عیسوی میں یہاں کے تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کی تھی، وہ بتاتی ہیں، لیکن جب تک چہر انہ دیکھ لیں ، ڈائرکٹر صاحب کو ان طالبات سے بات کرتے ہوئے سکون نہیں ملتاتھا۔
پھر ایک لمبی برقعہ پوش لڑکی آئی۔ ڈائرکٹر صاحب کے تعلیمی احسانات کاذکر کیا۔ کہاکہ اب پائلٹ بن چکی ہوں ۔ انھوں نے کہا ’’مبارک‘‘ پھربولے ’’چہراتو دِکھاؤ‘‘ اس نے جب اپنانقاب الٹاتو ڈائرکٹر صاحب کے اندر ایک کراہ سی نکل گئی۔ لیکن وہ اس کااظہار نہ کرسکے۔
جائزکہ ناجائز ان ہی کی بیٹی تھی اور انہیں پتہ نہیں چل سکاکہ وہ ایک پائلٹ دخترکے باپ بن چکے ہیں۔
