زعفرانی قیادت آخر چاہتی کیا ہے؟

عبدالغفار صدیقی

خبر ہے کہ یوپی کے وزیر اعلیٰ نے برادران وطن کو ایک نیا نعرہ دیا ہے۔’’ بٹیں گے تو کٹیں گے۔‘‘اس نعرے پر مشتمل پوسٹرس قابل احترام وزیراعلیٰ کی تصویر کے ساتھ مہاراشٹر کے حالیہ اسمبلی الیکشن میں عوامی مقامات پر چسپاں کیے گئے ہیں ۔اس نعرے کی وضاحت بیگو سرائے بہار سے ممبر پارلیمنٹ اور مرکزی وزیر نے سوابھیمان ریلی کے دوران ان الفاظ میں کی ہے ۔’’اگر یہ درانداز، یہ مسلمان ہمیں ایک بار تھپڑ مارے تو سب اکٹھے ہو کر اسے 100 تھپڑ ماریں گے۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو میں دونوں بھائیوں اور بہنوں سے کہہ رہا ہوں کہ مہادیو کی قسم کھائیں اور ہاتھ اٹھا کر ہر ہر مہادیو کہیں۔ اس لیے کہہ رہا ہوں کہ سب اکٹھے ہو جائیں اور اکٹھے رہو گے تو محفوظ رہو گے ورنہ تقسیم ہو جاؤ گے تو تباہ ہو جاؤ گے۔ اس لیے ہر کسی کے گھر میں مہادیو کی دی ہوئی تلوار ہے، درگا مایا کے ہاتھ میں تلوار ہے، شنکر جی کے ہاتھ میں ترشول ہے، نیزہ بھی ہے، اپنے گھر میں اس کی پوجا کرو کوئی دشمن آئے تو اس سے بھی بچو۔‘‘ اس کے علاوہ وزیر موصوف نے کہا کہ آج ہندوئوں کی زمین ،دولت ،دھرم ،بہو،بیٹیوں کی عزت خطرے میں ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ امبیڈکر نے نہرو جی کو رائے دی تھی کہ سارے مسلمانوں کو پاکستان بھیج دو اور وہاں کے ہندوئوں کو ہندوستان بلالو اس سے ساری پریشانیاں ختم ہوجائیں گی ۔وغیرہ وغیرہ ۔
قارئین جانتے ہیں کہ جب سے مرکز میں بی جے پی کی حکومت آئی ہے اور بیشتر ریاستوں پر بھی اسی کا اقتدار ہوا ہے تب سے سنگھی اور زعفرانی قیادت اسی طرح کی باتیں کرتی آرہی ہے ۔ان سے کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ بھائی جب یہاں مغلوں کی حکومت تھی ،جب یہاں انگریزوں کا قبضہ تھا تب تو یہ بات درست تھی کہ ہندو اور ان کا دھرم خطرے میں ہے ،لیکن اس وقت تو ہندوئوں کے سچے بہی خواہوں کی حکومت ہے اور وہ حکومت ہر شعبہ حیات کو ہندودھرم کی آستھائوں کے مطابق ڈھال رہی ہے ۔مسلمانوں کی مسجدوں پر قبضہ ہورہا ہے ،انھیں توڑا جارہا ہے ،وقف کو لوٹا جارہا ہے ،ان کی ماب لنچنگ ہورہی ہے ،ان کے پیغمبر کی شان میںگستاخیاں کی جارہی ہیں ،مسلم پرسنل لاء میں مداخلت جاری ہے،یونیفارم سول کوڈ نافذ کرنے کے نام پر ان کی تہذیب و ثقافت کو ختم کیا جارہا ہے ،مدارس کی جانچ پر انھیں بند کیا جارہا ہے،ان پر سی اے اے کی تلوار لٹک رہی ہے ، ان کے مکانوں پر بلڈوزر چلایا جارہا ہے ،ان کا انکائونٹر کیا جارہا ہے ،مسلم لڑکیوں کو جبراً ہندو بنایا جارہا ہے،ان کی زبان کو مٹادیا گیا ہے ،ان پر سرکاری سروسز کے دروازے تقریباً بند کردیے گئے ہیں ۔ پھر اس وقت کس طرح ہندو اور ان کادھرم خطرے میں ہے ؟محترم وزیر بتائیں کہ آزادی کے بعد اس ملک میںمسلمانوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا گیا ؟ان کی مراعات ختم کی گئیں یا ان میں اضافہ کیا گیا ؟جس کانگریس کو آپ مسلم لیگ کہتے ہو اور الزام لگاتے ہو کہ اس نے مسلمانوں کو سب کچھ دے دیا ہے ۔کیا آپ کچھ تفصیلات سے آگاہ فرمائیں گے ؟ کیا آپ کو نہیں معلوم کہ کانگریس نے ہمیں اتنے زخم دیے ہیں کہ: ’’درد بے چارہ پریشاں ہے کہاں سے اٹھے‘‘
وزیر اعلیٰ کا نعرہ ’’ بٹیں گے تو کٹیں گے ‘‘ بالکل درست نعرہ ہے ۔یہ حقیقت ہے جو بھی بٹے گا وہ کٹے گا ،اس کی صحیح تصویر دیکھنا ہوتو مسلمانوں کی حالت دیکھو۔آزادی وطن کے اعلان سے لے کر آج تک اسی لیے کٹ رہے ہیں کہ وہ آپس میں تقسیم ہیں ۔ہر جگہ کٹے اور کاٹے جارہے ہیں۔آسام سے لے کر کشمیر تک ان کی لاشوں کے انبار ہیں ۔میں کہتا ہوں ہر قوم کو متحد ہونا چاہئے ۔مگر کس لیے ؟محترم وزیرکے مطابق مسلمانوں کو مارنے کے لیے ۔میرے نزدیک ملک کی ترقی اور وکاس کے لیے متحد ہونا چاہئے ۔اتحاد اچھی چیز ہے مگر اس وقت جب کہ ہم کسی نیک کام کے لیے متحد ہوں ،نہ کہ کسی انسانی گروہ کو مٹانے کے لیے ،وہ بھی اس گروہ کو جو بھیڑ بکریوں کی طرح رہ رہا ہے۔
ہتھیاروں کی پوجا ہندو دھرم کا حصہ ہے ،ہر سال درگا پوجا پر سنگھ کے ذریعہ سر عام یہ پوجا کی جاتی ہے ۔لیکن اسے ایک عبادت کی حد تک ہی رہنا چاہئے ۔ہندو دھرم کے نام پر نکالی جانے والی بیشتر ریلیوں میں شرکاء کے ہاتھوں میں ہتھیار ہوتے ہیں،وہ مسلم محلوں سے گزرتے ہیں تو قابل اعتراض نعرے بازی کرتے ہیں اور ہتھیاروں سے مسلمانوں کو ڈراتے ہیں ۔مسجدوں کی بے حرمتی کرتے ہیں ۔بہرائچ میں جو واقعہ ہوا اس کا سچ دھیرے دھیرے سب کے سامنے آرہا ہے ۔سوشل میڈیا کا شکریہ کہ اس نے ہندو شرپسندکی ویڈیو شئر کی جو ایک مسلمان کے گھر پر ہرا جھنڈا اتار کر بھگوا لہراہا ہے ،اس نے اس مکان کی ریلنگ تک توڑ دی ہے ۔اس کے اس عمل کی ’ ’سراہنا ‘‘ہزاروں ہندو رام بھکت کررہے ہیں اور پولس تماشہ دیکھ رہی ہے ۔اس واقعہ کے بعض گرفتا ر ملزمین نے سچائی اگلی ہے کہ ہمیں پولس نے دو گھنٹے کی چھوٹ دے رکھی تھی ۔بہرائچ کے پولس آفیسر کی پیشگی درخواست پر اسے مزید پولس فراہم نہیں کی گئی ،محترم وزیر اعلیٰ نے مرنے والے نوجوان کو ’’دھرم ویر بتایا ہے اور اس کے اہل خانہ کو نوکری دینے کا اعلان کیا ہے ‘‘۔کیا کسی کے گھر پر زبردستی بھگوا لہرانا ویرتا اور بہادری ہے ؟کیا ایک ریاست کے وزیر اعلیٰ کا یہ عمل آئین اور اخلاق کے مطابق ہے ۔جب مکھیا کا یہ کردار ہوگا تو بہرائچ جیسے مزید حادثے رونما ہونا فطری ہیں۔
میں پوچھتا ہوں آخر زعفرانی قیادت چاہتی کیا ہے ؟کیا وہ ہندوستان میں رہنے والے تمام مسلمانوں کا قتل عام چاہتی ہے ؟کیا وہ انھیں بے گھر ،بے روزگار کرنا چاہتی ہے ؟کیا وہ انھیں ذلیل اور رسوا کرکے عزت حاصل کرنا چاہتی ہے ؟مگر کیا یہ سب ممکن ہے ؟کیا مسلمان لقمہ تر ہیں کہ آپ انھیں نگل جائیں گے ؟یہ بات بھی حیرت انگیز ہے کہ ہمارے وزیر اعظم جب عرب ممالک کا دورہ کرتے ہیں تو بڑے اہتمام سے مسلمان سربراہان کے گلے لگتے ہیں ۔انھیں اپنا بھائی کہتے ہیں ۔ان سے تعلقات بڑھاتے ہیں ،ان کے لیے بیف سپلائی کرتے ہیں ۔مگر وہ ہندوستانی مسلمانوں سے اس قدر نفرت کرتے ہیں کہ اپنے وزراء سے نفرت پر مبنی بیانات دلواتے ہیں ۔یہ بھارت کی کون سی سیوا ہے ؟کیا یہی سب کا ساتھ اور سب کا وکاس ہے ؟
میں اپنے ملک کی زعفرانی قیادت اور دیگر رہنمائوں سے بصد ادب عرض کرتا ہوں کہ وہ نفرت کی راہ پر چلنا چھوڑ دیں ۔وہ اس طرح کے بیانات نہ دیں جس سے دل بھی تقسیم ہوتے ہیں اور علاقے بھی ۔مسلمانوں کے صبر کا امتحان نہ لیں ۔انھیں جینے دیں ،اگر آپ کسی کا جینا حرام کریں گے تو ردعمل کے طور وہ بھی آپ کو ڈسٹرب کرسکتا ہے ۔کہتے ہیں کہ کتے کو کاٹنا سکھائوگے تو ایک دن وہ مالک کو بھی کاٹ سکتا ہے۔ یہ حکومت و اقتدار آنی جانی چیز ہے ۔دنیا کی تاریخ اس پر گواہ ہے ۔یہ زمین گول بھی ہے اور گھوم بھی رہی ہے ۔کب کس کو اقتدار مل جائے کچھ معلوم نہیں ہے ۔اقتدار ایشور کی ایک نعمت ہے ،اس کا حق ادا کرکے اوپر والے کا شکریہ ادا کیجیے ۔ورنہ یہ نعمت چھین لی جائے گی ،جیسا کہ مسلمانوں سے چھین لی گئی۔نئی نسلوں کو محبت کا پاٹھ پڑھائیے ۔دنیا میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے ۔سپر پاور امریکہ کی زمین کھسک رہی ہے اور اس کے کھسکانے میں بھارت کا اہم رول ہے ،اس لیے کہ وہ برکس(BRICS) کا فائونڈر ممبر ہے ۔برکس کے حالیہ اجلاس میں جو بڑے فیصلہ ہوئے ہیں ،اس میں ہمارے محترم وزیر اعظم کی’’ ہاں‘‘ شامل ہے ۔اگر ان پر عمل درآمد ہوگیا تو مغربی ممالک عالمی سطح پر بہت جلد اقتدار سے بے دخل ہوجائیں گے ۔
ہمارا ملک جنت نشان تھا ۔یہ محبت کا گہوارہ تھا ۔یہاں سب کا استقبال ہوتاتھا ۔اس کی انیکتا میں ایکتا مشہور اور لائق تقلید تھی ،مگر اس وقت انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی رپورٹیں ہمارے خلاف آرہی ہیں ۔ہم بھلے ہی انھیں مسترد کردیں مگر وہ ممالک بھی ہیں جو اس کو درست مانتے ہیں ۔نفرت انگیز باتوں سے ملک کی تصویر خراب ہوتی ہے ۔مسلمانوں کو خواہ مخواہ اپنا دشمن مت بنائیے ۔جب آپ یہ فرماتے ہیں کہ ہندو خطرے میں ہیں تو ہندووں کو مسلمانوں سے ڈراتے ہیں ۔یہ ڈر ان کی کمزوری بھی بن سکتا ہے ۔یہ بھی یاد رہے کہ اگر اس سے آپ کا مقصد مسلمانوں کو ڈرانا اور دہشت زدہ کرنا ہے تو یہ آپ کی خام خیالی ہے ۔مسلمان یہاں کے ہر باشندے کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں ،اس لیے نہیں کہ ایک ساتھ رہتے ہیں بلکہ اس لیے کہ ان کا دین یہی تعلیم دیتا ہے ۔آپ ہمارے بھائی ہیں ،ہم اپنے بھائیوں سے ڈریں گے نہیں ،کیا کوئی بھائی اپنے بھائی سے ڈرتا ہے ؟ آپ کی یہ زہر افشانی بھائیوں کو بھائیوں سے لڑائے گی تو نقصان بھائیوں کا ہی ہوگا ،اب چاہے چھوٹے بھائی کا زیادہ ہوجائے یا بڑے بھائی کا ۔مجھے تعجب ہوتا ہے جب زعفرانی کپڑے پہننے والے اور خود کو مذہبی سنت سمجھنے والے نفرت کی زبان بولتے ہیں ،زعفرانی رنگ تو دنیا سے بے رغبتی ،زہدو قناعت اور امن و آشتی کا رنگ تھا ۔آپ جیسے لوگوں نے اسے خوف و دہشت کا رنگ بنادیا ہے۔
ابھی بھی وقت ہے کہ ہماری مرکزی قیادت اور اس کی سرپرست تنظیم آر ایس ایس اپنے موقف پر نظر ثانی کرے اورہمارے دل محبت سے جیتنے کی کوشش کرے ۔اگر آپ ہماری گردنیں جھکانے کی کوششیں کریں گے تو اللہ کے سامنے جھکنے والی گردن کٹ تو سکتی ہے مگر کسی کے سامنے جھک نہیں سکتی ۔اس کا مشاہدہ آپ بارہاکرچکے ہیں ۔آئو تاریخ کو ایک طرف رکھ دیں ۔ماضی کی حکومتوں نے کیا اچھا کیا اور کیا برا کیا اس کا انجام وہ بھگت چکے ہیں ۔گڑے مردوں کو نہ اکھاڑیں ورنہ بدبو پھیلے گی ۔یہ ملک ہم سب کا ہے ۔ہم سب یہاں ہزاروں سال سے رہ رہے ہیں ۔ہندوستانی مسلمان ماضی کے کسی مسلم حکمراں کے خاندانی نہیں ہیں ۔ان پر کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ ان کے ناموں کو بدل ڈالیں ،ان کے مقبروں کو مسمار کردیں ،ان کے بنائے ہوئے قلعوں اور تاج محل کو رکھیں یا ختم کردیں ۔ہاں اس وقت فرق پڑتا ہے جب اس کے ذاتی گھر پر زبردستی بھگوا لہرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اس کے خدا کے گھر کی توہین کرتے ہیں اور اس کے نبی کی شان میں گستاخی کرتے ہیں۔میری مسلمانوں سے بھی گزارش ہے کہ یوپی کے وزیر اعلیٰ کے نعرے کوقیمتی نصیحت سمجھیں اور گرہ میں باندھ لیں اور اس پر عمل کرتے ہوئے متحد ہوجائیں ،ورنہ’’ بٹیں گے تو کٹیں گے ۔‘‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے