مہراج گنج: جامعہ عربیہ صادقیہ جامع مسجد لوہیا نگر نگر پالیکا پریشد شہر مہراج گنج کے طلباء عزیز میں سے دو بچوں نے گورکھپور مہراج گنج اضلاع کے مدارس کے طلبا کا مسابقہ قرآن ،نعت اور تقریری مقابلہ مدرسہ انجمن اسلامیہ انول میں ہوا تھا جہاں پر مقابلہ قرآن میں دوسری پوزیشن حاصل کرکے جامعہ کے طالب علم حافظ وسیم احمد نے 10,000 کا انعام حاصل کرکے جامعہ کا نام روشن کیا، اسی طرح نعت کے مقابلے میں جامعہ کے طالب علم محمد زید نے پہلی پوزیشن حاصل کرکے 3,000 کا انعام حاصل کرکے جامعہ کا وقار بلند کیا۔

آج ان بچوں کی حوصلہ افزائی کی غرض سے جامعہ کے دارالقرآن میں جامعہ کے خازن ڈاکٹر احسن نذیر صدیقی نے گولڈ میڈل پہنا کر بچوں کے وقار کو بلند کیا اور اپنی طرف سے رقومات دیکر حوصلہ افزائی کی اور ناظم جامعہ مولانا محمد اطہر صدیقی قاسمی صدر جمعیت علماء گورکھپور کا بیحد شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کا کرم ہے کہ ان جیسا انسان جامعہ کا ناظم ہے، اگر ہم سب ملکر ان کا ساتھ دیں تو مدرسہ مزید ترقی کرسکتا ہے۔ انہوں نے تعمیری کام سے لیکر تعلیمی بیداری کی طرف بھی بیدار کیا ہے۔

اس موقعہ پر جامعہ عائشہ للبنات کے ذمہ دار مولانا اشفاق اللہ ندوی نے شاندار نظامت سے مجلس کو جلا بخشی۔ انھوں نے پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا:

سلامت رہے تیرے روضہ کا منظر۔

سلامت رہے تیرے روضہ کی جالی۔

ہمیں بھی عطا ہو وہ شوق ابو ذر۔

ہمیں بھی عطا ہو وہ جذبہ بلالی

جامعہ کے متعلم عبد اللہ، عبد الرحمٰن، اسراءیل، عدیل احمد وغیرہ نے کلچرل پروگرام سے سامعین کے دلوں کو جیت لیا اور انعامات سے نوازے گئے۔ مولانا رئیس احمد قاسمی امام مسجد پڑری، مولانا سراج احمد مرکزی دار العلوم بیر عبدالحمید نگر گبڑوا۔ مدینہ مسجد کے امام عافظ عبد الکریم، قاری منیر احمد دھنہا بیجولی، مدرسہ حسینیہ کے ذمہ دار مولانا اقرار وغیرہ نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔

اس موقع پر ناظم جامعہ نے حاضرین کو طغرا دیکر مدرسہ کو دلوں سے لگانے کا ذریعہ بنایا، جس پر حاضرین نے شکریہ ادا کرتے ہوئے جامعہ کو بلندیوں پر پہونچنے کی دعائیں دیں۔ جامعہ کے پرنسپل جو مدرسہ کی روح کی حیثیت رکھتے ہیں، حاضرین کا تعارف کراتے ہوئے شکریہ سے نوازا۔ اس موقع پر قرب وجوار کے علماء کرام نے اور اہل ثروت نے شرکت کی، جن میں علیم اللہ قانون گو، جامعة البنات کے ناظم اور دیگر احباب قابل ذکر ہیں۔ آخر میں مولانا محمد اطہر صدیقی قاسمی کی دعاؤں پر مجلس کا اختتام ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے