مکرمی!
آزادی کے بعد سے آج تک ہمارے ملک میںکوئی بھی ایسی حکومت قائم نہیں ہوئی،جس نے اپنے مخالفین کو دبانے اور ہراساں کرنے کے لئے بلڈوزر کااستعمال کیا ہو،اور تغلقی فرمان کاسہارا لیا ہو،مگر آج کی بلڈوزر سرکار نے ساری پرانی روایات کو جہاں دفن کردیا ہے وہیں جمہوریت کے تانے بانے کو مسمار کرکے رکھ دیا ہے، جمہوریت کی نام کی دہائی دینے والے آج جمہوریت کے سرسبز و شاداب درخت کی جڑ کو کھوکھلا کررہے ہیں، کوئی بھی سرکار ہو اس کو جمہور کاآئینہ دار ہونا چاہئے، جمہوریت کے طرزپر حکمرانی کرنا اس کا امتیاز ہونا چاہئے، درحقیقت وہی سرکار کامیاب ہے جس میں عوام کے ساتھ اقلیتوں کے حقوق بھی محفوظ ہوں۔
بڑے افسوس کے ساتھ عرض کرنا پڑ رہا ہے کہ آج کی بلڈوزر سرکارنہ عوام کی خیر خواہ ہے اور نہ اقلیتوں کے عزت وآبرو کا محافظ، عدل وانصاف کا پیمانہ بدل چکا ہے ،ہماری سرکار اکثریتی طبقہ کے مفاد میںکام کررہی ہے اور اقلیتی طبقہ کو نظر انداز کرتی جارہی ہے،اگر کوئی دانشوربلڈوزر سرکار پر تنقید کرتا ہے تواس کا ناطقہ بند کرکے جیل کی ہوا کھلائی جارہی ہے اور اس پر ایسے جھوٹے مقدمات قائم کردئیے جارہے ہیں کہ اس کا جینا محال ہو کر رہ گیا ہے۔
اس سے زیادہ افسوس کا مقام ہے کہ اس عظیم جمہوری ملک میں جمہوریت کو تار تار ہوتے دیکھ کر ہماری عدالتیں بھی خاموش ہیں،خدا کا شکر ہے کہ ہمارے ملک کی عدالت عظمیٰ سپریم کورٹ نے اکشن لیا اورجمہور کے حق میں ایک تاریخی فیصلہ کیاکہ ایسے بلڈوزر سرکار کومکانات مسمار کرنے پر ۲۵لاکھ کا معاوضہ دینا ہوگا،یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا جبکہ درجنوں بستیاں صفحہ ہستی سے مٹا کر رکھ دی گئی ہیں اورہزاروں مکانات مسمار کردیئے گئے، کاش یہ فیصلہ اور پہلے آیا ہوتا تو کروڑوں کی جائیدادیں مسمار نہ ہوئی ہوتی مگر یہ فیصلہ دیر آید درست آید کا مصداق ہے، اس لئے اس کا خیر مقدم ہونا چاہئے۔
جہاں تک معاملہ تجاوزات کو ختم کرنے کی ہے تو اس کے لئے جمہوری طریقہ اختیار کرنا چاہئے ، اورمتاثرین کو اپنے دلائل پیش کرنے کے لئے قانونی چارہ جوئی کے لئے موقع دینا چاہئے ،نیز عدالت کے فیصلہ کے بعد ہی کوئی سخت قدم اٹھانا چاہئے اور یہ کاروائی بلا تفریق مذہب وملت کرنی چاہئے مگر اب تک جو بھی کاروائی ہوئی ہے وہ خاص طور پر ایک مخصوص اقلیتی طبقہ کے خلاف ہوئی جو کسی بھی جمہوری ملک کے تابندہ پیشانی پر سیاہ دھبہ ہے ،تو دوسری طرف چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر بلڈوزر کا ہوا کھڑا کردینا جمہوری قوانین کے خلاف ہے، جو مکانات عرصہ درازسے ذاتی زمین پر بنے ہوئے ہیں ان کو صرف نقشہ نہ پاس کرانے کے پاداش میں مسمار کردینا کیا یہ جمہوریت ہے ؟
کیا اس لئے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے
بن جائے نشیمن تو کوئی آگ لگادے
آپ کا
مولانا اے۔ کے۔ رحمانی
قومی نائب صدر مسلم پولٹیکل کاونسل آف انڈیا، کسیا،کشی نگر، یوپی
