مکرمی!
قبل اس کے کہ مہاراشٹر میںموجودہ سیاست اور حکمراں پارٹی کی غیر معمول کامیابی پر کچھ عرض کروں،میں اس موقع پر ایک ایسی شخصیت کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو علم وفلسفہ میں اپنے زمانہ کا ابن تیمیہ، تو زہد وتقویٰ میں جنید وشبلی ،مال ودولت کی حرص سے کوسوں دور،میں بغیر کسی مبالغہ کے یہ عرض کرسکتا ہوں کہ ماضی قریب میں ہندوستانی علماء میںکوئی بھی عالم ایسا نظر نہیں آتا جس نے علم وحکمت اور دعوت وارشاد کے سلسلہ میں اتنے کثیر اسفار کیا ہو، عالم اسلام کے حکمرانوں اور بادشاہوں کو بڑی حکمت ومصلحت سے مغرب کے چنگل سے چھڑا کر دین اسلام کی خالص صراط مستقیم کی دعوت دی ہو،بلکہ ایک بادشاہ کا واقعہ بہت مشہور ہے جب اس شخصیت نے اس کو دعوت دینا شروع کیا تو وہ زاروقطار رونے لگا اور ایسی چیخ ماری کہ اس کے سارے محافظین دمک گئے، مگرہاتھ سے اشارہ کرکے سب کو واپس کردیا، تو دوسری طرف یہ شخصیت عالم اسلام کے درجنوں اکاڈمیوں کا صدر اور ممبر بھی، وہ ایسی شخصیت ہے جس کو کلید کعبہ جیسے شرف سے نوازا گیا، یہ وہ شخصیت ہے جس نے اپنے سارے ایوارڈ کی رقوم قوم وملت پر وقف کردیا، اور اپنی ذاتی ضرورت کے لئے ایک قرش بھی نہیں لیا، یہ وہ شخصیت ہے جس کا عالم اسلام والہانہ استقبال کرتا تھا۔
تو دوسری طرف اندرون ملک بھی اللہ تعالیٰ نے اس شخصیت کو غیر معمولی مقبولیت سے نوازا تھا، کہ وزراء وحکمراں اس سے ملاقات کرنااپنے لئے باعث سعادت سمجھتے تھے،شاید ہی کوئی وزیر اعلیٰ یا حکمراں ہو جو اپنی کامیابی کے بعد اس کے در پر حاضری نہ دیتا ہو، واقعی اللہ تعالیٰ نے اس شخصیت کو غیر معمولی مقبولیت کے ساتھ محبوبیت کی نعمت سے بھی نوازا تھا ،ایسی معزز ومحترم شخصیت پرقربان جاؤں کہ اس نے اس عظیم اثر ورسوخ کے باوجود کبھی بھی کسی حکمراں وغیرحکمراں پارٹی کے لئے نہ کوئی اپیل کیااور نہ کوئی بیان دیا، اس شخصیت کا نام نامی اسم گرامی حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنیؒ ندوی ہے جس کواندرون ملک مولانا علی میاںؒ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔
آج ملک کے ہمارے علمائے کرام کو اس عظیم مفکر اور صاحب حکمت وبصیرت سے سبق حاصل کرنا چاہئے اور ایسے موقعوں پر کسی بھی قسم کی کوئی اپیل اور بیان سے پرہیز کرنا چاہئے اسی میںقوم وملت کی بھلائی ہے اور جذبات میں آکربیان بازی کرنا امت اسلامیہ کے لئے خسارہ ہے جیسا کہ ہم نے مہاراشٹر کی سیاست میں دیکھا ہے ۔
جہاں تک معاملہ مہاراشٹر میں حکمراں پارٹی کی غیر معمولی کامیابی کا ہے تو اس کی وجہ صرف اور صرف ایک غیردانشمندانہ اپیل اور بیان ہے جس سے اقلیتی کمیونٹی تو متحد نہ ہوسکی مگر اکثریتی کمیونٹی متحد ہوگئی اور اس نے ایک طرفہ ووٹ کرکے سب کوششدر کردیا، کاش آج مولانا علی میاںؒ کی فکروبصیرت کے مطابق فیصلہ کیا گیا ہوتا توامت کو اسلامیہ ہندیا کو رسوائی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، الیکشن میں ہار جیت تو ہوتی رہتی ہے مگر سب سے زیادہ افسوس اس عاشق رسول کے شکست سے ہواجس کو امتیاز جلیل کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ انہیں عزم حوصلہ عطا فرمائے تا کہ مستقبل میں شاندار کامیابی کی دہلیز پر قدم رکھ سکے۔
آپ کا
مولانا ،اے ،کے ،رحمانی
قومی نائب صدر
مسلم پولٹیکل کاونسل آف انڈیا
کسیا،کشی نگر،یوپی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے