Oplus_131072

(ادیب و صحافی)

ڈاکٹر ماجد داغی، گلبرگہ

جناب چندر بھان خیال کا شمار ہندوستان کے ذہین و فطین نامور اردو شعراء میں نابِغَہ روزگار کی حیثیت کا حامل ہے۔ ان کی شاعری کی شہرت برِصغیر ہند و پاک کی سرحدوں سے پار ایشیاء اور سارے عالمِ اردوکے علاوہ دیگر ممالک میں بھی ہے۔ شاعری میں ان کے مقام و مرتبہ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ 2007 ء میں حکومتِ ایران کے زیرِ اہتمام منعقدہ نعتیہ شاعری پر سہ روزہ عالمی کانفرنس میں جہاں دنیا بھر سے مختلف زبانوں کے 120 ممتاز منتخب نعت لکھنے والے شعراء کو مدعو کیا گیا تھا ان میں جناب چندر بھان خیال بھی شامل تھے. اس موقع پر انہوں نے اپنا عظیم نعتیہ شاہکار ” لولاک ” کا ایک حصہ سنایا تو سَما بَندْھ گیا اور 20/25 ہزار افراد پر مشتمل عظیم اجتماع تعظیم و تکریم میں کھڑا ہوگیا اور بہت دیر تک اس مقدس محفل میں سبحان اللہ کی آواز اور تالیوں کی گَڑْگَڑاہٹ گونجتی رہی.
اس طرح چندربھان خیال نے شعر و سخن، فکر و فن اور تقدیسی شاعری میں اپنے کمالِ ہنرمندی کا لوہا منوایا اور اس ذی وقار عالمی نعتیہ کانفرنس کے موقع پر عشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سرشار نعتیہ ادب کا اعلیٰ ذوق رکھنے والوں کے روح پرور کثیر اجتماع میں انہیں ایران کا خصوصی ایوارڈ تفویض کیا گیا اور ایران کے قابلِ تعظیم امام نے انہیں دعائیں دیں اور ایران کے گورنر سے بھی ملاقات ہوئی۔
اس سلسلے میں چندربھان خیال فرماتے ہیں کہ ” یہ بات میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ دنیا میں میری اتنی عزت افزائی اور پذیرائی ہوگی. یہ محض اللہ کا فضل ہے اور یہ میری زندگی کا ایسا واقعہ ہے کہ جسے میں تاحیات کبھی فراموش نہ کر پاؤنگا ”
پہلی مرتبہ انہیں سیرت النبی ﷺ سے آگہی اس وقت ہوئی جب انہوں نے جماعت چہارم / پنجم میں ایک مختصر مضمون پڑھا تھا کہ آج سے کوئی چودہ، پندرہ سو برس پہلے عرب کی سرزمین پر ایک ایسی عظیم شخصیت پیدا ہوئی تھی جنہوں نے انتہائی قَلِیل عرصے میں سارے عرب ممالک میں انقلاب پیدا کرتے ہوئے پورے معاشرے کو تبدیل کر دیا اور امیری، غریبی، اونچ نیچ، بے ایمانی، دھوکہ دہی، ظلم و زیادتی اور کئی برائیوں کا خاتمہ کردیا اور ایک ایسے معاشرے کی تشکیل عمل میں لائی جس میں سب برابر تھے اور سب کو انصاف ملتا تھا. اس حُسن کردار کا نقش بچپن ہی سے ان کے ذہن و دل پر اثر انداز ہوگیا تھا اور آہستہ آہستہ حضرت محمد ﷺ کی شخصیت سے متعلق انہوں نے مسلسل معلومات حاصل کیں اور حضرت محمد رسول ﷺ کی سیرت پر ایک نظم لکھنے کا سلسلہ شروع کر دیا اور کوئی 13/14 برسوں کے عرصے میں اس نظم کو مکمل کیا جس کا نام ” لولاک” رکھا اس طویل نعتیہ نظم کی انتہائی تیزی سے ساری دنیا میں شہرت اور خوب پذیرائی ہوئی اور آج بھی اشاعت کے بیس بائیس برس بعد بھی پسندیدگی کا سلسلہ جاری ہے۔ چندر بھان خیال ” لولاک ” کو اپنی شاعری کا سب سے اہم ترین حصّہ مانتے ہیں.
لولاک کی پذیرائی سے متعلق پوچھے جانے پر انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ ” شاعری جب دل سے نکلتی ہے تو دل میں اتر جاتی ہے اور نعتیہ کلام لکھنا ہرگز آسان نہیں یہ صرف توفیق پر منحصر ہے. سیرت النبی ﷺ پر مجھ جیسے کم علم سے ایسی نظم کا لکھوانا صرف اور صرف فضلِ ربّی ہے ”
چندربھان خیال نے لولاک نظم لکھنے کے دوران پیش آئے واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ” لوگوں نے مجھے ڈرا دیا تھا کہ جناب آپ یہ کیا کر رہے ہیں ذرا سی غلطی کی اور کچھ چُوک ہوگئی تو پریشان ہو جاؤ گے تاہم میری نیّت صاف اور رسولﷺ سے سچی عقیدت تھی میں کامیاب ہوگیا ” اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا چندربھان خیال کا نعتیہ کلام پڑھ کر حیران ہے کہ یہ واقعی بڑی عقیدت مندانہ اثرانگیزی کا حامل ہے. اس نعتیہ نظم میں موجود منظوم ”خطبہ حجۃ الوداع” سے متعلق میڈیا کو بتایا کہ”خطبہ حجۃ الوداع ” دراصل انسانی حقوق کا ایک پرفکٹ چارٹر ہے کہ آج تک کوئی بھی انسانی حقوق کمیشن نے اس سے آگے ایک لفظ بیان نہیں کر پایا، اس طرح یہ ساری دنیا والوں کے لیے ایک مکمل پیغام (ضابطہ حیات) ہے.” لو لاک کی کم نہ ہونے والی شہرت کے نتیجے میں اس کا ترجمہ ہندی اور گجراتی کے بعد کنڑا، انگریزی اور بنگالی زبان میں بھی کیا جارہا ہے.
جناب چندربھان خیال نے حضرت محمدﷺ کی سیرت سے متعلق میڈیا کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ” حضرت محمدﷺ کی زندگی ہمیں محبت کرنا سکھاتی ہے، بھائی چارہ، اخوت، قومی یکجہتی کے ساتھ زندگی گزارنے، آگے بڑھنے، تعمیر و ترقی کے نئے راستوں سے روشناس کرتی اور خوش حالی کی جانب لے جاتی ہے. حضرت محمد ﷺ نے دنیا کو اہنسا اور عدم تشدد کا پیغام دیکر ایک پُرامن معاشرے کی تشکیل کو یقینی بنایا یہی حضرت محمد ﷺ کی زندگی کا سب بڑا پیغام ہے. ” جناب چندربھان خیال کا یہ دعویٰ ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے صرف ہدایات اور اُپدیش ہی نہیں دئے بلکہ اپنی عملی زندگی سے ثابت قدمی اور صبر و تحمل سے اہنسا پر عمل کیا.” جس کے نتیجے میں رسولﷺ کو بڑی تکلیفیں، اذیتیں اور ظلم برداشت کرنا پڑا، انہوں نے پُر زور لفظوں میں کہا کہ ” دنیا میں صرف ایک حضرت محمد ﷺ ہی ایسے مہاپرش پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے جو بیان کیا اس پر خود پوری ثابت قدمی سے عمل بھی کیا. لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ صرف درس دینا اور عمل کرنا الگ الگ اور انتہائی مشکل کام ہے. حضرت محمدﷺ پر کئے گئے ظلم و زیادتی کے واقعات جانکر آنکھوں میں آنسو نکل پڑتے ہیں یہ سب کچھ برداشت کر کے حضرت محمد ﷺ نے دنیا کو یہ درس دیا کہ اہنسا ہے تو امن ہے، اہنسا ہے تو کامیابی ہے، تاہم جب ظلم و زیادتی اور ناانصافی اور عدم مساوات حد سے بڑھ جائیں تو ہتھیار اٹھانے کا حکم ہر مذہب نے دیا ہے. مہابھارت اور رامائن نے بھی اس صورتِ حال پر کہ جب ارجن نے یہ کہہ کر ہتھیار ڈال دیئے کہ مقابل میں سب عزیز و اقارب ہیں انہیں کس طرح مارا جائے. لیکن شری کرشن نے آدھرمیوں کو جو ظالم اور ناانصافی کرنے والے ہیں انہیں مارنا دھرم کا فرض قرار دیا اور بتایا کہ ظلم اور ناانصافی بھی نہیں سہنا چاہیے یہ سب دھرموں کی تعلیم ہے اور دنیا میں امن کو یقینی بنانے کے لئے یہ بیحد ضروری ہے.
ہندوستان کی مشترکہ گنگا جمنی تہذیب کے امین چندر بھان خیال کی پیدائش 13 / اپریل 1946 کو قصبہ بابئی مدھیہ پردیش کے ہوشنگ آباد میں کنج بہاری لال کے یہاں ہوئی۔ چندر بھان خیال بابئی سے ہندی میڈیم میں ہائر سکنڈری تک کی تعلیم حاصل کی۔ 1964ء میں ہوشنگ آباد کے نربدر ڈگری کالج، ساگر یونیورسٹی سے گریجوایشن کیا اور اردو دنیا میں شاعر و صحافی کی حیثیت سے اپنی شناخت بنائی۔ بابائے قوم مہا تما گاندھی نے قصبہ بابئی میں قدم رنجا ہوکر اسے ایک تاریخی حیثیت کا درجہ بخشا ہے۔ جبکہ ہندی کے شاعر، ادیب و صحافی پنڈت ماکھن لال چترویدی کا تعلق بھی اسی سر زمین سے ہے. تاہم اردو زبان و ادب کے لیے بابئی ایک صحرائے بے آب و گیا سے ہرگز کم نہ تھی جہاں 1960ء میں گاؤں کے اسکول ٹیچر جی ایم خان گمراہ کی نگرانی میں ”جگدیش واچنالیہ” کے نام قائم لائبریری کے فیوض و برکات نے چندر بھان خیال کے ذہن و دل میں اردو زبان کا ایسا بیج بویا کہ جو آج ایک سر سبز و شاداب پھلدار تناور اور عظیم درخت بن گیا ہے کہ جس کا گھنہ سایہ نہ صرف بابئی بلکہ سارے جہانِ اردو کو اپنے شعر و سخن کے رنگا رنگ، دیدہ زیب برگ وگل سے نہ صرف رونق بخشی بلکہ عالمِ اردو ادب کو دُور دُور تک ایسا معطر کردیا ہے کہ جس کی مسحور کن خوشبو سے قارئین و سامعینِ اردو زبان و ادب ہر چار سو مخمور و بدمست ہیں. گویا جی ایم خان گمراہ نے چندر بھان خیال کو جنتِ اردو کی سیدھی راہ دکھائی تھی۔
1966ء میں چندر بھان خیال نے فراق گورکھپوری کے منحر ف شاگرد پنڈت رام کرشن  مضطر سے ملاقات کی اور ان کے حضور زانوے تلمذ طے کیا. یہ بات بھی بڑی خوش نصیبی کی ہے کہ ہندوستانی روایات کا پاسدار ممتاز شاعر و ادیب رگھو پتی سہائے فراقؔ گورکھپوری نے ہی چندر بھان خیال کو خیالؔ تخلص عطا کیا تھا۔ چندر بھان خیال نے اپنے صحافتی سفر کا آغاز روزنامہ ”تیج” سے کیا اور بعدازاں انہوں نے ” سویرا ”، ” قومی آواز” اور دیگر اخبارات میں اپنی صحافتی خدمات انجام دیں۔ ان کی صحافت سے وابستگی بھی اس بات کی دلیل ہے کہ چندر بھان خیال کو نثر و نظم دونوں میں قدرت و کمال حاصل ہے۔ چندر بھان خیال کی غیر معمولی صلاحیتوں اور ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی کا بھی وائس چیئرمین مقرر کیا گیا تھا۔
اردو شعر و سخن بالخصوص نظمیہ شاعری میں انھوں نے شہرتِ دوام حاصل کی ہے ان کی تصانیف میں(1) شعلوں کا شجر (نظموں کا مجموعہ، 1979)،(2) گمشدہ آدمی کا انتظار (نظموں کا مجموعہ، 1997)،(3) کمار پاشی: شاعری اور شخصیت (1997) (4) سلگتی سوچ کے سائے (مجموعہ کلام، 2002، ہندی میں)(5) لولاک (حضرت محمدﷺ کی سیرت پر مبنی طویل نظم، 2002)(6) صبح مشرق کی اذاں (مجموعہ کلام، 2008)(7) کلیات کمار پاشی (2014)، (8) احساس کی آنچ (مجموعہ کلام، 2015)اور (9) تازہ ہوا کی تابشیں (مجموعہ کلام 2019).(10) Under the Sun (انگریزی میں ترجمہ شدہ نظموں کا مجموعہ، 2019) شائع ہو کر منظرِ عام پر آچکے ہیں۔ چندر بھان خیال کی فکر و فن پر اردو کے کئی موقر رسالوں نے ان کی ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے یادگار خصوصی نمبر شائع کئے وہیں پر بین الاقوامی اور ملک کے قومی و ریاستی اداروں نے انہیں انعامات واعزازات سے بھی نوازا ،ملاحظہ فرمائیں کہ مدھیہ پردیش حکومت کا اقبال سمّان (10-2009) ساہتیہ اکادمی اور سیم سنگ انڈیا کا ٹیگور لٹریچر ایوارڈ (2010) اتر پردیش اردو ساہتیہ کمیٹی ایوارڈ۔ بین الاقوامی نعتیہ شاعری کا نفرنس (ایران) کا خصوصی ایوارڈ۔ آل انڈیا یونانی طبی کا نفرنس ایوارڈ برائے قومی یکجہتی۔ نیوفینس ایوارڈ برائے ” لولاک” ۔ دہلی اردو اکادمی ایوارڈ برائے شاعری ۔ مدھیہ پردیش اردو اکادمی کا ”شعری بھوپالی ایوارڈ” برائے شاعری۔ یوپی اردو اکادمی ایوارڈ برائے شاعری۔ دیگر دوسری عالمی اردو کانفرنس (1988) نئی دہلی کا اعزازی سکریٹری، دہلی اردو اکادمی گورننگ کونسل کے دو مرتبہ ممبر نامزد ۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، حکومت ہند کے وائس چیئر مین (2011-2008)، ایگزیکٹیوممبر، ساہتیہ اکادمی، حکومت ہند نئی دہلی، کنوینئر و رکن، اردو مشاورتی بورڈ، ساہتیہ اکادمی، حکومت ہند نئی دہلی، رکن، اردو مشاورتی بورڈ نیشنل بک ٹرسٹ آف انڈیا، حکومت ہند نئی دہلی، ساہتیہ اکادمی ایوارڈ 2021ء جیسے اعزازات و انعامات سے سرفراز کیا جانا ان کی صلاحیتوں کا اعتراف ہے کہ انہوں نے اپنی شعری، نثری اور صحافتی خدمات سے اردو ادب میں ایک بلند پایہ مقام و مرتبہ کے حامل ہیں۔
جناب چندر بھان خیال کا تعلق مجتبٰی حسین کے انتہائی مخلص ترین احباب میں ہوتا ہے جو زندگی کے آخری ساڑھے چار دہائیوں تک ساتھ رہے جس کا ذکر چندر بھان خیال نے احقر (ماجد داغی) کو لکھے ایک مکتوب میں کیا ہے کہ ’’مجتبی حسین صاحب سے مجھے سب سے پہلے 1975ء میں مرحوم فکر تونسوی صاحب نے ملاپ اخبار کے دفتر میں ملوایا تھا. ان دنوں فکر صاحب ملاپ کے لئے یومیہ کالم ” پیاز کے چھلکے ” لکھ رہے تھے۔ اس کے بعد مجتبی حسین صاحب سے ہر روز شام کو کہیں نہ کہیں ملاقات ہوتی رہی. وہ عمر میں مجھ سے 10سال بڑے تھے لیکن کبھی چھوٹا نہیں سمجھا‘‘(” مجتبیٰ حسین نمبر” انجمن 13 صفحہ نمبر 439) چندر بھان خیال کی شاعری کا رنگ و آہنگ ان کے معاصرین میں اپنی الگ پہچان رکھتا ہے۔ سماج میں طبقاتی درجہ بندی، معصوم، مظلوم اور کمزور کے ساتھ انصاف رسانی میں غفلت، عورت کے استحصال جیسے شعری موضوعات ان کے سینے میں موجود ایک درد مند دل کی کربناکی، پریشانی اور اضطرب کا مظہر ہیں اور سماج کی ان ناہمواریوں کے خلاف چندربھان خیال کی لڑائی بصورتِ ادیب و حساس شاعر اور ایک ذمہ دار صحافی جاری ہے۔

*******

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے