غزل

دسمبر 21, 2024
      ذکی طارق بارہ بنکوی
   سعادتگنج، بارہ بنکی، یوپی انڈیا
بس تری یادوں میں ہم غرق رہا کرتے ہیں
اس طرح جان ترے بعد جیا کرتے ہیں
یاد آتے نہیں اندازِ ستم اب ان کے
دل کے زخموں کو چلو پھر سے ہرا کرتے ہیں
پر سکوں اور یہ خاموش سا من ہے جو مرا
اس میں طوفان بھی رہ رہ کے اٹھا کرتے ہیں
تم بہت سوچ سمجھ کر ہمیں کھونا یارو
ہم جدا ہو کے نہیں پھر سے ملا کرتے ہیں
کتنے انمول گہر ہیں جو مری پلکوں پر
دردِ تنہائی کی ٹیسوں سے سجا کرتے ہیں
انتظاروں کا فقط لوٹتے رہتے ہیں مزہ
ہم کہاں وصل کے چکر میں پڑا کرتے ہیں
جانتے ہیں کہ وہ ہرگز نہیں آنے والا
ایک ٹک اس کی مگر راہ تکا کرتے ہیں
یہ ہیں مرجھاتے اسی پر ہی وفا تو دیکھو
جس پہ نازک سے حسیں پھول کھلا کرتے ہیں
حسنِ اخلاق کا میرے ذرا دیکھو تو اثر
میرے دشمن بھی مرے حق میں دعا کرتے ہیں
اپنی مرضی سے جب اک سانس بھی لے سکتے نہیں
آخرش کس لئے ہم اتنا اڑا کرتے ہیں
بن گیا عشق "ذکی” پیار ہمارا کب کا
اس کا ہم جسم نہیں روح چھوا کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے