میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک۔

لے کے جب آیا حور کی کوڑی
ہم نے بھی پھینکی دور کی کوڑی

جل چکی کوہ طور کی کوڑی
لئے بیٹھا میں نور کی کوڑی

خود کو اعلیٰ سبھی سے مانتا تھا
اس میں بھی تھی فتور کی کوڑی

میری قسمت میں چین لکھا ہے
پی رہا ہوں سرور کی کوڑی

لوگ کرنے لگے ہیں استفسار
ٹوٹے گی کیا غرور کی کوڑی

کہہ نہیں سکتا میں کسی سے میرؔ
نکلی میرے قصور کی کوڑی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے