ذاکر حسین

بانی:الفلاح فاؤنڈیشن (بلڈ ڈونیٹ گروپ) 

مجھے پتہ ہے، میں جس راہ پر چل رہا ہوں، اس راہ پر چلتے ہوئے نہ میں کبھی بہت پیسے والا بنوں گا، شاید زندگی میں کبھی بہت سکون بھی میسر نہ ہو۔لیکن مجھے خوشی ہے کہ میں ایک بدلاؤ کیلئے جدوجہد کر رہا ہوں، اور وہ بدلاؤ ہی میری زندگی کی کمائی اور جمع پونجی ہوگی۔رات تقریباً دو بجے، جب سرد ہوائیں موسم کو مزید ٹھنڈا کر رہی تھیں، وہ انہیں خیالات میں ڈوبا اندھیرے میں گھورے جا رہا تھا کہ اچانک دور کہیں سے گاڑیوں کے ٹکرانے کی آواز آئی، آواز بہت تیز اور خوفناک تھی۔ وہ غنودگی کی کیفیت سے باہر آیا، گرم بستر کی بھی پرواہ نہیں کی اور وہ ایک چھلانگ میں گھر کی دہلیز عبور کر چکا تھا۔ مین شاہراہ تک پہنچنے میں اسے مشکل سے پانچ منٹ لگے ہونگے۔ جائے وقوعہ پر گہرا سناٹا پسرا تھا اور اندھیرے کی وجہ سے کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ وہ موبائل کی روشنی میں آگے بڑھا اور اسے اچانک کسی کے کراہنے کی آواز آئی، وہ آواز کی طرف لپکا۔ پاس گیا تو ساری میں ملبوس ایک خاتون خون سے لت پت گہرے سانس لے رہی تھی۔ آس پاس خون کا گہرا دھبہ یہ بتانے کیلئے کافی تھا کہ زخم زیادہ ہے اور جلد از جلد اسپتال تک اسے نہ پہنچایا گیا تو وہ دم توڑ دے گی۔ انھیں خیالات میں الجھا تھا کہ پیچھے سے کرب بھری۔ پانی۔۔ پانی ۔۔ کی آواز نے اس کی الجھن میں مزید اضافہ کر دیا۔ اس وقت پانی کہاں سے لائے۔۔۔؟ حالات کنٹرول سے باہر ہوتے دیکھ اس نے تنظیم کے رضاکار معاذ کو کال لگایا۔۔۔ تیسری کوشش میں معاذ نے فون اٹھایا۔۔ بھرائی ہوئی آواز میں وہ مخاطب ہوا۔۔ اس نے جلدی جلدی تمام سچویشن کا ذکر کیا۔۔ اور فون کٹ کر زخمی خاتون کیلئے پانی لانے چلا گیا۔۔ آگے بڑھا تو گاڑی کا ایک ٹائر مین شاہراہ کے بیچوں بیچ پڑا حادثے کی سنگینی کا پتہ دے رہا تھا۔ شاید کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ وہ من ہی من سوچ کر نل سے پانی بھرنے لگا۔۔ اسی درمیان دور اندھیرے کو چیرتی ہوئی بائک کی ہیڈ لائٹ اس کے نزدیک آکر رکی۔۔ سامنے معاذ تھا۔ دونوں نے مل کر زخمی خاتون کو پانی پلایا اور الفلاح کے دیگر رضاکار سمیر، ذکی، باسط، انعام وغیرہ کو کال کر بلایا گیا۔ اس وقت گھڑی کی سوئی تین کا ہندسہ پار کر رہی تھی۔ یہ لوگ اپنی گاڑی سے تمام زخمیوں کو اسپتال لیکر بھاگے۔۔ کل زخمیوں کی تعداد پانچ تھی۔ جن میں دو خواتین تھیں۔ اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ سے نکلتے ہوئے ڈاکٹر نے کندھے اچکائے اور نوجوانوں سے مخاطب ہوا ۔۔ چار مریضوں کو ایمرجنسی دو ، دو یونٹس خون کی ضرورت ہے۔ یہ مسئلہ ان کیلئے بڑا نہیں تھا۔ بلڈ بینک کے عملہ سے بات کرکے بھی خون کا انتظام کرایا جا سکتا تھا۔ لیکن سمیر، ذکی اور انعام نے اپنا خون ڈونیٹ کیا۔ باقی یونٹس بلڈ بینک سے بطور قرض لئے گئے۔ مریضوں کو خون چڑھ رہا تھا۔

تقریباً پون گھنٹہ بعد ڈاکٹر پھر نمودار ہوا۔ وہ مسکراتے ہوئے نوجوانوں سے مخاطب ہوا۔ سارے مریض خطرے سے باہر ہیں۔ آپ لوگوں نے کمال کر دیا۔۔۔ ویسے ان کے گھر والوں کو فون کر دیا گیا ہے۔ وہ لوگ آرہے ہیں، اور آپ لوگوں سے ملنا چاہتے ہیں۔ تقریباً ایک گھنٹہ بعد اسپتال کی راہداری میں جوتے کی دھمک کی آواز آئی۔ کچھ ہی دیر میں آدھا درجن بندوق برداروں کے ساتھ ایک قدر آور شخص پیشانی پر زعفرانی رنگ کا گہرا ٹیکہ لگائے نمودار ہوا۔ کرخت لہجے میں شائستگی اور محبت کی آمیزش کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے وہ نوجوانوں سے مخاطب ہوا۔ ہاں جی۔۔ کون لاڑیا، اسپتال میرے لوگوں کو۔۔۔ ان میں سے شرجیل ہلکے انداز میں مخاطب ہوا۔۔ جی، جی ہم لوگ لیکر آئے۔ لہجے میں جھجک اور گھبراہٹ کو صاف محسوس کیا جا سکتا تھا۔ جی تم سب میرے خاص ہو گئے ہو جی۔۔ خون دیا، اسپتال لائے۔ کن کن چیزوں کا میں احسان اتاروں گا جی۔۔ یہ کہتے ہوئے وہ شرجیل کو گلے لگا لیا۔ بہت دیر تک گلے لگنے کے بعد اس نے سب سے ان کے نام پوچھے۔۔۔ سب کے نام سن کر اس کے چہرے پر ایک رنگ آکر چلا گیا۔ جی، یارا۔۔ تم سب مسلمان ہو۔۔؟ جی، مسلمان ہیں. شرجیل پھر گویا ہوا۔۔ کچھ دیر تک وہ ان کو ایسے دیکھتا رہا، جیسے آنکھوں میں جان ہی نہ ہو۔۔ بالکل سپاٹ۔۔ نہ کوئی احساس نہ کوئی جذبات۔۔ ۔ ۔ کچھ لمحے بعد بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔۔۔ آج انسانیت جیت گئی۔ نفرت ہار گئی۔۔ اس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔۔ دور کہیں سے آواز آرہی تھی۔۔ حی علی الفلاح۔۔ آؤ کامیابی کی طرف۔۔۔ رات کے اندھیرے پر صبح کی سپیدی نے دستک دے دی تھی۔ وہ سب جیسے سکتے کے عالم میں کھڑے اس شخص کو گھورے جا رہے تھے۔ کچھ دیر بعد اس نے اپنے ہوش سنبھالے۔۔ پھر وہ مخاطب ہوا۔۔ لڑکو! ہمارے آدمی تم سب کو گھر تک ڈراپ کر دیں گے۔۔ میرا نمبر رکھو۔۔ اس نے اپنا ویزیٹنگ کارڈ آگے بڑھایا۔۔ شرجیل نے اسے بلا تکلف تھام لیا۔ اور آگے بڑھ گیا۔ اس کی چال میں لڑکھڑاہٹ تھی۔ رات بھر جگا اور شاید رات میں کچھ کھایا بھی نہیں تھا۔

لیکن جنون تھا، انسانیت کو بچانے کا اور اس میں آج پھر وہ کامیاب ہوگیا تھا۔ اسپتال سے باہر نکلا تو دور کسی اور مسجد سے مؤذن آواز لگا رہا تھا۔۔ حی علی الفلاح۔۔ وہ سب مسجد کی تلاش میں آگے بڑھ گئے۔شرجیل کی آنکھ دوپہر دو بجے کھلی۔ برآمدے میں والد محترم ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ اچانک وہ ٹھٹک گیا۔ ٹی وی اسکرین پر وہ شخص مونچھوں پر تاؤ دیتے ہوئے خاتون صحافی سے مخاطب تھا اور اپنے ماضی کیلئے بالخصوص مسلمانوں کیلئے اپنے نفرت انگیز بیان کیلئے پورے ملک کے لوگوں سے معافی مانگ رہا تھا۔ اس نے جب رات ہوئے حادثے کا ذکر کیا تو شرجیل اٹھ کر سیدھا بیٹھ گیا۔ دیکھئے۔ جی۔۔ دنیا میں انسانیت سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔۔ دیکھئے نہ۔ میں مسلمانوں کے خلاف کتنا غلط بولتا تھا۔ لیکن کل رات میرے پریوار کے لوگوں کو مسلم نوجوانوں نے نئی زندگی دی۔ اس کے بعد تفصیل میں شرجیل اور اس کی تنظیم الفلاح سے وابستہ نوجوانوں کے کارنامے کا ذکر صحافی کر رہی تھی۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اور ادھر شرجیل کے والد محترم شرجیل کی طرف دیکھ کر فخریہ مسکرائے۔ شرجیل من ہی من بڑبڑایا۔۔ بدلاؤ آگیا۔۔۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے