بیجاپور ۔ 14؍جنوری (محمدیوسف رحیم بیدری): ادارۂ ادبِ اسلامی ہند کرناٹک، شاخ بیجاپور کی جانب سے بروز ہفتہ بتاریخ11؍جنوری 2025 ایک روزہ ادبی کانفرنس اور عظیم الشان کُل ہند مشاعرہ منعقدہوا۔ریاستی ادبی کانفرنس کا مرکزی موضوع ” اردو ادب میں عصری حسیت ” تین نشستوں افتتاحی ، نشست اول اور دوم پر مشتمل رہا جو صبح 10 تا شام ساڑھے چار بجے تک جاری رہا۔جناب بشیر احمد سوداگر کی تلاوت قرآن سے اجلاس کا آغاز ہوا۔صدرِ ادارہ بیجاپور جناب محمود انعمدار محمودؔ نے مہمانان اور مقالہ نگار کا استقبال کیا، گل پیش کرتے ہوئے ان کی شالپوشی کی گئی اور مومنٹو بھی دیاگیا ۔ بیجاپورادارہ کے سیکریٹری جناب آصف بالسنگ نے تمام مہمانوں اورمقالہ نگاران کا تعارف پیش کیا۔ اس اجلاس میں ادارء ادب اسلامی ہند، کرناٹک کے نائب صدر جناب یوسف رحیم بیدری اورجناب محبوب علی بلگانور صاحب امیرمقامی جماعت اسلامی ہند بیجاپور بطور مہمانِ خصوصی شامل رہے اور خطاب کیا جبکہ جناب ابو نبیل خواجہ مسیح الدین نائب صدر برائے جنوبی ہندنے کلیدی خطبہ پیش کیا۔ جناب فیاض قریشی نے افتتاحی اجلاس میں صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے افتتاحی اجلاس کو یادگار قرار دیا۔اوراردو زبان کے لئے کام کرنے کی ضرورت پر زوردِیا۔ ڈاکٹر سید علیم اللہ حسینی صدر شعبہ ء اردو انجمن ڈگری کالج بیجاپور کی زیرصدارت پہلا اجلاس عمل میں آیا جس میں ڈاکٹر فوزیہ رباب گوا نے ” اردو شاعری میں عصری حسیت ” عنوان پر اپنا مقالہ پیش کیا اور دوسرا مقالہ ” اردو نثر میں طنز و مزاح کی عصری حسیت ” ڈاکٹر ثنا اللہ شریف بنگلور رکن مجلس منتظمہ ادارہ ادبِ اسلامی ہند کرناٹک نے پیش کیا۔ اجلاس دوم کا آغاز مومنؔ بیجاپوری کے پیش کئے گئے اقبال کے ترانے سے ہوا اور جناب رضوان احمد رضوان نے اپنا تحریرکردہ افسانہ ” جنون” پیش کیا، اس اجلاس میںڈاکٹر فرزانہ فرح نے اپنا مقالہ بعنوان ” اردو افسانوں میں عصری حسیت ” پیش کیا جبکہ ڈاکٹر محمدسمیع الدین پروفیسرسکیاب وومنس ڈگری کالج بیجاپور نے ”عصرِ حاضر میں اردو زبان کی اہمیت و ترویج ”کے عنوان پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ جناب ابو نبیل خواجہ مسیح الدین نے صدارت کے فرائض انجام دیئے ۔انہوں نے اپنے صدارتی کلمات میں اجلاس کو تاریخی اجلاس قرار دیا،بعد ازاں شام ساڑھے چھ بجے جناب سید محمود انعمدار محمودؔ کی صدارت میں ایک کامیاب کُل ہند عظیم الشان مشاعرہ کا آغازتلاوت کلام پاک اور نعت شریف سے ہوا جس میں ابراہیم ایازؔ حیدر آباد، شاذؔ رمزی ممبئی، ڈاکٹر فوزیہ ربابؔ گوا، ڈاکٹر فرزانہ فرح بھٹکل، ابونبیل خواجہ مسیح الدین حیدرآباد، لطیف الدین لطیفؔ حیدرآباد، میرؔ بیدری بیدر، طاہر گلشن آبادی حیدرآباد،اور گلبرگہ سے ڈاکٹر سخی سرمست جیسے مشاق شعراء نے اپنے کلام سے سامعین کو خوب خوب محظوظ فرمایا۔ مہمان شعرا کے ساتھ ساتھ میزبا ن شعرا ء محترمہ مہرالنساء مہروؔ،جناب مومن ؔبیجاپوری ،جناب عبدالقدیر ساحل ؔ،جناب قمرمرتضیٰ ،محترمہ عشرت جہاں زیبؔ، ڈاکٹر امیرالدین امیرؔ،جناب اقبال خادم ؔ، ڈاکٹر عبدالستارعاجزؔ،جناب مجیب احمد مجیب ؔ،جناب رضوان احمد رضوان ؔ،جناب عمربیجاپوری اورجناب امیرحمزہ رازؔکے علاوہ مشاعرے کے صدر جناب سید محمود انعامدارصدر ادارہ ء ادبِ اسلامی ہند بیجاپوریونٹ نے اپنااپناکلام سناکرایک سماں باندھ دیا ۔ سامعین سے ہال بھرا ہوا تھا ۔ وہ شعرا کے کلام پر خوب داد پیش کرتے رہے۔مشاعرے میں شہر کے معزز سیاسی رہنما اور قومی و ملت کے خدمت گذار ، اُردو شعر و ادب کی با ذوق شخصیات مردوخواتین ڈاکٹر مقبول باغبان سابق ایم ایل اے ، جناب ایل ایل استاد، جناب عبدالرزاق ہورتی ، جناب محمد رفیق ٹپال وغیرہ وغیرہ نے اس آل انڈیا مشاعرے کو رونق بخشی۔مشاعرے سے قبل کندگل ہنومنتھ رائے رنگ مندر بیجاپور میں ہونے والے افتتاحی پروگرام کی صدارت جناب فیاض قریشی صدرادارہ ء ادبِ اسلامی ہند کرناٹک نے انجام دی۔جب کہ اس آل انڈیا مشاعرے کی نظامت جناب سیف اوٹی اور جناب مزمل ملا دونوںنے بخوبی انجام دئیے ، دونوں کی نظامت کو کافی پسند کیاگیا۔ مزمل ملا جس تیز رفتاری اوراونچی آوازسے نظامت کرتے ہیں ، وہ ہرکسی کوحیرت میں ڈال دیتاہے ،دوسری طرف وقاراور متانت سے سیف اوٹی نظامت کرتے رہے ۔ دونوں کی نظامت کو مہمان شعراء اور عوام نے کافی سراہا۔ ادارہ کے مخلص اور سرگرم سیکریٹری جناب آصف بالسنگ نے شعرا ء اور مہمانان کا استقبال کیا۔تمام شعراء کی شالپوشی اور گلپوشی کی گئی۔سیف اوٹی کے شکریہ پر مشاعرہ اختتام کوپہنچا۔ منتظمین میں جناب آصف بالسنگ ، جناب عمر بیجاپور ی اور دیگر کے چھوٹے اور بڑے فرزندان نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اس طرح ادارہ ء ادبِ اسلامی ہندبیجاپور کی تاریخ کا یہ سب سے اہم مشاعرہ اور سب سے بڑی کانفرنس قرار پائی۔
