مکرمی
پڈرونہ، کشی نگر کے جامعہ رحمانیہ اسلامیہ، رحمان نگر، سیمراہردو،ضلع کشی نگر میں دارالعلوم ندوۃ العلماء کے ناظرعام پندرہ روزہ عربی جریدہ کے ایڈیٹر ملک کے معروف وجیدعالم دین مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندوی کے سانحۂ ارتحال پر ایک تعزیتی جلسہ ہوا، جس میں سارے اساتذہ ،طلبہ وطالبات نے شریک ہوکرمرحوم کے لئے قرآن خوانی کرکے ایصال ثواب کیا اوردعائے مغفرت کی ،جس کا آغاز شعبۂ حفظ کے طالب علم عزیزم حافظ شوکت علی کے تلاوت کلام پاک سے ہوا ،اس کے بعد سربراہ جامعہ رحمانیہ اسلامیہ مولانا احمدکمال عبدالرحمن ندوی نے بڑے افسوس ورنج وغم کے ساتھ اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ندوہ کے ایک طالب عزیز مولوی رمیض عرفان خان کے فون سے معلوم ہوا کہ موصوف کا ایک سڑک حادثہ میں انتقال ہوگیا ، تھوڑی دیر کچھ سمجھ میں نہیں آیا مگر بعد میں یقین کرنا پڑا ،مگر یہ ناگہانی حادثہ مجھ جیسے مریض کے قلب ناتواں پر بجلی بن کر گرا، گو مرحوم سے میری ملاقات کم ہی رہی مگر مہمان خانہ میں جب بھی ملاقات ہوئی بڑی خندہ پیشانی اور خاکساری سے ملتے اور ان کو دیکھ کر ان کے والد ماجد حضرت مولاناواضح رشید ندویؒ کی یاد تازہ ہوجاتی، مرحوم علم وفکر، زہدوتقویٰ ، اور جدیدصحافت میں اپنے والد کے ترجمان تھے، ان کے والد کے دہلی میں قیام کے درمیان ابتدائی تعلیم مدرسہ نصرت الاسلام میں ہوئی جہاں انہوں نے حفظ اور عربی درجات کی تعلیم حاصل کی،اس کے بعد عالم اسلام کے مشہور دیبی درسگاہ دارلعلوم ندوۃ العماء میں داخل ہوکرحفظ کی تکمیل کی اور عالمیت اور فظیلت کی ڈگری حاصل کی ، عربی ادب میں لکھنؤ یونیورسٹی سے ایم اے کیا،اس کے بعد ٹیچر ٹریننگ کورس جامعۃ الامام ابن سعود ریاض سے کیا، وطن واپسی پر اپنی علمی زندگی کا آغاز ندوۃ العلماء کے شاخ مدرسہ عرفانیہ اکبری گیٹ نخاس لکھنؤ میں درس وتدریس سے کیا ،جن کا موضوع تفسیر، حدیث اور فکر اسلامی تھا، وہاں سے سبکدوش ہونے کے بعد ارباب ندو ہ کے مشورہ سے ندوہ تشریف لائے اور یہاں ایک کامیاب وماہر استاد کی طرح اپنا تدریسی فریضہ انجام دینا شروع کردیا، مگر ان کی صحافت اور قلم وتحریر میںپختگی اور ایک ماہر ادیب کی طرح خدمت انجام دینے کی وجہ سے ان کو پندرہ روزہ عربی جریدہ کا ایڈیٹر بنایا گیا اور پھر اس کے بعد یہ ناظرعام بنائے گئے، ابھی چند ہی سال خدمت انجام دے پائے تھے کہ اس المناک حادثہ کا شکار ہوگئے جبکہ ارباب ندوہ کو ان سے بہت زیادہ توقعات وابستہ تھیں مگر اللہ کو منظور نہیں تھا مرحوم دارفانی سے کوچ کرگئے،انا للہ وانا الیہ راجعون، اللہ تعالیٰ مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے،جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ، اوران کے سارے پسماندہ گان، خانوادہ حسنی ،ارباب ندوۃ اور خاص طور پر ان کے بھائی ناظم اعلیٰ مولانا سید بلال حسنی ندوی اورحضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے ۔
اس کے بعد شعبۂ حفظ کے صدر مدرس قاری محمد جبریل کے دعائیہ کلمات سے اختتام ہوا جس میں خاص طور پر حافظ مظفر حسین، ماسٹر صدرعالم،حافظ اخلاق، حافظ مرسلین،مولوی اسامہ رحمانی، ماسٹر محمد، بشیرالدین وغیرہ شریک رہے۔
مولانا اے۔ کے۔ رحمانی
قومی نائب صدر مسلم پولٹیکل کاونسل آف انڈیا
حجاز منزل ، کسیا،کشی نگر،یوپی
