مکرمی
دارالعلوم ندوۃ العلماء کے ناظر عام ،پندرہ روزہ عربی جریدہ الرائد کے ایڈیٹر مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندویؒ کا ایک سڑک حادثہ میں بروز بدھ شام ۷بجے انتقال ہوگیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ یہ حادثہ مجھے ندوہ کے ایک طالب عزیزم مولوی رمیض عرفان خان کے فون کے ذریعہ ملی، یقین نہیں ہو رہا تھا مگر یقین کرنا پڑا۔ یہ خبر مجھ جیسے بیمار شخص کے قلب ناتواں پر بجلی بن کر گرپڑی، وجود کو ہلا کر رکھ دیا، بہرکیف یہ اللہ کا فیصلہ ہے کل شیء عندہ بمقدار۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، بال بال مغفرت فرمائے، سارے تعلیمی و تصنیفی کاموں کو ذخیرہ آخرت بنائے، خانوادہ حسنی کے سارے افراد اور ارباب ندوہ خاص طور پر مرحوم کے بھائی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا سید بلال حسنی ندوی اور حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی مہتمم ندوۃ العلماء کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے اور مرحوم کا نعم البدل عطا فرمائے۔

مولانا سید جعفر حسنی ندوی حضرت مولانا واضح رشید ندویؒ کے چشم چراغ، خانوادہ حسنی کے علم و تقویٰ کے پاسدار، مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ کے علوم کے ترجمان تھے، متانت و سنجیدگی، خاموشی، تقویٰ و پرہیز گاری جو اس خانوادہ کا طرۂ امتیاز ہے اس سے آراستہ تھے، مرحوم کی ابتدائی تعلیم آبائی وطن تکیہ رائے بریلی میں ہوئی جہاں انہوں نے حفظ کلام پاک اور ابتدائی تعلیم حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے دارالعلوم ندوۃ العلماء کا رخ کیا، جہاں سے انہوں نے ۱۹۸۱؁ میں  عالمیت کی اور ۱۹۸۳ء؁ میں فضیلت امتیازی نمبرات سے کی، اس کے بعد عربی زبان وادب میں۱۹۸۶ء؁ میں لکھنؤ یونیورسٹی سے ایم اے کیا، عربی زبان وادب کو مزید ترقی دینے کے لئے ۱۹۹۶ء؁  میںٹیچر ٹریننگ کا کورس جامعۃ الامام محمد بن سعود ریاض سے کیا، وہاں سے جب وطن واپس آئے تو علمی زندگی کا آغاز ندوۃ کی شاخ مدرسہ عرفانیہ نخاس لکھنؤ میں درس و تدریس سے کیا ان کا موضوع تفسیر وحدیث اور فکر اسلامی تھا وہاں سے ریٹایرڈ ہونے کے بعد ارباب ندوۃ کے اشارے پر ندوہ تشریف لائے اور یہاں درس وتدریس کے ساتھ ندوہ کا پندرہ روزہ اخبار الرائد کے ایڈیٹر مقرر ہوئے، ایک مدت تک خدمت انجام دیتے رہے، عربی زبان و ادب میں جہاں مہارت حاصل تھی وہیں ترجمہ کرنے میں اپنے اسلاف کی یاد گار تھے، جس کا نتیجہ یہ ہے، عربی مضامین و مقالات کے ساتھ جہاں کتابیں تصنیف کی وہیں درجنوں اہم کتابوں کا اردو سے عربی اور عربی سے اردو میں ترجمہ کیا، میری ملاقات مرحوم سے کم رہی مگر جب بھی ندوہ جانا ہوتا تو مہمان خانہ میں ملاقات ہوتی، بڑی خندہ پیشانی اور خاکساری سے ملتے، ان سے ملنے پر ان کے والد مرحوم حضرت مولانا سید واضح رشید ندوی کی یاد آجاتی تھی۔

’’تم کیا گئے کہ سب کو رلا کر چلے گئے‘‘۔

ارباب ندوہ کو مولانا سے کافی امیدیں وابستہ تھیں کیونکہ مولانا ابھی ابھی ناظر عام کے عہدہ پر فائز ہوئے تھے ، بڑی جانفشانی سے اپنی ذمہ داریاں ادا کررہے تھے، امید تھی کہ اللہ تعالیٰ ابھی ان سے کام لے گا مگر وہ سب کو سوگوار چھوڑ کر رخصت ہوگئے، ان کی وفات سے ایک خلا پیدا ہوا ہے جس کا پر ہونا بظاہر مشکل ہے جو ارباب ندوہ کے لئے باعث تشویش ہے مگر اللہ تعالیٰ اس خانوادہ حسنی کو بڑی خوبیوں سے نوازا ہے اور اسی کو مردم خیز بنایا ہے، انشاء اللہ ضرور اس خانوادہ سے کوئی مرد مجاہد درخشاں ستارہ نمودار ہوگا جو واقعی مرحوم کی جانشینی کرے گا، و ما ذالک علی اللہ بعزیز۔

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

 

مولانا اے. کے. رحمانی

قومی نائب صدر مسلم  پولٹیکل کاؤنسل آف انڈیا

حجاز منزل ، کسیا، کشی نگر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے