مکرمی!
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے’’اُس بڑے عذاب سے پہلے ہم اسی دنیا میں (کسی نہ کسی) چھوٹے عذاب کا مزہ انہیں چکھاتے رہیں گے شاید کہ وہ اپنی (باغیانہ روش) سے باز آجائیں،اس سے بڑا مجرم کون ہوگا جسے اس کے رب کی آیات کے ذریعہ نصیحت کی جائے او ر پھر وہ ان سے پھرے،ایسے مجرموں سے تو ہم انتقام لے کر رہیں گے‘‘۔ (سورہ سجدہ ۲۱۔۲۲)
اللہ تعالیٰ کانظام عجیب وغریب ہے اللہ تعالیٰ ظالموں کو مہلت دیتا رہتا ہے اور ظالم جب ظلم کی ساری حدوں کو پار کرجاتا ہے تب اللہ تعالیٰ کی گرفت ہوا کرتی ہے مگر اس کی گرفت بہت سخت ہوتی ہے۔ ’’اس کی گرفت جہاں سخت ہے وہیںدردناک بھی‘‘ ’’ یہ اللہ کا قانون ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں‘‘ اگرہم ماضی بعید میںفرعون، نمرود،شداد، عادوثمود، قوم لوط اورقوم صالح کا جائزہ لیں تو یہ نظام روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ ان قوموں کوایک مدت مہلت دے کر جب گرفت کی تو بہت سخت گرفت کی ، یقینا اللہ کی گرفت سے کوئی باہر نہیں ہے۔
آج سپرپاور امریکہ نے اسرائیل کے ذریعہ فلسطینیوں کا قتل عام کررہا ہے، غزہ کو کھنڈر بناکر رکھ دیا ہے، فلسطینیوں کو شعب ابی طالب کی طرح محصورکردیا ہے، فاقہ کشی اور مرنے پر مجبورکردیا ہے، اسپتالوں کو برباد کرچکا ہے،پناہ گزین کیمپوں کو بم سے اڑارہا ہے،کئی لاکھ فلسطینیوں کو موت کے گھاٹ اتار چکا ہے اور کئی لاکھ کو نقل مکانی پرمجبور کردیا ہے، اس ظلم وبربریت کو دیکھتے ہوئے کلیجہ منھ کو آرہا ہے مگر ہمارے غیرت مند عرب ومسلم ممالک آج بھی اپنی عیاشیوں کے اندر مبتلا ہیںیا پھرخوشحال زندگی پر مگن ہیں اور ان کا فلسطینی دینی بھائی موت وزیست کی زندگی گذارنے پر مجبور ہے،ہمارے فلسطینی بھائی کا سۂ گدائی لیکر در درکی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں مگردادرسی کرتا کوئی نظر نہیں آتا سوائے بیان بازی کے، اللہ ان پر رحم فرمائے اور سیدھے راستے کی ہدایت دے۔
ہمارے فلسطینی بھائیوں کی حالت زار،ان پر ظلم وستم کے انبار،نسل کشی کی گھناونی سازش سب پر عیاں ہوچکی ہے،یقینا یہ صورتحال اللہ کے غضب بھڑکانے والی ہے،کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے ظلم وزیادتی اور عدل وانصاف کے بنا پر ہوا کرتے ہیںواقعی ہمارے فلسطینی بھائیوں کاجذبہ جہاداورمظلومیت نے اس قہر الٰہی کو دعوت دیا ہے جو آگ کی شکل میں سپرپاور ملک کے ترقی یافتہ شہرکو خاکسترکررہاہے، لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوچکے ہیں،اب اس کو یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ آگ کہاں سے لگی ہے،سارے امریکن اور یورپین ممالک حیرت زدہ  اورششدرہیں ،امریکہ جیسا سپر پاور ملک ابھی تک آگ پر قابو نہ پاسکا۔
 آگ بجھائے بجھنے  نہ پائے دنیا ہے حیران
اس سپر پاور کا صدر الیکشن جیتنے کے بعدجو پیغام دیا وہ عربی ممالک کیلئے خطرناک تو دوسری طرف زخمی فلسطینیوں پرنمک چھڑکنے کے مترادف ہے مگر اللہ تعالیٰ کے یہاں دیر ہے ادھیر نہیں۔
جہاں تک جان ومال کے نقصان کا معاملہ ہے تو بحیثیت مسلم ہم کو بھی تکلیف ہے مگر یہ قدرتی نظام’’ یہ تو زمانہ کے نشیب وفراز ہیں ہم لوگوں کے درمیاں گردش دیتے ہیں‘‘
کسی زمانہ میں روس سپر پاور ہوا کرتا تھا مگر اللہ تعالیٰ اس کی سرکوبی نہتھے افغانی مجاہدین سے کرائی اور روسی شیرازہ بکھر گیا اور اس کی فرعونیت خاک میں مل گئی۔
یہ قہر الٰہی درحقیقت مقام عبرت ہے ان سارے عربی ومسلم ممالک کے لئے جو اپنے اپنے خطے میں فرعون بنے بیٹھے ہیں،جہاں عریانیت وفحاشی عام ہو تی جارہی ہے ، رقص وسرورکے ادارے کھل رہے ہیں، ان کواپنا محاسبہ کرنا چاہئے ورنہ اس قسم کا قہر اللہ نہ کرے اللہ نہ کرنے ان ممالک پر ناز ہوسکتاہے کیونکہ اللہ کافیصلہ اسلام وکفر کی بنیاد پر نہیں بلکہ ظلم وزیادتی اور احکام الٰہی سے بغاوت  امراض خبیثہ کی بنا پر ہوا کرتا ہے اس سے سارے ممالک کو خبر دار ہوجانا چاہئے اور اپنا محاسبہ کرنا چاہئے ،ورنہ یہ حالات کسی بھی ملک میں کسی بھی وقت پیش آسکتے ہیں۔
اس قہر الٰہی نے امریکہ کے صدر ٹرمپ کو جنگ بندی کے لئے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لئے مجبور کردیا ہے جس کی حکمت عملی بھی شروع ہوچکی ہے، سیکورٹی ایجنسی کے افسران ــدوحہ ’’قطر‘‘کے لئے روانہ ہوچکے ہیں یہ جنگ بندی تین مرحلوں پرمشتمل ہوگی جس کے پہلے مرحلہ میں ایک خاتون اسرائیلی فوجی کے بدلے بیس فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا جب کہ اس وقت صرف۹۶ یرغمالی حماس کے قید میں ہیںجن میں سے اندازہ کے مطابق۶۲یرغمالی زندہ بچے ہیں۔
مولانا اے. کے. رحمانی
      قومی نائب صدر مسلم  پولٹیکل کاونسل آف انڈیا
    حجاز منزل ، کسیا،کشی نگر،یوپی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے