ابو احمد مہراج گنج

جب سے یہ خبر عام ہوئی ہے کہ "آئین اور دستور کی حفاظت کرنا ہر ہندوستانی پر فرض ہے” میرے کچھ ناقص العقل دوستوں نے سوالات کی لائن لگادی ہے ۔جس کا جواب دینے کے لیے وہ مجھے بار بار اکسا رہے ہیں کہ” تمہارے قائد اعظم نے فرائض کی فہرست میں ایک نئے فرض کا اضافہ کردیا ہے” خیر جب ایک فرض کا اضافہ تسلیم کرلیا گیا ہے تو یہ بھی بتانا ضروری تھا کہ یہ فرض کس کٹیگری کا ہے۔؟ اسے کب کب ادا کرنا ہے۔؟اور جو اس فرض کو نہیں ادا کرے گا وہ ہندوستانیت کے دائرے سے فارغ ہو جائے گا یا اس کو بھارتیہ ہونے کا اعزاز حاصل رہے گا ۔؟

میں ٹھہرا نرا مقلد اور اکابر کے گفتار کو منزل من السماء سمجھ کر اس پر عمل کرنے والا جاہل مطلق ۔ میں اپنے دوستوں کو کیا جواب دوں کچھ سمجھ نہیں آتا۔ مگر مجھے اپنے ملک کے خاندانی بزرگوں کے احترام میں اُٹھ کھڑا ہونا چاہئے تھا اور کھڑا بھی ہوگیا ۔

میں نے اپنے دوستوں کو سمجھایا کہ یہ والا فرض ، فرض مطلق کی کٹیگری میں آتا ہے ۔اس کو سال میں دو بار یعنی 15/اگست اور 26/جنوری کو ادا کرنا مسلک دیوبند کے اس ڈھڑے کے لئے ضروری ہے جو جمعیت علماء ہند (الف)کو اپنا قائد اور رہنما تسلیم کرتے ہیں ۔

اس کے علاوہ جو جمعیت علمائے ہند (م) کو اپنے حق میں بہتر سمجھتے ہیں ان پر یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے۔ یہ فرض تو ان سے بھی ساقط ہو گیا تھا جو ملک کی آزادی کے پچاس سال بعد تک اپنے ہیڈ کوارٹر پر ترنگا لہرانے سے گریز کرتے رہے ہیں ۔مگر جب سے ملک کی باگ ڈور ان کے ہاتھوں میں گئی ہے انھوں نے دوسروں سے اپنے فرائض انجام دلوانے میں ریکارڈ ترقی حاصل کی ہے ۔

اب تک آپ پر یہ واضح ہوگیا ہوگا کہ یہ فرض کس کٹیگری کا ہے ۔اب یہ بھی سمجھ لیں کہ اس فرض کو کب کب ادا کرنا ہے۔تو جان لیجئے کہ جب جب ملک میں کانگریسی خیالات کے لوگ حکمران جماعت کےحزب مخالف ہوں گے ،تب تب بوقت ضرورت آپ کو یہ فرض ادا کرنے کے لیے روڈ پر آنا پڑے گا ۔رام لیلا میدان میں لیلا دکھانا پڑے گا ۔ریلی کرکے ،کانفرنس کرکے،اور کبھی کبھار اپنے مسجد کے گمبد پر ترنگا لہرا کر بھی اس فرض کی ادائیگی کا حقدار بنا جاسکتا ہے ۔مطلب یہ کہ یہ ایسا فرض ہے جو قائدین ملک و ملت کے حسب فرمان اور حسب ضرورت ادا کیا جائے گا ۔

 سب سے اہم اور آخری بات کہ جو شخص یہ فرض نہیں ادا کرے گا وہ ہندوستانیت کے دائرے سے خارج ہوجاۓ گا یا وہ بھارتیہ رہے گا۔ سب سے پہلی اور آخری بات تو یہ ہے کہ ملک کی آزادی کے بعد "ہندوستان” لفظ استعمال کرنا ہی آر ایس ایس کے ایجینڈے کو پروموٹ کرنا ہے ۔کیوں کہ وہ” ہندوستان "کو بمقابلہ "پاکستان” استعمال کرتے ہیں اور آپ کو اشاروں اشاروں میں یہ کہتے ہیں کہ تمھارا حصہ وہاں ہے۔

مگر قربان جائیے سیکولرزم کے داعیوں اور ہمارے قائدین کی وسعت ظرفی پر کہ جس فکر کے خلاف وہ لوگوں کو متحد کرنا چاہتے ہیں انھیں لوگوں کے "پچ” پر جاکر کھیل رہے ہوتے ہیں ۔مجھے کانگریس کی قیادت سے کوئی گلہ شکوہ نہیں ہے جانتے ہیں کیوں ؟ کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ "نواسے اکثر نانی کے آنگن میں میں ہی زیادہ اودھم مچاتے ہیں”

آپ اگر نہیں سمجھے تو سمجھ لیں کہ نانی کا مطلب کانگریس ، نواسے کا مطلب ہے آر ایس ایس ،اور آنگن کا مطلب ہے ملک میں کانگریسی حکومت کا دورانیہ ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے