ڈاکٹر تابش مہدی کی وفات کی خبر جیسے ہی ملی دل و دماغ پر غم و اندوہ کے بادل چھاگئے ۔ڈاکٹر تابش مہدی صرف ایک شخصیت کا نام نہیں تھا بلکہ وہ اپنے آپ میں ایک انجمن تھے ۔وہ ایک ایسی شمع ادب تھے جہاں پروانوں کا ہجوم رہتا تھا ۔ان کے مداحوں کی تعداد لاکھوں میں ہے ادبی دنیا میںان کے سیکڑوں شاگرد ہیں ۔وہ زود گو شاعر تھے ،ان کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی تعمیر پسندی تھی ،وہ تعمیری ادب کے ترجمان تھے ۔صاحب طرز انشاء پرداز تھے ،وہ بہترین نقاد تھے ۔شاعری کی دنیا میں ان کو یہ کمال حاصل تھا کہ اپنے شاگردوں کے کلام کی اصلاح لمحوں میں کردیتے تھے ۔وہ ایک اچھے شاعر کے ساتھ ساتھ ایک اچھے انسان تھے ۔وہ اپنے ناقدین سے بھی خوش دلی سے ملتے تھے ۔ مہمان نواز تھے ۔اپنے متعلقین کی خبر گیری کرنے والے تھے ۔وہ ایک اچھے نثر نگار تھے ۔ان کی درجنوں کتابیں چھپ چکی ہیں ۔دودرجن سے زیادہ مجموعہ کلام شائع ہوچکے ہیں ۔انھیں نبی اکرم ﷺ سے خصوصی محبت تھی ۔بغیر وضو اور سرڈھکے بغیر نعت پڑھنے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے ۔ان کی وفات علمی دنیا کا عظیم خسارہ ہے ۔وہ بے لوث تھے ۔مخلص تھے ۔اپنے شاگردوں سے کسی قسم کی توقع نہیں رکھتے تھے ۔مجھے ان کا شاگرد ہونے پر فخر ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ادبی دنیا کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے ۔آمین

عبدالغفارصدیقی۔ کالم نگار

چیرمین راشدہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر ٹرسٹ
نورپور،ضلع بجنور ،یوپی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے