بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

قارئین کرام _السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

26جنوری یوم جمہوریہ کے بارے میں دو باتیں بتانا چاہتا ہوں پہلی بات یہ کہ ہمارے ملک ہندوستان میں آج کے دن جہنڈا پھرایا جاتا ہے یہ جہنڈا ملک کی عظمت ووقار کی شناخت ہے پرانے زمانہ میں قوموں کی شناخت کے لئے یہی طریقہ رائج تھا ھر قوم اپنی شناخت کے لئے کس جہنڈے کا انتخاب کرتی تھی تاکہ دوسروں اور غیروں کے مقابلہ میں اپنی انفرادیت اور یکسانیت کو باقی رکھ سکیں ہمارے ملک ہندوستان کو بھی سن 1947کی آزادی کے بعد ایک جہنڈے کی ضرورت تھی۔ 

اس ضرورت کے تحت 23جون سن 1947کوھمارے ملک کے رہنما لوگوں کی ایک کمیٹی بنی جس میں امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃ اللہ علیہ راجیندر پرساد کے؛این؛پاٹیکر سروجنی نائیڈو ؛گوپال آچاریہ جیسی شخصیات شامل تھیں اور یہ بات بھی طے ہوئی کہ جھنڈے کا رنگ مختلف مذاہب کا عکس ھو جسے آخری شکل دے کر 16اگست سن 1947کوبوقت شام 10/بجکر 40منٹ پر پارلیمنٹ ہاؤس میں لایا گیا ھمارے دیش آزاد میں ہندوستان میں پہلا ترنگا 15/اگست سن1947کوصبح 8/بجکر 30منٹ یعنی ساڑھے آٹھ بجے دھلی کے لال قلعہ پر لہرایا گیا اس سنہرے موقع پر پنڈت جواہر لال نہرو نے اتحاد کی ضرورت کے موضوع پر پر جوش تقریر کی تھی یہ جھنڈا قربانی ؛امن وشانتی ؛خوش حالی کا سندیش دیتا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ ہمارے ملک ہندوستان میں دستوری اور قانونی بورڈ بنایا گیا جس میں مختلف مذاہب کے لوگ شامل تھے البتہ اس کے سرخیل اور میرکارواں ڈاکٹر امبیڈکر جی تھے ان کی سرکردگی اور رہنمائی میں دستور سازی کی گئی جس کا نفاذ 26/جنوری سن 1952میں ھوا یہ دستور ہمارے ملک ہندوستان کے باشندوں کو تعلیمی ؛معاشی؛سیاسی اور مذہبی حقوق دیتا ہے اس لیے کہ 15/اگست کی طرح 26/جنوری کو بھی ہر سال بطور خوشی جھنڈا پھرایا جاتا ہے اس کا اصل مظاہرہ ہمارے ملک ہندوستان کی راجدھانی دھلی میں ہوتا ہے -کہنے کو تو ہمارا ملک جمہوری ہے اس پر جتنا خوشی کا اظہار کیا جائے کم ہے کیونکہ دستوری طور پر مذھب کے جاننے والوں کو یکساں ترقی کرنے اور اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے مگر افسوس صد افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ بعض عناصر اس دستور کی دھجیاں اڑانے پر لگے ہوئے ہیں ہمیں چاہئے کہ ایسے افراد جو ملک ہندوستان کو برباد کرنا چاہتے ہیں ان کا ڈٹ کر مقابلہ کریں تاکہ ہمارے ملک کی ترقی میں کوئی روکاوٹ نہ ھو اب انھیں چند باتوں پر رب العزت سے دعاء ھے کہ ہمیں اور ہمارے ملک ہندوستان کی ہر طرح سے حفاظت فرمائے آمین۔

والسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

ابومعاذ عبدالعلیم محمد تفسیر صدیقی

نائب امیر جمعیت اہل حدیث اٹوا سدھارتھ نگر یوپی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے