بانگر مئو (یکم فروری): گنج مرادآباد میں واقع مدرسہ عربیہ مفتاح العلوم میں یکم فروری بروز سنیچر صبح پانچ بجے فجرسے قبل طلبہ محمد حسان ولد حافظ فرقان گنج مرادآباد، محمد فیصل ولداشفاق بانگرمؤ، محمد حذیفہ ولدحافظ مشتاق غوث گنج،محمد شفقت ولد حافظ خلیل گنج مرادآباد، محمد عیان ولد عرفان گنج مرادآباد،محمد ذیشان ولد حافظ ابرار مرحوم ملاواں نے ایک نشست میں قرآن پاک سنانے کا آغاز کیا ۔ اسلام میں کسی دن اور مہینہ کی کوئی تخصیص نہیں ہے،لیکن پھربھی انسانی فطرت و ازروئے بشریت خوشی او رغمی کے لمحات زندگی پر اپنے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ کچھ آج ایساہی ہواہے، آج مدرسہ عربیہ مفتاح العلوم گنج مرادآباد میںصبح پانچ بجے نماز فجرسے قبل ،اساتذہ اور طلبہ میں ایک خوشی کی ترنگ ہے، راقم آثم بھی اس خوشی میں برابر کا شریک ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ آج مدرسہ میں چھ طالب علم ایک نشست میں قرآن پاک سنارہے ہیں، یہ سالہاسال کی محنت کا نتیجہ سامنے آتاہے، نماز فجرسے قبل استماعِ قرآن کے سلسلے کا آغاز ہوا، پہلی نشست میں حسبِ ہدایت مخدومِ گرامی حافظ محمد فرقان صاحب زید مجدہم نے صبح پانچ بجے سے قبل بیدار کیا اور ایک طالب علم کو سنانے کی ہدایت کی، اسی زمرے میں استاذ محترم جناب حافظ نعمان صاحب، گرامی قدر حضرت مولانا مبین الحق صاحب مظاہری، رفیق گرامی حضرت مولانا سفیان صاحب مظاہری، جناب حافظ عدنان صاحب، حضرت مولانا شاہد صاحب جامعی شامل تھے۔ صبح کا سہانا اور دلکش منظر اور پھر قرآن پاک کی خوبصورت تلاوت کانوں سے ٹکرائے، بہت سکون اور راحت کا لمحہ ہوتا ہے۔ سننے والے اساتذہ نہایت پروقار اورسکون سے آرام دہ بستر پرٹیک لگائے ہوئے جلوہ افروز تھے، بیک نشست چھ طالب علم قرآن پاک سنارہے تھے، وہ منظر بھی دیدنی تھا، پرکیف اور پربہار منظر آنکھوں نے دیکھ کر دل میں ہوک پیداہوئی کہ اللہ یہ سب تیرے پراسرار بندے ہیں۔
الغرض بعد ازاں صبح آٹھ بجے سے دوسری نشست کا آغاز ہوا۔ اس میں دوسرے بیرونی علماء اور حفاظ کی آمد ہوئی، الحمدللہ ! اب اس وقت تیسری نشست کا اختتام ہواچاہتاہے۔ بات چل رہی تھی مسرت وشادمانی کی، کتنا سکون ملتاہے جب ایک درخت کی متعدد شاخیں ثمربار ہوتی ہیں۔ آج کا دن نہایت پرسکون اور اطمینا ن بخش رہاہے، الحمدللہ! طلبہ کا اپنے اساتذہ سے ملنا، اپنی کیفیت کا اظہارکرنا، پھر اساتذہ کا اس پر شفقت کا ہاتھ پھیرنا، بہر حال یہ ہماری ایک خوشی تھی، جس میں ہم نے اظہار خیال کو پیش کردیا، کل تک انشاء اللہ یہ سب بچے فارغ ہوجائیں گے، آپ ان کے حق میں دعاء کرتے رہیے، انشاء اللہ یہ سب کامیاب ہوں گے، بس ابھی مدرسے سے واپسی ہوئی، قلم برداشتہ یہ تحریر پیش کردی ۔
