لکھنؤ: معہد الفرقان لتحفیظ القرآن زیر اشراف جمعیة السنة التعليمية و الخيرية ۔لکھنؤ کے حفاظ طلبہ کی دستار بندی مشائخ عظام اور افاضل علماء کرام کے بدست ہوئی ۔ اجلاس کی صدارت ممتاز عالم دین فضیلة الشيخ جناب مو لانا محمد ابراهيم مدنى صاحب حفظه الله وكيل الجامعة جامعة خيرالعلوم ڈمریاگنج نے فرمائی۔ پروگرام کا آغاز عزیزم احمد شہاب الدین بن تقی الدین حجازی طالب معہد الفرقان کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا، حمد باری تعالیٰ محمد لئیق طالب معہد نے پیش کیا اور ترانہ معہد کے بعد جمعية السنة التعليمية الخيرية اور معهد الفرقان کے صدر جناب شیخ شہاب الدین مدنی نے تعارفی کلمات میں کہا کہ 2003ء میں انتہائی بے سر و سامانی کی حالت میں جس ادارہ کی داغ بیل ڈالی تھی، الحمدللہ آج وہ تناور درخت بن چکا ہے۔ تعارفی کلمات کے بعد شیخ نے مقتدر علمائے کرام اور سامعین عظام کا تہ دل سے استقبال کیا، بعد ازاں خطابات کا سلسلہ شروع ہوا۔
اجلاس میں اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے جماعت کے معروف عالم دین جناب شیخ عطاء الرحمن سعیدی مدنی نے شیخ شہاب الدین مدنی کی خدمات کو سراہتے ہوئے معہد کے روشن مستقبل کے لئے دعا فرمائی۔ پروگرام کے پہلے خطیب جناب شیخ صباح الدین مدنی نے عظمت قرآن کے موضوع پر ولولہ انگیز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم سے ہماری عظمتیں وابستہ ہیں، قرآن کو بس پشت ڈال دینے کی وجہ سے ہی آج امت شکست و ریخت کا شکار ہے۔ جناب شیخ نور الدین مدنی صدر مرکز امام احمد بن حنبل اترولہ، بلرام پور نے اپنے خطاب میں تدبر قرآن کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ قرآن ایک ایسی آسمانی کتاب ہے جس کے نزول کے بعد تمام آسمانی کتابیں منسوخ ہوگئیں۔ قران کو پڑھنا پڑھانا اور اس میں تدبر کرنا ضروری ہے۔
پروگرام کی دوسری نشست کا آغاز قاری سعد بن عبدالعزیز سے ہوا، بعد ازاں صدر اجلاس جناب شیخ محمد ابراہیم مدنی صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں لوگوں کے دلوں کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ قرآن کی عظمت و اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن کتنے ایسے گھر ہیں جہاں ہرفرد روانہ قرآن کی تلاوت کرتا ہے؟ ابھی یہ سوال کیا جائے تو جواب نفی میں ہوگا، آپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ لکھنؤ میں منہج سلف کی نشر و اشاعت کے لیے اللہ رب العزت نے شیخ شہاب الدین کو منتخب فرمایا، وہ قابل مبارکباد اور ہم سب کے شکریہ کے مستحق ہیں۔ صدارتی خطاب کے بعد فارغین حفاظ کی دستاربندی افاضل علمائے کرام کے ہاتھوں ہوئی، معہد الفرقان سے امسال جن طلبہ کی فراغت ہوئی ہے، ان کے اسماء یہ ہیں:
احمد شہاب الدین بن تقی الدین حجازی لکھنؤ۔ محمد لئیق بن محمد شکیل بارہ بنکی۔ محمد آصف بن راجو احمد ، لکھنؤ. محمد عامر بن سراج احمد ، لکھنؤ محمد فرمان بن محمد سعید، سیتاپور۔ محبوب الرحمن بن محمد اسحاق مالدہ بنگال۔
حفاظ کی دستار بندی کے بعد علمائے کرام، طلبہ کے گارجین اور عوام کی طرف سے انہیں تشجیعی انعامات دیئے گئے۔ پروگرام کے اختتام پر صدر معہد جناب شیخ شہاب الدین مدنی نے تمام علمائے کرام، خطبائے عظام اور حاضرین کا تہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ مولانا سراج الدین سراجی ناظم معہد نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر گھر میں کم از کم ایک حافظ قرآن ہو۔ مولانا فرید الدین فیضی مہتمم معہد نے اپنے بیان میں حفاظ قرآن کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے پروگرام کی کامیابی پر دلی خوشی کا اظہار کیا۔ سایر پبلک اسکول کے منیجر مولانا تقی الدین حجازی نے میزبانی کا فریضہ بحسن وخوبی انجام دیا۔
اجلاس کے مہمان خصوصی جناب جناب حافظ عتیق الرحمن طیبی امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث مشرقی یوپی کی پر تاثیر دعاؤں پر پروگرام کا اختتام ہوا، امیر محترم نے معہد کے استاذ جناب حافظ محی الدین سلفی اور فارغین حفاظ کو گراں قدر انعامات سے نوازا۔
حاضرین میں طلبہ کے سرپرستوں کے ساتھ مولانا اکرام الدین ندوی ۔ مولانا بدر الدجی ندوی، مولانا وحیدالدین سلفی، ماسٹر رضوان اللہ، سید محمد نسیم، عبد الخالق محمد کلیم، سعود احمد،عبد الحلیم، محمد حنیف، محمد رضا، محمد فاروق، محمد خالد، محمد عامر وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ پروگرام کی نظامت کا فریضہ جناب حافظ عبدالکریم سلفی آفس سکریٹری صوبائی جمعیت اہل حدیث مشرقی یوپی نے انجام دیا۔
