گھروں میں دین آئے گا تو نسلیں مہذب اور باشعور ہوں گی!
سہارنپور( احمد رضا): حالات حاضرہ بتا رہے ہیں کہ اگر ملت اسلامیہ آج بھی بیدار نہ ہو سکی تو پھر ملت اسلامیہ کو پستی اور تباہی سے کوئی نہی بچا پائیگا*حکم رب العالمین ہے کہ علم حاصل کرو ما ں کی گود سے گور تک * بس اگر دین اور دنیا میں راحت بھلائی اور غلبہ چاہتے ہو تو دین کی تعلیم کی روشنی گھر گھر پہنچاوُ تبھی کامیاب ہو سکتے ہو! خواتین کی تعلیمات کو شاندار معیار بخشنے والے مشہور و معروف دینی ادارہ جامعۃ الطیبات حبیب گڑھ میں جامعہ کی انجمن اصلاح اللسان کا سالانہ جلسہ منعقد ہوا جس کی صدارت جامعہ ہذا کی ناظمہ محترمہ عائشہ صدیقہ صاحبہ نے کی اور پر اثر انداز میں پروگرام کی نظامت کے فرائض بھی بہ خوبی انجام دئے اس جلسے کی سرپرستی جامعہ ہذا کی پرنسپل محترمہ کریم بانو نے نبھائی۔
جلسے کا اغاز دورہ حدیث شریف کی طالبہ بشری نعمان کی تلاوت سے ہوا اور صبیحہ بنت محمد تعلیم نے حمد باری تعالی پیش کی اور مہک بنت مہتاب نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ دورہ حدیث کی ایک باصلاحیت طالبہ ثناء بنت نظرالدین نے بڑے مؤثر انداز میں خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ کیسے ایک ماں کی محنت سے حضرت بایزید بسطامی رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے ولی کامل بنے، ہمیں بھی اپنے گھروں میں دین کی تعلیم لانے کی اشد ضرورت ہے گھروں میں دین آئیگا تو نیک نسلیں آئیں گی اور ہمارا ماحول دینی ہوگا دورے کی ہی ایک اور طالبہ ظروفہ بنت محمد اشرف نے شب برات کے فضائل بیان کیے انہی کی ایک اور ہمدرس خطیبہ بشری نعمان نے خطاب کرتے ہوئے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی ترغیب دی انہوں نے بتایا کہ اپنے والدین کو اف بھی مت کہو اور نہ ہی ان کو جھڑکو۔ جامعہ کی معلمہ محترمہ گلستا طیبی نے مدرسے کے لیے ترانہ پیش کیا۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی بچیوں نے بڑے عمدہ پروگرام پیش کیے۔
جلسے کا اختتام جامعہ ہذا کے ناظم حضرت مولانا یعقوب بلند شہری کی اہلیہ محترمہ مسعودہ خاتون صاحبہ کی دعا پر ہوا۔ جلسے میں اطراف و جوانب سے کثیر تعداد میں خواتین نے شرکت کی خصوصی شرکاء میں معلمہ آصفہ عاقل، شارقہ سلم اللہ، رابعہ طیبی، علمہ طیبی، ثنا جبیں، ناظرین نسیم ،گلستا طیبی، عافیہ رمضانی، عافیہ رحمان، اور معلہ عادلہ راؤ وغیرہ کی شرکت قابل ذکر رہی!
