مولانا اے،کے،رحمانی
قومی نائب صدر مسلم پولیٹیکل کونسل آف انڈیا
کسیا ، کشی نگر

مکرمی! اترپردیش اسمبلی کی کاروائی کے درمیان بحث میں حصہ لیتے ہوئے ہمارے وزیر اعلیٰ نے ایک ایسا لفظ استعمال کیا جس سے ہندوستانی مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے، جہاں جذبات میں آکر ہمارے وزیر اعلیٰ نے سابق وزیر اعلیٰ اکھیلیش یادو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آپ ملک کو ـ ’’ کٹھ ملاپن‘‘ کی طرف لیجانا چاہتے ہیں، اس لفظ سے جہاں کروڑوں ہندوستانی مسلمانوں کے جذبات مجروح کئے ہیں وہیں کم ظرفی کا ثبوت بھی پیش کر دیاہے، یہ ہنگامہ اردو زبان کو فروغ دینے پر ہواجبکہ سب کو معلوم ہے کہ یہ زبان کسی خاص طبقہ کی نہیںبلکہ مشترک ہے اس زبان میں ہر آدمی بات کرتا ہے اس لئے دونوں زبانوں کو سگی بہنوں سے تعبیر کیا جاتاہے، دیہاتی مثل مشہورہیکہ ـ’’ گڑ کھاتے ہیں اور کلہے سے پرہیز‘‘ اس لفظ پر ارکان اسمبلی نے اعتراض کیا مگر اسکیلئے اعتراض کافی نہیںتھابلکہ اس کیلئے معافی کا مطالبہ کرنا چاہئے تھاکہ پھر آئندہ اس قسم کا غیر مہذب لفظ نہ استعمال کر سکیں۔
اگر کوئی کہے کہ آپ ملک کو ’’ کٹھ ہندوپن‘‘ ’’کٹھ یوگی پن‘‘کی طرف لیجانا چاہتے ہیں تو کیا اس سے آپ کے جذبات مجروح نہیں ہوںگے؟۔
میں اس کی سخت مذمت کرتا ہوں اور وزیراعلیٰ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ کروڑوں مسلمانوں سے معافی مانگے اور آئندہ اس قسم کا بھونڈہ لفظ استعمال نہ کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے