مکرمی!

جب سے یوپی کی بلڈوزر سرکار نے تغلقی فرمان جاری کرنا شروع کیا ہے ہمارے ملک کی سیکڑوں تاریخی مساجد شہید کی جا چکی ہیں، جس میں مدنی مسجد قصبہ ہاٹا ضلع کشی نگر آج کل ملک و بیرون ملک سرخیوں میں ہے یہ مدنی مسجد جہاں دعوت و تبلیغ کا مرکز ہے وہیں تعلیم و تربیت کا محور بھی، جہاں سے بندگان خدا رشد وہدایت کے جام نوش کرکے غلط راہوں اور کاموں سے توبہ کر کے صراط مستقیم پر گامزن ہوجاتے ہیں، ملک و بیرون ملک مسلم کمیونیٹی کے اندر دینی و اخلاقی انقلاب پیدا کرتے ہیں جس کیلئے دور دراز اسفار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جس کے روح رواں اور کلیدی ایک صادق و نیک تاجر حامد حسین ہیں، جنہوں نے عہد شباب میں اس علاقہ میں رشدو ہدایت کی شمعیں جلانے کا خواب دیکھا تھااسلئے قریہ ، قریہ کا سفر کرتے رہے اور عام بندگان خدا کو دین کی صحیح دعوت دیتے رہے، حالات حاضرہ کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے انہوں نے اس میں تعلیم و تربیت کا مرکز بھی قائم کیا، ماشاء اللہ یہ دونوں تحریکیں کامیاب ہیں اور یہ مدنی مرکز ملک کو ایک بیش بہا نعمت فراہم کر رہاہے جس کو ہمارے کالجز اور یونیورسیٹیاں بھی فراہم نہیں کر پارہی ہیں وہ ہے ایک ایماندار، وفادار، دیانتدار شہری، اللہ کا شکر ہے یہ مرکز مدت دراز سے ایسے شہری فراہم کر رہاہے اور ملک کی تعمیر و ترقی میں ایک خاموش مگر دور رس خدمت انجام دے رہاہے، مگر یہ چیز انکو اچھی نہیں لگ رہی تھی اسلئے انہوں نے ایک سیاسی سازش کے تحت اس عظیم مسجد کو شہید کر ڈالا جبکہ اس کے سارے کاغذات صحیح تھے، یہ ایک ایسا حادثہ ہے جس نے اس علاقہ کے سارے مسلمانوں کو جھنجھوڑ کر رکھدیااور کف افسوس ملنے پر مجبور کر دیا، یہ ایسا سانحہ تھا جس کو حاجی حامد حسین کے بڑے صاحبزادے مرحوم حاجی شاکر علی برداشت نہ کر سکے اور حرکت قلب بند ہونے سے اللہ کے پیارے ہو گئے’’ اناللہ و انا الیہ راجعون‘‘ ۔
تم کیا گئے کہ سب کو رلا کر چلے گئے
حاجی شاکر علی ایک صادق امین تاجر تھے اللہ تعالی نے جہاں ان کو دینی بصیرت سے نوازاتھاوہیں ان کا سیاسی شعور بھی کافی بیدار تھا، آخر اسکا ذمہ دار کون ہے؟ کیا اس کا ذمہ داریوپی سرکار نہیں ہے ؟ کیا اسکا ذمہ دار انتظامیہ نہیں ہے ؟ کیا اسکا ذمہ دار وہ شخص نہیں ہے جس نے اس مسجد کو شہید کرنے کا آرڈر دیا؟ انکے خلاف تو قتل کا مقدمہ قائم ہونا چاہئے اور جیل کے سلاخوں میں بند ہونا چاہئے۔
تو دوسری طرف اس عظیم سانحہ کے باوجود مدنی مسجد کے اعلی ذمہ دار حاجی حامد حسین اور ہاٹا کے سارے ہوشمند اور حکمت و دانائی اور مصلحت سے واقف شہریوں کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ آپ نے ایک مسجد کی شہادت پر جوش سے زیادہ ہوش سے کام لیکر ’’ہاٹا‘‘ کو سنبھل بنانے سے بچالیااور کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔
اللہ تعالی مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے ، جنت الفردوس میں اعلی مقام عطافرمائے اور ان کی ساری دینی و تبلیغی خدمات کو ان کیلئے ذخیرئہ آخرت بنائے ، اور ان کے سارے پسمندگان خاص طور پر ان کے والد بزرگوار حاجی حامد حسین ، مرحوم کے تمام برادران ، ان کی بیوی اور انکے بیٹے بیٹیوں کو صبر جمیل کی توفیق عطافرمائے  ’’آمین‘‘۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزئہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

احمد کمال عبدالرحمان ندوی

خادم جامعہ رحمانیہ اسلامیہ 
رحمان نگر، سمراہردو، کشی نگر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے