بہار ( مجاہد عالم ندوی ) گزشتہ کل فیض ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے زیر نگرانی تعلیمی شعبہ جات الفیض ماڈل اکیڈمی بابوان بسمتیہ ارریہ بہار میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کا پنج روزہ سالانہ انجمن شاندار طریقے سے منعقد کیا گیا ۔ جس میں تمام مشارکین طلباء و طالبات بڑے ذوق و شوق کے ساتھ شریک ہوئے ۔ خود اعتمادی اور بے باکی کے ساتھ اردو ، ہندی اور انگریزی زبانوں میں اہم و اصلاحی موضوعات پر دل پزیر تقریریں پیش کرنے کے علاوہ حمد و نعت ، بیت بازی ، سبق آموز مکالمے اور ڈرامے پیش کر کے سامعین و سامعات اور دیگر معززین سے خوب داد و تحسین حاصل کیے ۔
پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، اس کے بعد حمد و نعت پڑھی گئی پھر اسکول کے پرنسپل حسنگیر خاں نے قرب و جوار سے تشریف لائے ہوئے مہمانان عظام اور اپنے اساتذہ اور طلباء و طالبات کا خیر مقدم و استقبال کرتے ہوئے اپنے تعلیمی ادارے کا مختصر تعارف ، اہداف و مقاصد اور آئندہ تعلیمی منصوبوں کو بروئے کار لانے کا یقین دہانی کرائی ، جس سے تعلیم و تربیت میں بہتری آئے گی ۔
۲۸؍ فروری کو انجمن ترقی اردو بہار کی جانب سے اردو بیداری کانفرنس زیر صدارت انجمن ترقی اردو بہار کے سکریٹری جناب عبد القیوم انصاری منعقد ہوا ،اس کانفرنس کی نظامت جناب امیر الہدی ندوی اور جناب میزان الرحمٰن سلفی نے کی ۔
صدر کانفرنس نے انجمن ترقی اردو کا تعارف کرایا اور بیداری کانفرنس کی ضرورت پر زور دیا ، انہوں نے کہا کہ اردو کے فروغ کے لیے اپنے بچوں کو اردو کی تعلیم دلوائیں اور بچوں کو اردو کی تعلیم کی طرف راغب کریں تبھی اردو کا بھلا ہوگا ۔ انہوں نے اپنے تاثرات میں اردو اخبار ، پورٹل وغیرہ پڑھنے پر زور دیا اور کہا کہ اردو پڑھیں گے تبھی عام بول چال کی زندگی میں استعمال کر سکیں گے ۔ اس کے بعد فرحان نسیم اختر اور نازیہ نے اردو زبان پر اظہار خیال کیا ۔ مسرورہ پروین نے ایک نظم سنائی ، جبکہ اکیڈمی کے چیئرمین ڈاکٹر امان اللہ مدنی نے کہا کہ ہمیں جھوپڑیوں میں رہنے والے بچوں کے بیچ جا کر اردو پڑھانا ہوگا اور کوشش کرنی ہوگی کہ اُردو ہر جگہ عام ہو ، ساتھ ہی ان بچوں کو بھی اُردو پڑھنے پر زور دینے کی ضرورت ہے جو بڑے اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں ۔ پروگرام کے آخر میں اساتذۂ کرام اور طلبہ و طالبات کو سرٹیفکیٹ اور میڈل سے نوازا گیا ۔
اس کے بعد مہمانان خصوصی جناب آصف فلاحی پرنسپل صفا پبلک اسکول سونیاہی نیپال نے اپنی تقریر میں اس اسکول کو علاقہ کے نمبر ایک اسکول میں شمار کیا اور کہا کہ اس اسکول سے اچھا اسکول صفائی ستھرائی کے لحاظ سے میں نے نہیں دیکھا ۔ اسی طریقے سے یہاں کے طلباء و طالبات نے جو پروگرام پیش کیا ہے ایسا پروگرام بھی کسی اسکول میں دیکھنے کو نہیں ملتا کہ ہر پروگرام سے کوئی نہ کوئی نصیحت ملتی ہو ، ساتھ ہی ساتھ ذمہ داران ادارہ اور اساتذہ کی بڑی تعریف کی ۔ ان کے علاوہ قرب و جوار کے بہت سے لوگوں کی تکریم کی گئی جیسے مولانا ابراہیم سجاد تیمی کٹیہار ، مولانا کمال الدین سنابلی وغیرہ اور ان کے علاوہ مردوں اور عورتوں کی بہت بڑی تعداد موجود رہی ، سبھوں نے پروگرام کی بڑی تعریف کی اور آخر تک بڑی دلجمعی کے ساتھ جمے اور بچوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہے ، ان میں قابل ذکر حافظ شفیع الرحمٰن صاحب ، جناب سعید امان اللہ صاحب ، جناب معید الرحمٰن صاحب ، جناب حسنین صاحب ، جناب سفیان خلیق اللہ سلفی صاحب وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔
