میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک

خدا ہے تُو، خدائی مان لیتے ہیں
ترے دیں کا نہ جذبہ ہے، نہ بندے ہیں

رسول اللہ نے فرمایا مسلمانو!
کہ قسمت والے ہی رمضان پاتے ہیں

مری دنیا سے غافل وہ ، اُسی خاطر
بہت سے کام میں نے چھوڑ رکھے ہیں

گرانی تو نہیں ہے کان میں میرے
ذراکھل کے بتائیں آپ کیسے ہیں ؟

غریب اس کو ہی کہتے ہیں ، نئی اک یار
کوئی چپل نہیں لے گا ، نہ جوتے ہیں

ہمار اکوئی شجرہ ہوتو بھی کیوں کر
تمہارے واسطے تو کافی شجرے ہیں

یہی کچھ سننے کو ملتا ہے ہم کو میرؔ
قدآور بونے ہیں اور بونے اونچے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے