محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک
۱۔بے پر دہ خواتین
افطار کے لئے وقت کم تھا۔ اکلوتابیٹا حافظ علی الدین افطاری لے کرابھی نہیں آیاتھا۔ والدہ بے چین تھیں۔ دونوں بہنوں کوبھی بھائی کا انتظار تھا۔ آخر کار موٹرسائیکل کے گیٹ میں داخل ہونے کی آوازسنائی دی ۔ دونوں بہنیں جاکر افطاری کے لئے لایاگیاسامان اٹھا آئیں۔کھجور، تربوز، کھاری بوندی ، نمک پاروں کے علاوہ دہی بڑے منگوائے گئے تھے۔ والدہ نے کہا’’میں ابھی تربوز کاٹ دیتی ہوں ، علی بیٹا وضو کرکے فوری دعا کرنے بیٹھ جاؤ‘‘
علی نے تیزی سے وضو کیا۔ اتنے میں والدہ نے تربو زکاٹ دیا۔ علی دعاکرنے لگا ۔ والدہ اور دونوں بہنیں اس کی دُعا پر آمین کہہ رہی تھی۔ علی دعاکررہاتھا’’یااللہ !تیری شان نرالی ہے۔ توہمارا خالق ومالک ہے۔ تیری زمین ہے ، تیرا آسمان ہے (بے شک) تو سارے جہاں کامالک ہے۔ پاک پروردگار تو نے سات زمین اور سات آسمان بنائے(ماشاء اللہ ) باواآدم کی تخلیق کی اور اما حوا کو پید اکیا۔ ہمیں پید اکیا، ہم تیرے شکرگذار ہیں (آمین) ، پروردگار تو نے نبی کریم ﷺ جیسے آخری نبی ﷺ اورساری انسانیت کیلئے باعث رحمت ہستی ساری دنیا کوعطاکی (شکر ہے تیرا)پروردگار ، تو نے ہمیں دین ِ اسلام میں پیدا کیا(ماشاء اللہ ) ، اے ہمارے رب ، سودخوروں سے ، رشوت خوروں سے ، رزق حرام کھانے والوں سے ، بتوں کی آرتی اُتارنے والے وزراء سے ، مسلمانوں کے حق میں آواز نہ اٹھانے والے ایم ایل اے ، ایم ایل سی اوراراکین پارلیمنٹ سے اور بے پردہ خواتین سے اسلام کی حفاظت فرما(آمین ثم آمین)
دونوں بہنوں نے آمین کہتے ہوئے کن انکھیوں سے والدہ کی طرف دیکھا۔پھر بھائی حافظ علی الدین کی طرف دیکھا تو انھیں ایک دھچکا سالگا۔ ان کاحافظ بھائی روئے جارہاتھا۔اور شاید دعامانگتے مانگتے بے خودہوچکا تھا۔ وہ رب سے مانگے جارہاتھا’’اے اللہ ، ہم میںدینی اور سیاسی ہر دوطرح کے وہ قائد ین پیدا فرما جواسلام کو ہرقسم کے حملہ سے بچاسکیں(آمین ثم آمین) فتنہ ء دجال ، دنیا کی محبت اور قبر کے عذاب سے ہمیں محفوظ رکھ مولیٰ (آمین) میرے والد کی اور ہمارے تمام مرحومین کی مغفرت فرما(آمین)’’اللہ اکبر اللہ اکبر ۔۔۔۔۔!!‘‘اذان کی آوازسنائی دی تو ماں، بیٹا اوردونوں بیٹیوں نے مل کرکھجور سے روزہ کھولا۔ دونوں بہنوں کی سمجھ میں نہیں آرہاتھاکہ بھائی نے بے پردہ خواتین سے اسلام کی حفاظت کرنے کی دُعا کیوں مانگی ؟ بھائی نماز پڑھنے جائے گا تو وہ یہ بات والدہ سے ضرور پوچھیں گی۔
۲۔ پاگل کااعلان
وہ شہر کانیانیا پڑھالکھاپاگل تھا۔قاضی ء شہر کے گھرانے سے تھا۔ بیوی کسی شادی شدہ ہندوآدمی کے ساتھ بھاگ گئی تھی تب سے اس کے عشق میں پاگل ہو گیاتھا۔ ہردن کوئی نہ کوئی نئی بات بڑبڑاتاچلاجاتاتھا۔
ایک دن وہ پڑھالکھا پاگل اعلان کئے جارہاتھا’’سوشیل میڈیا کی ننگی عورتوں اور بے پردہ مسلم خواتین پر قنوت نازلہ پڑھیں اور ضرور پڑھیں ، یہ وباایسے ختم نہیں ہوگی،ننگی ہوکر پیسہ کمانے والی ان عورتوں پرسخت بددعا کی جائے، آزاد خیال بے پردہ خواتین ملت کی غیرت کو موت کی نیند سلادیں گی‘‘
پھر وہ پاگل ایک جگہ ٹہرگیااور اپنے سینے پرمعافی کے انداز میں ہاتھ رکھ کر بولا’’ برانہ مانو دوستو، برانہ مانوچچا خالو، پاگل ضرور ہوں لیکن سچ کہتاہوں ،قنوت نازلہ پڑھیں قنوت نازلہ، اس ملت کے سارے دُکھ اِ ن شاء اللہ دور ہو جائیں گے، فحاشی اور بے پردگی ختم ہوجائے گی، دین دار عورتیں بھی چہراڈھکنے کو غلط سمجھ رہی ہیں اور اپنی فوٹوز سوشیل میڈیا پرڈال کر بے پردہ ہورہی ہیں، برقعہ میں ریل بنارہی ہیں، دینی دنیاداری پہلی باردیکھ رہاہوں، پاگل ہوں بھائیو، برالگاہوتو مجھے معاف کرنا ‘‘
خلیل الرحمن گوکاک تو پاگل کا پرانا دوست تھا، نظیرالاسلام قاضی کو اس حالت میں دیکھ کر اس کی آنکھیں ڈبڈباگئیں لیکن ساتھ ہی اپنے قابل لیکن پاگل دوست کااعلان سنا تو اس نے دو باتیں سوچیں ’’پہلی بات یہ کہ کیاواقعی بے پردہ اور فحش دونوں قسم کی عورتوں پر قنوت ِ نازلہ پڑھنے کی ضرورت ہے ؟ دوسری بات یہ کہ کیانظیرالاسلام قاضی واقعی پاگل ہے؟یابن رہاہے؟‘‘
