میربیدری، کرناٹک
ہم ہاتھی ، چڑیا سے ڈر کے بیٹھے ہیں
تیری اس لیلا سے ڈر کے بیٹھے ہیں
ظلِ الٰہی سے یارانہ برسوں کا ہے
لیکن خواجہ سرا سے ڈر کے بیٹھے ہیں
عشق کی سانس تو آتی جاتی ہے لیکن
مرنے کے مُژدا سے ڈر کے بیٹھے ہیں
تم سائنس کے طلبہ ہو اور کلاس میں آج
کوئی کہے کہ خداسے ڈر کے بیٹھے ہیں
ایسا ہوا گاؤں میں سارے باراتی
دلہن اور دولہا سے ڈر کے بیٹھے ہیں
ڈرنا ادب کاشاید کوئی قرینہ ہو
میرسے سودا سے ڈر کے بیٹھے ہیں
مسجدوں پرحملہ کرنے سے نہیں ڈرتے
انسانی میّا سے ڈر کے بیٹھے ہیں
چکر میںپڑے ہیں دنیاداری کی میر
اک ہم ہیں کہ خدا سے ڈر کے بیٹھے ہیں
