دعاگو: انصر نیپالی
اے غزہ ! دیکھ کر تری حالت
اشک بن کر لہو ٹپکتا ہے
کتنا بے درد یہ زمانہ ہے
میری آہوں پہ مسکراتا ہے
سب کو اپنے وطن سے مطلب ہے
ظلم کی طرف داری کرتا ہے
درد سہنے کی اب تو عادت ہے
ہر ستم مجھ پہ آزماتا ہے
جنگ بندی تو اک بہانا ہے
موقع پاتے ہی وار کرتاہے
خون معصوموں کا بہا کر کے
ملبوں کے نیچے دفن کرتا ہے
اک مورخ لرزتے ہاتھوں سے
ظلم کی داستان لکھتا ہے
یا الہی ! تو رحم کر ان پر
دل سے انصر دعائیں کرتا ہے
