میربیدری، کرناٹک

ہم پکارے نہیں گئے ، سن لو
پر اِشارے نہیں گئے ، سن لو

واپسی جن کی تھی وطن کے لئے
وہ دُلارے نہیں گئے ، سن لو

جب کہ ہیں سال گزرے ستہتر
اک سہارے نہیں گئے ، سن لو

عشق اپنے سُروں کے اندر قید
اورخسارے نہیں گئے ، سن لو

ویسے تنخواہ تو رہی معقول
کیوں اُدھارے نہیں گئے سن لو

ہم جہاں بھی رہے ،رہی عزت
ہم کھنکھارے نہیں گئے سن لو

آگیا گھرمَیں ،ذہن سے مگر
وہ ستارے نہیں گئے سن لو

میردنیا سنورسنور گئی ہے
ہم مٹھارے نہیں گئے ، سن لو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے