محمد شفیق ندوی
امام وخطیب مسجد نئی بستی حسین گنج لکھنؤ
ہم تمام اہل ایمان کو اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیے ، کہ جس نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں برکتوں والا مقدس رمضان کا مہینہ عطا فرمایا اور روزہ و تراویح اور قرآن کی تلاوت کی توفیق عطا فرمائی جب رمضان کا مہینہ اتا ہے تو عام مسلمان اپنے معمول سے کچھ زیادہ عبادت کی فکر کرتا ہے اور نمازوں کی پابندی اور تلاوت قرآن کی کثرت اور نوافل کی کثرت ہو جاتی ہیں ، اس مہینے میں قرآن کریم کو خاص مناسبت حاصل ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرمایا کرتے تھے، اسی مناسبت سے اس کی ایک جھلک مسلمانوں میں بھی نظر اتی ہے کہ عام دنوں کے مقابلے میں اس مہینے میں قرآن کی تلاوت کا معمول کچھ زیادہ ہو جاتا ہے لیکن جیسے ہی رمضان کا مہینہ ختم ہوتا ہے قرآن کریم سے ہمارا تعلق بھی ختم ہو جاتا ہے حالانکہ اس ماہ مبارک کا اللہ کے مبارک کلام سے بڑا گہرا تعلق ہے ، اللہ تعالی کا ارشاد ہےشهر رمضان الذي انزل فيه القرآن هدى للناس (رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو تمام انسانوں کے لیے ہدایت نامہ ہے)۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ اللہ نے اس مہینے کے روزے کو فرض کیے اور میں نے اس کی تراویح کو سنت کیا رات کے قیام یعنی رات کی نمازوں کو میں نے مسنون قرار دیا ہے، تراویح کی نماز کی یہ برکت ہے کہ اس امت میں پورا قرآن پاک زندہ ہے قرآن پاک کو سنا جا رہا ہے لاکھوں کروڑوں مسلمان قران پاک سے اپنا ربط کم سے کم اس حد تک قائم رکھے ہوئے ہیں کہ نماز تراویح میں ان کو قرآن پاک از اول تا اخر سننے کا موقع مل جاتا ہے،قران کریم کے پانچ حقوق ہیں ،،امت مسلمہ پر قرآن کریم کے پانچ حق ہیں،جنہیں ادا کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے ،ان میں سے کسی ایک حق میں بھی کوتاہی ہوگی تو پھر مواخذہ ہوگا ،ان میں سے پہلا حق یہ ہے کہ اللہ کی کتاب پر ایمان لایا جائے،دوسرے حق یہ ہے کہ اس کی تعظیم کی جائے ،اور تیسرا حق یہ ہے کہ اس کی تلاوت کی جائے، چوتھا حق یہ ہے کہ اس کو سمجھنے کی کوشش کی جائے ، اور پانچواں حق یہ ہے کہ اس پر عمل کیا جائے، یہ پانچ حق ہیں اللہ کی کتاب کے اور ان تمام حقوق کو ادا کرنے کی ذمہ داری ہر مسلمان پر عائد ہوتی ہے، پہلا حق یہ ہے کہ ایمان لانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صرف اتنا مان لیں کہ یہ قران آخری کتاب ہے یہ مقدس کتاب ہے قرآن بڑی پاک کتاب ہے بس اور اس کے بعد پھر اس کو ہم عزت سے رکھ لیں یہ ایمان اصلا کافی نہیں ہے،بلکہ ایمان اس پر لانا ہے کہ قران پاک میں جتنے بھی مضامین بیان کیے گئے ہیں وہ سب کے سب برحق ہیں اور امت کی ہدایت کے لیے اللہ تعالی نے ان کو نازل فرمایا ہے، اور امت کے لیے دستور العمل ہیں اس کو اس حیثیت سے ہمیں ماننا ہے جس حیثیت سے خود قرآن کریم نے تعارف کرایا ہے ، ذلك الكتاب لا ريب فيه هدى للمتقين، ،یہ وہ کتاب ہے جس میں شک اور شبہ کی کوئی گنجائش نہیں اور یہ سراپہ ہدایت نامہ ہے ان تمام لوگوں کے لیے جو اپنے انجام کے بارے میں فکر مند ہیں ،قران کا دوسرا حق اس کا دوسرا حق یہ ہے کہ اس کتاب کی تعظیم و توقیر کی جائے، اس کے ساتھ بے ادبی نہ ہو، حالت طہارت میں ہی اس کو چھوا جائے، اگر پاک نہ ہو تو اس کو ہاتھ نہ لگایا جائے، ضرورت غسل کی ہو ضرورت وضو کی ہو، جب ہم اس ضرورت کو پورا کر لیں اور شرعی طور پر پاک ہو جائیں تب ہمارے لیے جائز ہے کہ ہم اس کو ہاتھ لگائیں یہ دیگر کتابوں کی طرح نہیں ہے۔ اللہ تعالی خود ارشاد فرماتے ہیں لا يمسه الا المطهرون۔ اس کتاب کو وہی چھو سکتے ہیں جو پاک ہوں گے انہی کو اجازت دی گئی ہے، اس کتاب کو بلند جگہ رکھا جائے اس کی عزت و توقیر کی جائے اور اس پر کسی دوسری کتاب کو نہ رکھا جائے یہ بھی ایک طرح کی بے ادبی ہے جس طرح کسی بڑے کے اوپر ہم چڑھ کے نہیں بیٹھ سکتے یہ نہایت بڑی گستاخی اور بے ادبی ہوگی، ایسے ہی قرآن پاک پر کسی اور کتاب کو رکھنا قرآن کریم کی بے ادبی ہے، قرآن مجید قران مجید کا تیسرا حق یہ ہے کہ اس کی تلاوت کی جائے تلاوت محض نفلی معاملہ نہیں قرآن کی تلاوت اگر ایک مسلمان نہیں کرتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی جھولی خالی ہے وہ محروم اور بدقسمت انسان ہے،قرآن کریم کو صحیح مخرج سے پڑھنا فرض ہے ، قرآن پاک پڑھا جا رہا ہے اور مخرج صحیح کرنے کا اہتمام نہیں کیا جا رہا تو بہت بڑی کوتاہی ہو رہی ہے، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ’’صلوا كما رايتموني اصلي‘‘ نماز اس طرح پڑھو جس طریقے سے مجھے پڑھتے دیکھا ہے، جس طریقے سے ہم نماز میں قیام رکوع سجود سنت کے مطابق کرتے ہیں اسی طریقے سے قرآن بھی سنت کے مطابق پڑھنا بھی ضروری ہے ،قرآن کریم کا چوتھا حق یہ ہے کہ اس کو سمجھا جائے قرآن صرف اس لیے نہیں اتارا گیا کہ بس اس کو پڑھ لیا جائے یا مریض پر دم کر دیا جائے یا تعویذ لکھ کر دے دیا جائے، قرآن کا اصل مقصد یہ نہیں ہے یہ تو قرآن پاک کے ضمنی فائدے ہیں، قرآن بدن کے لیے شفا ہے روح کے لیے بھی لیکن قرآن پاک کا بنیادی مقصد افہام و تفہیم ہے،کیونکہ ہدایت کو دستور کو اور قانون کو سمجھے بغیر برتا نہیں جا سکتا، لہذا اس کو سمجھنا ضروری ہے اور اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں کو اپنی زبان سے مدد لینی پڑے گی جو زبان بھی ہمیں اتی ہے اس زبان میں اس کا ترجمہ دیکھیں اس زبان میں اس قرآن کریم کی تفسیر دیکھیں ،قرآن کریم کا آخری اور پانچواں حق یہ ہے کہ جب ہم نے اس کو پڑھ لیا اور سمجھ لیا تو اس پر عمل کیا جائے کیونکہ سمجھنا عمل ہی کے لیے ہے، لہذا قرآن پر عمل ہو، قرآن کے مطابق ہماری عبادات ہوں ،قرآن کے مطابق ہمارے معاملات ہوں قرآن پاک کے مطابق ہمارے اخلاق ہوں ہمارا تمدن ہماری تہذیب ہماری ہر چیز قرآن کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہو ،رمضان کے اخری عشرے کی قدر کریں۔
رمضان کے دو عشرے گزر چکے ہیں اور آخری عشرے کے بھی چند دن باقی ہیں جو دن باقی رہ گئے ہیں جو راتیں باقی رہ گئی ہیں وہ زیادہ قیمتی ہیں،عام طور پر لوگ رمضان کے شروع میں زیادہ پرجوش ہوتے ہیں، پھر اس کے بعد دھیرے دھیرے تنزل اور تساہلی شروع ہو جاتی ہے لوگ مسجد سے غائب ہونے لگتے ہیں مسجدوں کی صفیں کم ہونے لگتی ہیں حالانکہ جو جو وقت رمضان کا اگے بڑھتا ہے اتنا ہی زیادہ اہتمام اور بڑھنا چاہیے ،سب جانتے ہیں کہ اخری عشرہ رمضان کا دونوں عشروں کے مقابلے میں زیادہ اہم ہوتا ہے اس آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات شب قدر ہوتی ہے شب قدر کے بارے میں اللہ تعالی فرماتے ہیں ،انا انزلناه في ليله القدراب اس فکر میں راتوں کو جاگنا چاہیے آخری عشرے میں سونا کم کر دینا چاہیے اور قدرت ہو تو بالکل نہیں سونا چاہیے دن میں سو لینا چاہیے تاکہ رات ضائع نہ ہونے پائے تانکہ شب قدر نصیب ہو جائے خاص طور پر طاق راتوں کا اہتمام ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرے میں اعتکاف اسی لیے فرماتے تھے تاکہ شب قدر نصیب ہو جائے،عید کی نماز سے پہلے پہلے صدقہ فطر ادا کرنا واجب ہوتا ہے۔صدقہ فطر اس لیے ادا کیا جاتا ہے تاکہ جو ہمارے روزوں میں کمیاں ہو گئی ہیں ان کی تلافی ہو سکے، عید کی تیاری اپنی وسعت کے مطابق کریں ،،
جب عید الفطر کی رات ہو تو اس رات میں بھی کثرت سے عبادات کا اہتمام کرنا چاہیے اور اپنے کاروبار اور اپنی گھر کی ضروریات کو تھوڑا سا اگے پیچھے کر کے رات میں عبادت کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنا چاہیے اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالی نے اس رات میں بہت سے بندوں کو جہنم سے ازاد فرماتے ہیں اور یہ رات بخشش و رحمت اور عنایت کی رات ہے ،پھر عید کے دن اچھا لباس پہننا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اچھا لباس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی وسعت اور استطاعت کے مطابق جو لباس میسر ائے اسے پہن لیا جائے، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ قرض لے کر یا رشوت لے کر یا حرام آمدنی کے ذریعے اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا لباس تیار کیا جائے، اس لیے اگر کوئی اپنی آمدنی کے دائرے میں رہ کر عید کے لیے جو بھی تیاری کر سکتا ہے اس کی اس کو اجازت ہے، اور اللہ تعالی اس میں ہی برکت اور نور عطا فرمائیں گے ،کیونکہ حلال اگرچہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو اس میں برکت اور نور ہوتا ہے، لیکن حرام خوا کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو اس میں بے برکتی ہی رہتی ہے ،اور اس سے نحوست اتی ہے حرام کبھی مصیبتیں ساتھ لاتا ہے کبھی بیماریوں کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے ،جو مالدار حضرات ہیں انہیں چاہیے کہ اپنے بچوں کی خوشیوں کے ساتھ غریب اگر ہمارا پڑوسی ہے تو اس کے بچوں کی اور اس کی خوشیوں میں ہم اس کی مدد کریں، تاکہ وہ بھی ہمارے ساتھ اس عید کی خوشی میں شریک ہو سکیں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ، المسلم أخو المسلم ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ،اور جو اپنے لیے پسند کرو وہی اپنے بھائی کے لیے پسند کرو،ان باتوں کو گرہ میں باندھ لیں،ایک یہ کہ ہمیں روزانہ قرآن پاک کی تلاوت کا اہتمام کرنا ہے اگرچہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، جب تک قرآن کی تلاوت نہ کر لیں اس وقت تک ہم رات میں ہرگز نہ سوئیں،دوسری یہ کی ہمیں قرآن کی تلاوت کا طریقہ سیکھنا ہے اس کے لیے ہمیں وقت بھی دینا ہے اگر ضرورت پڑے تو کسی مسجد کے امام صاحب سے ٹیوشن بھی لینا پڑے تو ہم لیں ،تیسرا یہ ہے کہ قران پاک کا ترجمہ اور اس کی تفسیر ضرور دیکھنا ہے ،پھر اس کے بعد میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو پڑھنا ہے اور سمجھنا ہے، کیونکہ وہ قران کی تفسیر ہے اور قرآن کی ترجمانی ہے، اور قران کا بیان ہے ، اگر ہم نے ان تمام باتوں پر عمل کیا تو یقینا انشاءاللہ ہماری زندگی میں تبدیلی آئیے گی ،کسی شاعر نے بہت اچھی شعر کہی ہے ۔
الہی ہم کو بھی رمضان کا اگر فیض مل جائے
تو ممکن ہےہماری زندگی اب سے بدل جائے
