کتبہ ۔محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی

لیلۃ القدر کی صبح سورج اس طرح طلوع ہوگی کہ اس میں شعائیں نہیں ہوں گی ۔

اس رات کو مناسب موسم ہوگا نہ ٹھنڈ اور نہ گرم ۔ اور نہ ہی آندھی طوفان اور گرد وغبار والی ہوائیں چلے گی۔

جیساکہ ابن عباس کی حدیث جو طیالسی اور ابن خزیمہ سے منقول ہے ۔

اطمینان اور سکون کا سماں ہوگا ۔ بندہ مومن اطمینان قلب اور انشراح صدر کا احساس کرۓ گا ۔ اور عبادت میں دل لگے گی اور اس رات اسطرح اسے عبادت کرنے میں مزہ آے گا کہ کسی اور رات اسے یہ نصیب نہ ہوئی ہوگی یا کبھی وہ اسطرح سے پہلے عبادت نہ کیا ہوگا ۔

تنبیہ ۔

بعض عوام لیلہ القدر کے سلسلے میں بڑۓ ہی عجیب وغریب خیال رکھتے ہیں اور غلط عقائد رکھتے ہیں ۔

جیسے کہ ۔

لیلہ القدر کو عمرہ ادا کرنے کی کچھ الگ ہی خصوصیت ہے یاکچھ زیادہ ثواب ہے۔ عمرہ کی تخصیص لیلۃالقدر کے ساتھ کرنا بدعت ہے اور حرم میں ازدحام کرکے لوگوں کو مشقت اور حرج میں ڈالنا ہے پھر یہ کہ بعض ضعیف اس بھیڑ کو دیکھ کر عمرہ مکمل نہیں کر پاتے ہیں اور حلال ہو جاتے ہیں ۔

اسی طرح یہ خیال رکھنا کہ لیلہ القدر میں

درخت سجدہ کرے گا ،اور بلڈنگیں ومحلات نیند میں مستغرق ہوں گے ، اور یہ کہ نمک دار چیزیں میٹھی ہوجائی گی ۔ اور کتا وغیرہ بھوکنے اور چلانے سے رک جائیں گے ۔وغیرہ وغیرہ ۔ یہ سب چیزیں بالکل ہی غلط ہیں ۔

لیلۃ القدر حاصل کرسکتے ہیں  آخری عشرے میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرکے ،دعائیں کرکے ،تلاوت قرآن کرکے قیام اللیل کرکے ۔اور ایک ایک منٹ وسیکنڈ کو رب کی رضا کے خاظر خرچ کرکے ۔

واللہ اعلم ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے