ختم قرآن کے موقع پر حافظ فرقان خطاب کرتے ہوئے
بانگرمئو: (۲۲؍مارچ) : گزشتہ شب پرانی مسجد فتحپور ہمزہ میں تراویح میں قرآن پاک کا دورمکمل ہوا، جس میں حافظ عبداللہ وحافظ محمد اسامہ نے باہمی طورپر تراویح میں قرآن کریم سنایا۔ ختم قرآن کے موقع پر حافظ محمد فرقان مہتمم مدرسہ عربیہ مفتاح العلوم گنج مرادآباد نے خطاب کرتے ہوئے کہا نماز تراویح کی بیس رکعات سنت مؤکدہ ہیں، اور تراویح میں ایک مرتبہ پورا قران پاک پڑھنا یا سننا بھی سنت مؤکدہ ہے، یہ دونوں عمل علیحدہ علیحدہ دو سنتیں ہیں، اس لئے جولوگ سورتوں کے ساتھ نماز تراویح ادا کرتے ہیں ، اور پورا قرآن مجید تراویح میں پڑھتے یاسنتے نہیں، وہ تراویح کی سنت تو ادا کرتے ہیں؛ لیکن تراویح میں پورا قرآن مجید پڑھنے یاسننے کی سنت ان کے ذمّہ باقی رہتی ہے، اسی طرح جولوگ چند راتوں میں قرآن پاک پورا سن کر تراویح چھوڑ دیتے ہیں ان کے ذمّہ تراویح کی سنت باقی رہ تی ہے، یہاں سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید کے ختم ہو جانے کے بعد اکثر لوگ تراویح کے ادا کرنے میں جو سستی کرنے لگتے ہیں، یہ بھی ان کی غلطی ہے، ختم قرآن مجید کے بعد ابھی رمضان المبارک کی تمام راتوں میں عید الفطر کے چاند دیکھنے تک تراویح کاپڑھنا سنت ہے۔
قبل ازیں مفتی محمد جنیدقاسمی استاذ مدرسہ عربیہ مفتاح العلوم گنج مرادآباد نے خطاب کرتے ہوئے کہا قرآن مجید جو انسانی تربیت کی سب سے وسیع اور جامع کتاب ہے اور حدیث شریف جو قرآن مجید ہی کی تشریح وتوسیع ہے، مستقل تر بیت گاہ کی حیثیت رکھتی ہے، اس لئے گھر کا ماحول ہو یا مدرسہ کا یا معاشرہ کے کسی دیگر تر بیتی وسیلہ کا لڑ کے اور بڑوں دونوں کے لئے یہ بہت مفید اور ضروری ہے کہ اس کا ربط اس وسیع اور جامع ذریعۂ تر بیت سے قائم کردیا جائے تو زندگی بھر خودبخود تر بیت حاصل کرنے کا سلسلہ قائم ہو جاتا ہے، اور یہ بھی گھر کی تربیت کی بنیاد ی ذمہ داری ہے ، اس کی اساس بھی وہیں قائم کی جانا چاہئے۔اس موقع پر حافظ محمد نعمان ،محمد زبیر، محمد غفران، حافظ محمد قاسم، حافظ محمد حسان، حافظ ابوذر، حافظ عبدالرحمن، حافظ شفقت، ماسٹر شرافت، عبدالقیوم، محمد معراج سمیت کثیرتعدادمیں مصلیان موجودتھے۔ حافظ فرقان کی دعائن پر مجلس کا اختتام ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے