آج سے ہفتہ بھر ملک گیر مہم کا اعلان

بیدر۔ 19؍اپریل (محمدیوسف رحیم بیدری): پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل کی منظوری پر ویلفیر پارٹی آف انڈیا کرناٹک کے ریاستی صدر اڈوکیٹ طاہر حُسین نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس کو غیر دستوری و غیر قانونی کہا ہے۔اُنہوں نے پارٹی دفتر پر منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کو منظور کرنا ،اقلیتوں کو آئین میں دی گئی مذہبی آزادی میں کھلی مداخلت ہے۔اس غیر آئینی ترمیم کے خلاف ویلفیرپارٹی آف انڈیا (مرکز) نے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔اس کے تحت 20؍اپریل2025 تا 27اپریل 2025تک  "وقف بچاوٗ تحریک”کے عنوان سے ریاست میں مہم چلائی جائے گی۔اس مہم کے تحت ریاست بھر میں مختلف پروگرام منعقد کئے جائیں گے جن میں پریس کانفرنس،پوسٹر،مذاکرے،احتجاجی مظاہرے،دھرنے،ستیہ گرہ،پیدل مارچ،دستخطی مہم ،پمفلٹ کی تقسیم جیسے کئی پروگرام شامل ہیں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ وقف کی یہ ترمیم آئینی ڈھا نچے کے خلاف ہے،ہندوستان کے دستور کی دفعہ 14کے مطابق یہ امتازی رویہ ہے کیونکہ یہ صرف مسلمانوں کی اوقاف پر اثر انداز ہوتی ہے۔اسی طرح دفعہ25اور28کے تحت یہ مسلمانوں کے مذہبی اُمور کو چلانے کے حق میں مداخلت ہے۔دستور کی دفعہ30کے تحت بھی یہ مسلمانوں کے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کا انتظام و انصرام کرنے کے حق کی بھی خلاف ورزی ہے۔یہ قانون وقف جائیدادوں کے اصل مقصد کو تبدیل کرنے کی اجازت دیتا ہے جو کہ وقف کے اسلامی تصورِ مستقل نذرانہ کے منافی ہے۔اس ترمیم کا اصل مقصد حکومت کا کنٹرول بڑھانا اور وقف اداروں کی خود مختاری کو کمزور کرنا ہے۔وقف ایکٹ1995کے سیکشن3(ر)میں ترمیم کے تحت وقف قائم کرنے کے لئے پانچ سال تک اسلام پر عمل پیرا ہونے کی شرط کا شامل کرنا نہایت عجیب اور غیر منطقی ہے۔اس سے یہ سوال پیدا  ہو تا ہے کہ کسی شخص کو مسلمان قرار دینے کا اختیار کس کو حاصل ہے؟ وقف ایکٹ2025کی شق غیر آئینی ہے اور پارلیمنٹ کے اختیارات سے بھی تجاوز کرتی ہے۔لہٰذا یہ قانون کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔جب تک حکومت اس قانون کو واپس نہیں لیتی ہماری جد و جہد جاری رہے گی۔یہ مسئلہ صرف ایک قوم یا طبقے کا نہیں بلکہ آئین کے خلاف ایک خطرناک قدم ہے جس کے خلاف ریاست کے تمام شہریوں کو آواز بلند کرنی چاہیے۔مرکزی حکومت کا یہ قدم دراصل نفرت پر مبنی ہے۔ اس حساس مسئلہ پر نفرت کو ہوا دینا نہایت نا مناسب ہے۔ مرکز کو سنجیدگی اور بردباری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ہندو مذہبی ٹرسٹ اور وقف بورڈ ریاستی دائرہء اختیار میں آتے ہیں،مرکزی حکومت ریاستوں کے حقوق پر قبضہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔اُنہوں نے عوام الناس سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویلفیر پارٹی آف انڈیا کی اس ملک گیر مہم کا بھر پور تعاون کریں۔اس بات کی اطلاع جناب رضوان تاج، میڈیا انچارج نے آج 19؍اپریل کودی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے