اصغر علی امام مہدی

حج اسلام کا پانچواں رکن ہے۔ یہ تمام عبادات کا جامع اور ساری دنیا کے مسلمانوں کے لیے اجتماع و لقا کا ذریعہ ہے۔ایک مومن صادق اللہ تعالیٰ کے نام پر گھر بار چھوڑ کراورمال و جان لے کر اللہ کے گھر، بیت اللہ،خانہ کعبہ کی زیارت کے لیے نکل کھڑا ہوتا ہے، جوروئے زمین پر اللہ تعالی کا سب سے پہلا گھر ہے اور سارے مسلمانوں کا قبلہ و کعبہ ہے،حرم ہے اور اس کے ارد گرد دیگر مقامات و شعائر ہیں جن کی تعظیم فرض ہے۔ ابراہیم و اسماعیل علیہم السلام جیسے اوالعزم انبیاء کی یادگار اور ان کی دعائوں کا ثمرہ حج و زیارت مسلمین ہے اور خیرات و برکات کی سر زمین ہے۔ ہر مسلمان اور بہترے انسانوں کے دلوں کی دھڑکن ہے، لوگوں کے دل اس کی طرف کھنچے چلے جارہے ہیں،پائوں کشاں کشاں اس کی طرف اٹھتے چلے آتے ہیں، جسم اس کی طرف لپکتا ہوا چل پڑتا ہے اور دلوں میں اس کی عظمت و محبت کے دریا موجزن ہوتے ہیں اور سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مارنے لگتے ہیں۔ اللہ جل جلالہ وعم نوالہ نے اپنے خزانے میں سے اس نعمت کو بھی لوگوں کو عطا کردیا ہے اور اس کو فرض کردیا ہے کہ جو بھی وہاں تک پہنچنے کی طاقت و وسعت رکھتاہے وہ اس سعادت سے ضرور بہرہ ور ہو، اسے ا للہ تعالیٰ سے قربت و محبت کا ذریعہ بنائے، ایمان کی کسوٹی پر پورا اتر جائے اور فریضہ حج کی ادائیگی سے سبک دوش ہوکر معصوم و نومولود بچے کی طرح گناہوں اور خطائوں سے پاک اور مبرا ہوجائے۔
حج کی فرضیت:
حج اسلام کے ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے اور اس کے وجوب کے دلائل کتاب و سنت اور اجماع میں موجود ہیں۔
 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’وَلِلَّہِ عَلَی النّاسِ حِجُّ البَیتِ مَنِ استَطاعَ إِلَیہِ سَبیلًا وَمَن کَفَرَ فَإِنَّ اللَّہَ غَنِیٌّ عَنِ العٰلَمینَ… سورۃ آل عمران؍97)
 اللہ نے ان لوگوں پر جو اس کی طرف راہ پاسکتے ہوں اس گھر کا حج فرض کر دیا ہے اور جو کوئی کفر کرے تو اللہ(اس سے بلکہ) تمام دنیا سے بے پرواہ ہے۔
اس آیت کریمہ میں کلمہ (عَلَی) سے حج کی فرضیت واضح ہوتی ہے نیز  آیت کے آخری کلمات(وَمَن کَفَرَ فَإِنَّ اللَّہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعَالَمِینَ)میں تارک حج کو کافر قراردیا گیا ہے۔ اس سے بھی حج کی فرضیت اور اس کی تاکید خوب واضح ہوتی ہے۔ بنابریں جو شخص حج کی فرضیت کا عقیدہ نہیں رکھتا وہ بالا جماع کافر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل ابراہیم علیہ السلام کو فرمایا:
’’وَاَذِّن فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ‘‘(سورۃ الحج؍22)
 اور لوگوں میں حج کی منادی کر دے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’بُنِیَ الإِسْلامُ عَلَی خَمْسٍ شَہَادَۃِ اَنْ لا إِلَہَ إِلا اللَّہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ وَإِقَامِ الصَّلاۃِ وَإِیتَائِ الزَّکَاۃِ وَالْحَجِّ وَصَوْمِ رَمَضَانَ‘‘
 اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی شہادت کہ اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔‘‘(صحیح بخاری؍8، صحیح مسلم؍16)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
’’خَطَبَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ’’ا?َیُّہَا النَّاسُ قَدْ فَرَضَ اللہُ عَلَیْکُمُ الْحَجَّ، فَحُجُّوا‘‘۔
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: ’’لوگو! تم پر حج فرض کیا گیا ہے لہٰذا حج کرو۔‘‘(صحیح مسلم؍1337)
اسی طرح صاحب استطاعت پر عمر میں ایک بار حج کی وجوبیت پرامت کا اجماع ہے۔(ملاحظہ ہو: المغنی لابن قدامہ5؍6، التمہید لابن عبدالبر21؍52، مراتب الاجماع لابن حزم،ص:75)
امام ابن منذر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’واجمعوا علی ان علی المرء فی عمرہ حجۃ واحدۃ: حجۃ الإسلام إلا ان ینذر نذراً فیجب علیہ الوفاء بہ‘‘
علمائے امت کا اجماع ہے کہ انسان پر زندگی میں ایک بار اسلامی حج واجب ہے، الایہ کہ کوئی شخص نذر مان لے تو اس کی تکمیل ضروری ہوگی۔(الاجماع لابن المنذر،ص:61)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’وقد اجمع المسلمون فی الجملۃ علی ان الحجَّ فرضٌ لازمٌ‘‘
مسلمانوں کا اس امر پر اجماع ہے کہ حج فرض اور لازم ہے۔(شرح العمدۃ1؍87)
حج کے فضائل:
 قرآن و حدیث میں حج و عمرہ کے بہت سے فضائل وارد ہیں۔حج کو اسلام کا ایک رکن بتایا گیا ہے اور صاحب استطاعت کے لئے حج کو زندگی میں ایک بار واجب قرار دیا گیا، کتاب و سنت میں حج کے بہتیرے فضائل وارد ہوئے ہیں،جن میں سے کچھ پیش خدمت ہیں:
٭حج مبرور کا بدلہ جنت ہے:
 ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’الْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَیْسَ لَہُ جَزَائٌ إِلَّا الْجَنَّۃُ‘‘
 حج مبرور کا جنت کے سوا کوئی دوسرا بدلہ نہیں ہے۔(صحیح بخاری:1773،مسلم:1349)
حج مبرور سے مراد وہ حج ہے جس میں اللہ کی نافرمانی نہ کی گئی ہواور اس کی نشانی یہ ہے کہ حج کے بعد حاجی نیکی کے کام زیادہ کرنے لگ جائے اور دوبارہ گناہوں کی طرف نہ لوٹے۔
٭حج گناہوں کو مٹا دیتا ہے:
 عمروبن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالی نے میرے دل میں اسلام کی محبت ڈال دی تو میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا: آپ اپنا ہاتھ آگے بڑھائیں تاکہ میں آپ کی بیعت کروںتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک آگے بڑھایا لیکن میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمرو! تمہیں کیا ہوگیا ہے؟میں نے کہا: میں ایک شرط لگانا چاہتا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کون سی شرط؟میں نیکہا: میری شرط یہ ہے کہ اللہ تعالی میرے سابقہ گناہ معاف کردے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اَمَا عَلِمْتَ اَنَّ الْإِسْلَامَ یَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہُ وَاَنَّ الْہِجْرَۃَ تَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہَا وَاَنَّ الْحَجَّ یَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہُ‘‘
 عمرو! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اسلام ان تمام گناہوں کو ساقط کر دیتا ہے جو اس سے پہلے کے تھے؟ او رہجرت ان تمام گناہوں کوساقط کر دیتی ہے جو اس (ہجرت) سے پہلے کیے گئے تھے اور حج ان سب گناہوں کو ساقط کر دیتا ہے جو اس سے پہلے کے تھے۔ (مسلم:121)
 جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 ’’ادیموا الحج و العمرۃ فإنہما ینفیان الفقر و الذنوب کما تنفی الکیر خبث الحدید‘‘
 یعنی حج اور عمرہ برابر کرتے رہا کرو کیونکہ یہ دونوں فقر و فاقہ کو ختم کرتے ہیں اور گناہوں کو مٹاتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے کے خراب حصے کو الگ کردیتی ہے۔(الطبرانی و الدارقطنی و صححہ الالبانی فی الصحیحہ: 1185)۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’تَابِعُوا بَیْنَ الحَجِّ وَالعُمْرَۃِ، فَإِنَّہُمَا یَنْفِیَانِ الفَقْرَ وَالذُّنُوبَ کَمَا یَنْفِی الکِیرُ خَبَثَ الحَدِیدِ، وَالذَّہَبِ، وَالفِضَّۃِ، وَلَیْسَ لِلْحَجَّۃِ المَبْرُورَۃِ ثَوَابٌ إِلَّا الجَنَّۃُ‘‘
حج اور عمرہ ایک کے بعد دوسرے کو ادا کرو اس لیے کہ یہ دونوں فقر اور گناہوں کو اس طرح مٹا دیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کے میل کو مٹا دیتی ہے اور حج مبرور کا بدلہ صرف جنت ہے۔(سنن ترمذی؍810، سنن نسائی؍2631، شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔)
٭ ایمان اور جہاد کے بعد سب سے افضل عمل حج ہے:
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا:’’إیمان باللہ و رسولہ‘‘ یعنی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ پوچھا گیا پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جہاد فی سبیلہ‘‘
 یعنی اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ پوچھا گیا پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’حج مبرور‘‘ (صحیح بخاری:1519،صحیح مسلم:83)
٭حج سب سے افضل جہاد ہے:
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا: اے اللہ کے رسول! ہم یہ سمجھتی ہیں کہ جہاد کرنا سب سے افضل عمل ہے تو کیا ہم جہاد نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 ’’لکن افضل الجہاد حج مبرور‘‘
 افضل ترین جہاد حج مبرور ہے۔ (صحیح بخاری:1520)
اسی روایت کے دوسرے الفاظ میں ہے کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر بھی جہاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں، لیکن ان پر ایسا جہاد ہے جس میں لڑائی نہیں ہے اور وہ حج اور عمرہ ہے‘‘۔(سنن ابن ماجہ؍2901، شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔)
٭عمر رسیدہ، کمزور اور عورت کا جہاد حج و عمرہ ہے:
 ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جہاد الکبیر و الضعیف و المراۃ: الحج و العمرۃ‘‘
 یعنی عمررسیدہ، کمزور اور عورت کا جہاد حج اور عمرہ ہے۔ (سنن نسائی؍2626، شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔)
حجاج کرام اللہ کے مہمان ہوتے ہیں اور ان کی دعا قبول ہوتی ہے:
 عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’الْغَازِی فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَالْحَاجُّ وَالْمُعْتَمِرُ وَفْدُ اللَّہِ دَعَاہُمْ فَاَجَابُوہُ وَسَاَلُوہُ فَاَعْطَاہُمْ‘‘
یعنی اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، حج کرنے والا اور عمرہ کرنے والا اللہ تعالیٰ کا مہمان ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بلایا تو انہوں نے حاضری دی، اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے مانگا تو اس نے انہیں عطا کیا۔ (سنن ابن ماجہ؍2893، شیخ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’وَفْدُ اللَّہِ ثَلَاثَۃٌ الْغَازِی وَالْحَاجُّ وَالْمُعْتَمِرُ‘‘
 تین شخص اللہ تعالیٰ کے خصوصی مہمان ہیں: جہاد کو جانے والا، حج کے لیے سفر کرنے والا اور عمرے کو جانے والا۔(سنن نسائی؍2625، شیخ البانی نے صحیح نسائی میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔)
٭حج کے دوران موت آجائے تو انسان سیدھا جنت میں چلا جاتا ہے:
 ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’من خرج حاجا فمات، کتب لہ اجر الحج إلی یوم القیامۃ، و من خرج معتمرا فمات، کتب لہ اجر المعتمر إلی یوم القیامۃ….‘‘
جو حج کے لئے نکلا اور وفات پاگیا تو اس کے لئے قیامت تک حج کا ثواب لکھا جائے گا اور جو عمرہ کے لئے نکلا اور وفات پاگیا تو قیامت تک اس کے حق میں عمرہ کرنے والے کا ثواب لکھا جائے گا….۔ (رواہ ابو یعلی-صحیح الترغیب والترہیب:1114).
 عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ایک آدمی، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات میں وقوف کیا اسے اچانک اس کی اونٹنی نے نیچے گرادیا جس سے اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیاتو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اغسلوہ بماء و سدر، و کفنوہ بثوبیہ، و لا تخمروا رأسہ،و لا تحنطوہ، فإنہ یبعث یوم القیامۃ ملبیا‘‘
 پانی اور بیری کے پتوں سے اسے غسل دو اوراحرام ہی کے دو کپڑوں کا کفن دو لیکن خوشبو نہ لگانا نہ اس کا سر چھپانا کیوں کہ اللہ تعالیٰ قیامت میں اسے لبیک کہتے ہوئے اٹھائے گا۔(صحیح بخاری:1849،1850،صحیح مسلم:1206)
مذکورہ سطور سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حج اسلام کا پانچواں رکن ہے جو ہر صاحب استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے۔حج میں جہاں بدنی مشقت ہوتی ہے وہاں انسان خطیررقم صرف کرکے مکہ مکرمہ پہنچتا ہے اور مناسک حج ادا کرتا ہے۔بلاشبہ حج بدنی اور مالی عبادتوں کا مجموعہ عبادت ہے۔ اگر کوئی شخص اس فریضہ کو کماحقہ ادا کرلیتا ہے اور اس کی ادائیگی کے درمیان فسق و فجور، بدعات و خرافات اور منہیات و محرمات کا ارتکاب نہیں کرتا ہے تو وہ گناہوں سے پاک صاف ہوجاتا ہے، بلکہ وہ اپنے اخلاص و للہیت کی بناء پر جنت کا مستحق قرار پاتا ہے۔اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اگر اللہ جل جلالہ و عم نوالہ نے ہمیں اس اہم فریضہ کی ادائیگی کا موقع فراہم کیا ہے تو ہم ریا و نمود سے بچتے ہوئے حج کا مقدس فریضہ انجام دیں، حج کے فضائل کو مستحضر رکھیں اور اس اہم فریضہ کی ادائیگی کی توفیق پر اللہ جل جلالہ کا شکریہ ادا کریں اور کتاب و سنت میں بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق مناسک حج کو  پورا کریں، حج کے درمیان یا حج کی ادائیگی کے بعد غیرمسنون، غیر متعلقہ امور بلکہ بسااوقات فضول خرچی پر مبنی امور کی انجام دہی سے بچیں تاکہ ہمارا حج ’’حج مبرور‘‘ ہوسکے اور ہم اللہ تعالیٰ کی بشارت کے سزاوار و مستحق قرار پاسکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے