مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ
بیت المال امارت شرعیہ کے سابق انچارج، مالیات کے معاملے میں اکابر امارت کے معتمد خاص، ترپن سال امارت شرعیہ کے خدمات گار، امانت ودیانت میں بے مثال، نصف صدی سے زائد کی تاریخ کے امین اور راوی جناب مرزا حسین بیگ نے چوراسی (84)سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہا، تاریخ 17/رمضان المبارک1446ھ کی شب، مطابق18/مارچ 2025ء کی تھی، عارضہ قلب کا تھا، حرکت قلب بند ہوئی اور اس دنیا کا سفر تمام ہوگیا، جنازہ کی پہلی نماز ان کے محلہ میں ہوئی اور مسجد کے امام نے جنازہ کی نماز پڑھائی، دوسری نماز جنازہ امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی نے مرکزی دفتر امارت شرعیہ کے احاطہ میں پڑھائی، جس میں امارت شرعیہ کے ذمہ داران وکارکنان کے ساتھ بڑی تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کی، تدفین حاجی حرمین قبرستان نیاٹولہ، پھلواری شریف، پٹنہ میں ہوئی، پس ماندگان میں اہلیہ، چار لڑکے اور ایک لڑکی کو چھوڑا، چاروں لڑکے برسر روزگار ہیں، دو لڑکے کویت اور سعودی عرب میں مقیم ہیں، ایک صاحب زادہ ہمدرد یونیورسٹی دہلی میں لکچرر اور ایک دہلی میں ہی تجارت سے وابستہ ہیں، لڑکی شادی شدہ خوش حال زندگی گذار رہی ہے۔
مرزا حسین بیگ بن مرزا شُرحبیل بیگ (م:2000ء) بن مرزا شمس الحق بیگ (م:1948ء) کی ولادت 1940ء میں گَرّی، جالے، ضلع دربھنگہ میں ہوئی، دادا نے رسم بسم اللہ ادا کرائی، مرزا مجید بیگ سے قاعدہ بغدادی اور اردو کی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جو گیارہ مڈل اسکول میں داخلہ لیا، ساتویں کلاس تک کی تعلیم یہاں حاصل کرنے کے بعد کمتول ہائی اسکول سے میٹرک کیا، 1962ء میں ملت کالج دربھنگہ سے اکنومکس (معاشیات) لے کر بی اے کیا، ملت کالج اس زمانہ میں بہار یونیورسٹی مظفرپور کا ایک کالج تھا، مختلف جگہوں پر ملازمت کے لیے انٹرویو دیا، مگر کامیابی نہیں ملی، نو (9) ماہ مدرسہ امدادیہ لہریا سرائے، دربھنگہ میں دفتری ملازمت کی، امیر شریعت رابع مولانا سید شاہ منت اللہ رحمانیؒ اس وقت وہاں کے صدر تھے، برادری کی بنیاد پر تحریک چلی اور حضرت امیر شریعت وہاں سے سبکدوش ہوگیے، مولانا کی سبکدوشی کے بعد مرزا حسین بیگ کو بھی نوٹس ہوئی کہ کمرہ خالی کردیں، چنانچہ مرزا صاحب نے بھی استعفا دے دیا، 1971ء میں حضرت امیر شریعت رابعؒ کے خط کی بنیاد پر جو ان کے ننیا سسر مرزا محمد بیگ لے کر دفتر پہونچے تھے، حضرت مولانا سید نظام الدینؒ کے دور نظامت میں ایک سو بیس روپیے خشک پر ان کی بحالی بیت المال کے لیے عمل میں آئی، اس زمانہ میں سراج صاحب بیت المال کے انچارج تھے، ان کے انتقال کے بعد 1981ء میں مرزا صاحب کو تین ماہ کے لیے عارضی طورپر انچارج بنایا گیا، یکم اپریل 2003ء میں وہ بیت المال کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کردیے گیے، ضعف اور پیرانہ سالی کی وجہ سے کام کرنا ان کے لیے مشکل تھا اور وہ سبکدوشی کی عمر سے بہت آگے بڑھ گیے تھے، مرزا صاحب کہا کرتے تھے، تین ماہ کی عارضی تقرری میں پچاس سال نکل گیے، استقلال ضابطہ میں میرا کبھی نہیں ہوا۔
1962ء میں مرزا صاحب رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے، ان کے سسر گَرّی ہی کے مرزا عبدالرؤف بیگ بن مرزا صفی الرحمن بیگ تھے، پہلے نکاح ہوا، اس کے کئی سال کے بعد رخصتی عمل میں آئی، امارت شرعیہ آنے کے بعد وہ اپنی اہلیہ کو پھلواری شریف لے آئے اور سرور صاحب کے مکان میں کرایہ پر قیام پذیر ہوگیے، وہ اپنی بحالی کا واقعہ سناتے تھے تو یہ بات ضرور کہتے کہ اس زمانہ میں ڈاڑھی ٹوپی اور کرتا پائجامہ ہی یہاں کے کارکنوں کا لباس ہوتا تھا، چنانچہ انہیں بھی اس کی ہدایت مولانا سید نظام الدینؒ نے دی اور اس دن جو انہوں نے پینٹ شرٹ اتارا تو پوری زندگی ہاتھ نہیں لگایا، چہرے پر ڈاڑھی اور سر پر ٹوپی بھی پوری زندگی باقی رکھا، وہ یہ بات بھی مزے لے کر سناتے تھے کہ جب پھلواری آیا تو اہلیہ نے ایک بوتل کڑوا تیل لانے کے لیے دیا، تنخواہ کم تھی، اس لیے میں نے ان سے کہا کہ اب بوتل نہیں، شیشی دو، تھوڑا تھوڑا کرکے سب سامان لانا ہوگا، مرزا صاحب اپنی ذاتی زندگی میں نرم دل، نیک، باوقار انسان تھے، لیکن بیت المال کے حساب وکتاب میں سخت گیر واقع ہوئے تھے، جب وہ بیت المال کی کرسی پر بیٹھ جاتے اور آپ حساب لے کر جاتے تو معلوم نہیں ہوتا کہ یہ وہی شخص ہے جو کمرے کے باہر خوش گپی میں مشغول تھا، سخت گیری کا یہ معاملہ کارکنوں کے ساتھ ہی نہیں، اپنے ساتھ بھی تھا، بھول چوک انسانی فطرت ہے، لیکن دانستہ طورپر ان کی ایمانداری، دیانت داری ضرب المثل تھی، دورۂ وفد سے لوٹنے کے بعد وہ، رومال، بیگ وغیرہ بھی جمع کروا لیتے تھے، جس میں رکھ کر علاقہ کے لوگوں نے بیت المال کو رقم دی تھی، کسی نے آنا کانی کیا تو پھر اس کی خیر نہیں ہوتی، ایک موقع سے ان سے ایک رقم کے اندراج میں بھول ہوگئی ، صاحب معاملہ نے اس بھول کو ثابت کردیا، اس واقعہ کا ان کے اوپر اس قدر اثر ہوا کہ دفتر میں ہی ان کو ہارٹ اٹیک آگیا، اسپتال لے جایا گیا، تب ان کی صحت بحال ہوئی، بے ایمان لوگ تو لاکھوں ڈکار جاتے ہیں اور ان کی صحت پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔
مرزا صاحب نے اپنے اخلاق وکردار کے گہرے اور تابندہ نقوش لوگوں پر چھوڑے، انہوں نے پوری زندگی صادق وامین ہوکر بیت المال کی حفاظت کا فریضہ انجام دیا، تمام امرائے شریعت کے ساتھ سمع وطاعت کے جذبے سے کام کیا، ان کی خصوصیات میں حق گوئی وبے باکی بھی تھی، پوری زندگی نیکی، شرافت، نماز کی حد درجہ پابندی کے ساتھ گذار دی، وہ امارت شرعیہ کی ترپن سالہ تاریخ کے مشاہد اور بہت ساری وہ باتیں جو تاریخ کا حصہ کے امین تھے، ان کا سینہ ان واقعات وحوادثات کا گنجینہ تھا، سنانے پر آتے تو گھنٹوں سناتے۔
سبکدوشی کے بعد جب بھی امارت شرعیہ آتے تو کچھ وقت میری آفس میں ضرور گذارتے اور پرانی یادوں کو تازہ کرتے، وہ ان دنوں کی یادگار تھے، جب امارت شرعیہ میں محدود عملہ کو شہریہ دینے کے لیے روپے پورے نہیں ہوتے تھے اور کاموں میں اس قدر پھیلاؤ اور وسعت نہیں تھی، بیت المال کے تحفظ کے لیے حضرت مولانا سید نظام الدینؒ نے جو طریقہ اختیار کیا تھا، اسے مرزا صاحب حرف بحرف عمل میں لاتے تھے، شفافیت بھی برقرار ہی اور دھیرے دھیرے بیت المال کو استحکام بھی نصیب ہوتا گیا، واقعہ یہ ہے کہ امارت شرعیہ کے لیے ان کی ذات بڑی غنیمت اور قیمتی تھی، اللہ رب العزت مرزا صاحب کی مغفرت فرمائے، ان کے سیأت کو درگذر فرمائے اور اعلیٰ علین میں جگہ دے۔آمین یارب العٰلمین وصلی الہ علی النبی الکریم وعلی اٰلہ وصحبہ اجمعین۔
